Inquilab Logo Happiest Places to Work

عہدِ اضطراب، بحرانِ شعور اور فکر ِ اسلامی کی بازیافت

Updated: April 03, 2026, 4:48 PM IST | Mohammed Kafeel Qasmi | Mumbai

نسل ِ نو کے سامنے دین کو جامد بیانیہ کے بطور نہیں، ایسے اسلوب میں پیش کیا جائے جو نفسیاتی طور پر بھی مؤثر اور قابلِ فہم ہو۔

Islam lays the foundation for a balanced lifestyle where this world and the hereafter, reason and passion, and the individual and society are connected in a harmonious balance. Photo: INN
اسلام ایک ایسے متوازن طرزِ حیات کی بنیاد رکھتا ہے جہاں دنیا و آخرت، عقل و جذبہ اور فرد و معاشرہ ایک مربوط توازن میں جڑے ہوتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

عصرحاضر کی برق رفتار دنیا میں انسان کی داخلی کیفیت ایک ایسے خاموش طوفان کی صورت اختیار کر چکی ہے جس کی شورش بظاہر سنائی نہیں دیتی، مگر اس کے  ارتعاشات باطن ِ انسانی کو مسلسل مضطرب رکھتے ہیں۔ بالخصوص نسل ِ نو، جو ایک طرف امکانات کے وسیع اور دلکش افق سے ہمکنار ہے تو دوسری جانب اضطراب، بے یقینی اور شناختی بحران کی گہری کھائی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ یہ نسل  ایسے نفسیاتی دباؤ میں مبتلا ہے جسے نہ تو محض معاشی آسودگی کم کر سکتی ہے اور نہ ہی وقتی تفریحات اسے زائل کر سکتی ہیں۔ ترقی، مسابقت اور خود کو ثابت کرنے کی بے مہار دوڑ نے انسانی ذہن کو ایک مستقل تناؤ میں مبتلا کر دیا ہے، جہاں کامیابی سکون بخش نہیں اور ناکامی وجودی بحران کو جنم دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دلوں کو تسخیر کرتی ہے حسنِ اخلاق کی خاموش قوت

یہ مسئلہ محض خارجی حالات کا نہیں بلکہ اس فکری سانچے کا ہے جس میں انسان اپنی ذات، کائنات اور مقصد ِ حیات کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسلامی تعلیمات کو محض چند رسمی عبادات یا موروثی روایات کے بجائے ان کی اصل روح، حقیقی معنویت اور فکری وسعت کے ساتھ دیکھا جائے تو وہ انسانی نفسیات کے نہایت دقیق مسائل کا نہ صرف ادراک عطا کرتی ہیں بلکہ ان کیلئے ایک متوازن، مربوط اور پائیدار حل بھی پیش کرتی ہیں۔
جدید نفسیات نے، خصوصاً بیسویں صدی کے اواخر اور اکیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں، انسانی ذہن کے پیچیدہ گوشوں کو سمجھنے میں قابلِ قدر پیش رفت کی ہے۔ ڈپریشن، اینزائٹی، Self-worthکے بحران اور مقصد ِ حیات کی گمشدگی جیسے مسائل اب انفرادی سطح سے نکل کر اجتماعی بحران کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ مختلف عالمی رپورٹس اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ نوجوان طبقہ اس نفسیاتی دباؤ کا سب سے بڑا شکار ہے، جہاں سوشل میڈیا کی مصنوعی چمک، تقابلی زندگی اورمسلسل تائید و پسندیدگی (Validation)  کی خواہش نے ذہنی سکون چھین لیا ہے۔ اس پس منظر میں نسلِ نو کا یہ استفسار اہم ہو جاتا  ہے کہ آیا مذہب محض روحانی تسلی کا ذریعہ ہے یا وہ انسانی ذہن کی اِن پیچیدگیوں کیلئے کوئی سنجیدہ اور قابلِ عمل فریم ورک بھی فراہم کرتا ہے؟
اسلام کا امتیاز یہی ہے کہ وہ انسان کو محض جسم یا ذہن کی سطح پر نہیں دیکھتا بلکہ اسے ایک ہمہ جہت اکائی تصور کرتا ہے، جہاں روح، عقل، نفس اور جسم ایک دوسرے سے مربوط اور ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس تصورِ انسان میں کسی ایک جہت کی بے اعتدالی پورے وجود میں عدمِ توازن پیدا کر دیتی ہے۔ چنانچہ اسلامی تعلیمات میں  اعتدال محض ایک اخلاقی قدر نہیں بلکہ ایک وجودی اصول  کی حیثیت رکھتا ہے، جو انسانی زندگی کے فکری، نفسیاتی، روحانی اور سماجی پہلوؤں کو محیط ہے۔ قرآنِ مجید میں صبر اور توکل کو جس تسلسل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، وہ دراصل انسانی نفسیات کی گہری تفہیم کا مظہر ہے۔ صبر کو اگر اس کی اصل معنویت میں دیکھا جائے تو یہ محض مصیبت پر خاموشی اختیار کرنے کا نام نہیں بلکہ ایک فعال نفسیاتی صلاحیت ہے، جو انسان کو جذباتی انتشار کے بجائے شعوری استقامت عطا کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: قرآن کی بیان کردہ حقیقت: انسان سب سے زیادہ دھوکہ اپنے آپ کو دیتا ہے

نتیجتاً انسان حالات کے جبر سے ٹوٹنے کے بجائے ان کا ادراک کر کے متوازن ردِ عمل کے قابل ہوتا ہے۔ اسی طرح توکل، جسے عموماً تقدیر پر غیر فعال انحصار سمجھ لیا جاتا ہے، درحقیقت انسانی کوشش اور الٰہی اعتماد کے درمیان ایک نہایت دقیق توازن کا نام ہے۔ جدید نفسیات میں Acceptance اور Letting go  جیسے تصورات جس اہمیت کے ساتھ زیرِ بحث آ رہے ہیں، اسلام نے انہیں صدیوں پہلے ایک مربوط روحانی اصول کے طور پر پیش کیا تھا، جہاں انسان اپنی حتی الامکان کوشش کے بعد نتائج کو ایک اعلیٰ تر حکمت کے سپرد کر کے ذہنی بوجھ کو کم کر لیتا ہے۔
اسلامی عبادات کا نظام اس تناظر میں رسمی اعمال کا مجموعہ نہیں ہے۔ وہ ایک ہمہ گیر نفسیاتی تربیت گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ پنج وقتہ نماز انسان کو دنیاوی ہنگاموں سے نکال کر ایک ماورائی مرکز سے جوڑتی ہے جو دراصل ایک مسلسل شعوری یکسوئی کی مشق ہے۔ اس میں خشوع و خضوع کے ساتھ اپنی محدودیت اور خدا کی مطلق قدرت کا  اعتراف، انسان کے اندر سے اضطراب، احساسِ برتری اور بے چینی کو کم کرتا ہے۔ روزہ، جو خواہشات کو قابو میں رکھنے کی عملی تربیت فراہم کرتا ہے، Self regulationکی وہ صلاحیت پیدا کرتا ہے جسے جدید نفسیات انسانی کامیابی اور ذہنی استحکام کی بنیادی شرط قرار دیتی ہے۔ اسی طرح زکوٰۃ اور صدقات کا نظام، جہاں انسان اپنے مال کا ایک حصہ دوسروں کے لئے وقف کرتا ہے، نہ صرف معاشرتی توازن کو فروغ دیتا ہے بلکہ دینے والے کے اندر ایک مثبت داخلی کیفیت، مقصدیت اور نفسیاتی طمانیت کو بھی جنم دیتا ہے۔ 
تاہم، اس منظرنامے میں ایک بنیادی خلاء وہ ہے جو دینی تعلیمات کی پیشکش اور فہم کے انداز میں پایا جاتا ہے۔ نئی نسل کے سامنے دین اکثر ایک ایسے جامد بیانیے کے طور پر آتا ہے جو ان کے عصری سوالات، ذہنی الجھنوں اور نفسیاتی کیفیات سے  اُنہیں ہم آہنگ کرتا نظر نہیں آ تا۔ نتیجتاً وہ یا تو اس سے فاصلے پر چلے جاتے ہیں یا پھر ایسے متبادل فکری و نفسیاتی نظاموں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں جو بظاہر کشش رکھتے ہیں مگر داخلی سطح پر پائیدار سکون فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ اس صورتِ حال کا تقاضا یہ ہے کہ دینی بیانیے کو اس کے اصل مصادر کے ساتھ ایک ایسے اسلوب میں پیش کیا جائے جو نہ صرف علمی طور پر مضبوط ہو بلکہ نفسیاتی طور پر بھی مؤثر اور قابلِ فہم ہو۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ مذہب کی بعض سطحی یا غیر متوازن تعبیرات خود ذہنی دباؤ کا سبب بن جاتی ہیں۔ جب دین کو صرف خوف، گناہ اور سزا کے تناظر میں پیش کیا جاتا ہے تو وہ انسان کے اندر احساسِ جرم اور Self Rejection  میں مزید اضافہ کر دیتا ہے،جبکہ قرآن کا عمومی اسلوب امید، رحمت اور امکانِ رجوع پر مبنی ہے۔ رحمت کو ایک مرکزی صفت کے طور پر پیش کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ انسانی کمزوریوں کے باوجود اس کے لئے اصلاح اور واپسی کا راستہ ہمیشہ موجود ہے۔ یہی تصور انسان کو مایوسی کی تاریکی سے نکال کر امید کی ایک متوازن کیفیت میں لے آتا ہے، جو کسی بھی نفسیاتی بحالی کیلئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آج ہم جن پریشانیوں میں مبتلا ہیں، وہ ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے!

عصرِ حاضر میں جہاں نفسیاتی علاج کے جدید طریقے تیزی سے فروغ پا رہے ہیں، وہیں Spiritualityکو بھی ذہنی صحت کے ایک اہم جزو کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ دینِ اسلام اس حوالے سے ایک جامع اور مربوط فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ تاہم اس کے مؤثر اطلاق کیلئے ضروری ہے کہ دینی قیادت خود بھی معاصر نفسیاتی مباحث سے آگاہ ہو اور نوجوانوں کے ساتھ ایسے  دروس، مجالس اور مکالمے کا آغاز کرے جو محض یک طرفہ تلقین کے بجائے افہام و تفہیم، سوال و جواب اور اعتماد پر مبنی ہو۔ اسلامی تعلیمات کو ایک زندہ، متحرک اور عصری شعور سے ہم آہنگ نظام کے طور پر پیش کرنا محض ایک دینی تقاضا نہیں بلکہ ایک سماجی اور انسانی ضرورت بھی ہے۔ 
 دین اسلام نہ تو انسان کو دنیا سے کنارہ کشی کی دعوت دیتا ہے اور نہ ہی اسے مادی دوڑ کا  شتر بے مہاربننے دیتا ہے۔ اسلام ایک ایسے متوازن طرزِ حیات کی بنیاد رکھتا ہے جہاں دنیا  و  آخرت، عقل و جذبہ اور فرد و معاشرہ ایک مربوط توازن میں جڑے ہوتے ہیں۔ یہی توازن درحقیقت ذہنی سکون، داخلی استحکام اور حقیقی فلاح کی اساس ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK