شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱)گود لیے بچے کے بارے میں شرعی احکام۔ (۲)میڈیکل انشورنس۔ (۳)قرض اور زکوٰۃ کی ادائیگی۔
EPAPER
Updated: April 03, 2026, 4:41 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai
شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱)گود لیے بچے کے بارے میں شرعی احکام۔ (۲)میڈیکل انشورنس۔ (۳)قرض اور زکوٰۃ کی ادائیگی۔
شادی کے بعد ایک عرصہ تک زید کے یہاں کو ئی اولاد نہ ہونے کی وجہ سے اس نے اپنے ایک بھتیجے کو گود لے لیا تھا۔ پھر اس کی تعلیم و تربیت اور پرورش سگی اولاد کی طرح کی۔ اسی دوران خود اس کے یہاں بھی ایک بچے کی ولادت ہوگئی مگر زید نے ارادہ تبدیل نہیں کیا، دونوں کی پرورش کرتا رہا اور یہ وصیت بھی کی کہ دونوں بچوں کے درمیان جائیداد کی تقسیم برابر ہو۔ سوال یہ کہ کیا لے پالک شرعاً وارث ہوتاہے؟ اگر نہیں ہوتا تو اس کے حق میں وصیت کا کیا حکم ہے اور اگربرابری کی وصیت ہے تو اس کا کس حد تک اعتبار ہو گا نیز لے پالک جو سگا بھتیجا بھی ہے اگر اسے وراثت یا وصیت کی بنا پر زید کے ترکہ سے کچھ ملتا ہے تو کیا حقیقی والدین کی وراثت میں بھی یہ حصہ دار ہوگا؟ علی اکبر، ممبئی
باسمہ تعالیٰ ھوالموفق: شریعت اسلامیہ کی رو سے لے پالک کی حیثیت حقیقی اولاد کی نہیں ہو تی۔ تعلیم و تربیت اور پرورش و نگہداشت کی حد تک کو ئی مضائقہ نہیں لیکن کسی کے گود لینے سے نہ نسب تبدیل ہوگا نہ احکام وراثت میں تبدیلی ہوگی لہٰذا لے پالک کی ولدیت کے خانے میں گود لینے والے کا نام نہ لکھا جائےگا بلکہ اس کے حقیقی والدین ہی کا نام درج کیا جائےگا اور یہ شرعی وارث بھی نہ ہوگا ۔البتہ وہ شخص زندگی میں بطور ھبہ کچھ دےدے تو تکمیل ھبہ کی صورت میں جو دیا ہے اس کا یہ مالک ہوگا۔ اس کے حق میں وصیت بھی معتبر ہوگی لیکن وصیت ایک تہائی کی حد تک ہی معتبر ہوگی چنانچہ اگر نصف مال کی وصیت کی جائے تب بھی ایک تہائی سے زیادہ کا استحقاق نہ ہوگا، البتہ جو شرعی وارث ہیں اگر وہ سب عاقل بالغ ہوں اور بخوشی اس وصیت کے نافذ کرنے پر رضامند ہوں تو جو وصیت ہے وہ اس صورت میں نافذ العمل ہوگی۔ لے پالک کو یہاں سے کچھ ملے یا نہ ملے ہر صورت میں وہ اپنے والدین کا شرعی وارث ہو گا، گود لینے والے سے کچھ ملنے پر والدین کی وراثت سے اس کا حق ساقط نہیں ہوگا۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: اعتکاف اور شوال کے روزوں کی قضا کا حکم
میڈیکل انشورنس
کیا میڈیکل انشورنس یا ہیلتھ انشورنس کرانا جائز ہے اور میڈیکل انشورنس کا پیسہ لے سکتے ہیں؟ چونکہ آج کل اسپتالوں میں علاج بہت مہنگا ہوگیا ہے اس لئے عام آدمی کوبڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ براہ کرم شریعت اسلامیہ کی روشنی میں اس کا حل بتائیے۔
محمد ساجد ،ممبئی
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: میڈیکل انشورنس کی جو صورت رائج ہے اس کی نوعیت یہ ہے کہ انشورنس لینے والا بیمار ہوا تو کمپنی علاج کرائیگی خرچ چاہے اس کی جمع شدہ رقم سے زیادہ ہو اور اگر بیمار نہ ہوا تو جمع کردہ رقم واپس نہ ملے گی۔ اس طرح اس پر سود اور قمار دونوں کی تعریف صادق آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علماء نے اسے عام طور سے صحیح نہیں سمجھا، تاہم اس کی ابتداء سمندری جہاز کے مالکان کے ذریعہ ہوئی تھی۔ اس کی نوعیت بحری قزاقی اور جہاز کی غرقابی وغیرہ صورتوں میں باہمی تعاون کی تھی۔ انہوں نے اس غرض سے جو انتظام تجویز کیا تھا وہ ممبران تک محدود تھا مگر بعد میں سودی کاروبار کرنے والوں نے صحت اور بیماری کے انشورنس کی جو صورتیں نکالیں ان میں تعاون کے بجائے سود خوری غالب نظرآنے لگی۔ آج کل نئی نئی بیماریاں بھی وجود پزیر ہیں اور علاج بھی مہنگا اور خالص کمر شیل ہوچکا ہے اس لئے علماء مستقل حل کی تلاش میں ہیں۔ اس لئے جہاں ایسی کوئی صورت سامنے آجائے جس میں سود وقمار کے بجائے تعاون غالب ہو اس کی اجازت دیتے ہیں مثلاً سرکاری اسکیمیں جن کا مقصد ہی عوام کا تعاون ہو۔ کوئی شخص کسی کمپنی یا ادارے کا ملازم ہے، وہ ملازم یا اس کے اہل خانہ کے لئے علاج کا نظم کرے، وغیرہ۔ انشورنس کمپنیاں جو خالص کمر شیل اور نفع خوری کی اسکیموں کے ساتھ میدان میں مصروف عمل ہیں، عام آدمی امراض کے خوف اور علاج کے مہنگے ہونے کی وجہ سے ان اسکیموں میں حصہ لینے پر خود کو مجبور سمجھتا ہے۔ اس سلسلے میں یہ واضح رہے کہ جو لوگ متمول اور صاحب حیثیت ہیں وہ اپنا اور اپنے متعلقین کا علاج اللہ کی دی ہوئی دولت سے بآسانی کرانے پر قادر ہیں۔ اس قسم کے لوگوں کے لئے اس سودی نظام سے دور رہنے میں عافیت ہے، اصولی طور پر انہیں اس میں شمولیت کی اجازت نہ ہونی چاہئے۔ البتہ جو لوگ علاج کی خود استطاعت نہیں رکھتے ان کےلئے گنجائش ہو سکتی ہے تاہم اس میں بھی احتیاط لازم ہے کہ جہاں تک ممکن ہو کوشش کی جائے کہ سودی اسکیموں سے دور ہی رہیں، ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ عوامی ادارے اور قومی تنظیمیں باہمی تعاون کی اسکیموں کے فروغ کی کوشش کریں ۔واللہ اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: رمضان میں ایک سے زیادہ مرتبہ بھی مکمل قرآن ختم کیا جا سکتا ہے
قرض اور زکوٰۃ کی ادائیگی
زید کے ذمے خالد کا قرض ہے۔ اب عمرو زید سے یہ کہتا ہے کہ اگر تم خالد کو قرض ادا کرو تو میں تمہیں زکوٰۃ دوں۔ گویا زکوٰۃ دینے میں یہ شرط لگاتا ہے کہ تم اس زکوٰۃ سے خالد کا قرضہ ادا کر دو تب میں تمہیں زکوٰۃ دوں گا ورنہ زکوٰۃ نہیں دوں گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح شرط کے ساتھ زکوٰۃ ادا ہو جائے گی ؟ عبد اللہ، ممبئی
باسمہ تعالیٰ ۔ھوالموفق: قرآن کریم میں زکوٰۃ کے جن مصارف کا ذکر آیا ہے ان میں قرضدار بھی شامل ہیں لہٰذا ادائیگی قرض کیلئے مقروض کو زکوٰۃ کی رقم دے دی جائے یہ بھی صحیح ہےاور اس کی اجازت سے براہ راست قرض خواہ کا قرض ادا کردیا جائے یہ بھی صحیح ہے ۔ مقروض سے یہ کہنے میں بھی کوئی حرج نہیں کہ تم کو یہ رقم دی جارہی ہے تاکہ اپنا قرض ادا کردو۔ لہٰذا صورت مسئولہ میں جبکہ زید خالد کا مقروض ہے اور عمرو چاہتاہے کہ قرض ادا ہوجائے اس لئے اگر وہ زید سے یہ کہتا ہے کہ اگر تم خالد کا قرض ادا کردو تو میں تمہیں زکوٰۃ دوں گا، اس میں شرعا ًکوئی حرج نہیں ۔یہ کہتے وقت اگر وہ زکوٰۃ نہ کہتے ہوئے صرف یہ کہے کہ تم کو رقم دوںگا مگر نیت زکوٰۃکی ہو، اس طرح کہنے سے بھی اس کی زکوٰۃ اداہوجائےگی لیکن یہ واضح رہے کہ یہ کہہ کر دینے کی صورت میں زيد کو اختیار ہوگا کہ چاہے تو مالک ہونے کے بعد فورا قرض ادا کردے یا کسی دوسری ضرورت میں صرف کرکے بعد میں قرض ادا کرے۔ یہ شرط زید کو پابند نہیں بناتی۔
اس لئے بہتر صورت یہ ہے کہ عمرو زید سے اجازت حاصل کرلے کہ تم اجازت دو تو میں زکوٰۃ کی رقم سے تمہارے وکیل کی حیثیت سے خالد کا قرض ادا کردوں پھر اگر وہ اس پر رضامند ہو تو براہ راست خالد کو قرض کی ادائیگی کردے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم