قابل ذکر ہے کہ ہندوستان عالمی اے آئی چوٹی کانفرنس کی میزبانی کررہا ہے جو پیر کو شروع ہوئی اور پانچ دن جاری رہے گی۔ آج اس کا تیسرا دن ہے۔
یہ قابل ذکر ہے کہ ہندوستان عالمی اے آئی چوٹی کانفرنس کی میزبانی کررہا ہے جو پیر کو شروع ہوئی اور پانچ دن جاری رہے گی۔ آج اس کا تیسرا دن ہے۔ یہ، اے آئی میں اپنی شراکت کو منظم کرنے اور اس میں فعالیت کے عزم کے ساتھ اپنی شمولیت کو یقینی بنانے کی جانب اہم قدم ہے۔ اس کالم میں کل بھی ہم نے اس کانفرنس کو موضوع بنایا تھا۔ اے آئی کا سفر، توقعات سے بڑھ کر اور خدشات کے باوجود تیز رفتاری سے جاری ہے۔ آپ اس سے خوش ہوں یا ناخوش رہیں ، اس میں اتنی بڑی طاقتیں اپنا بہت کچھ جھونک چکی ہیں کہ اس کا چند قدم پیچھے آنا تو دور کی بات ہے، یہ جہاں تک پہنچی ہے وہاں ٹھہر جائے یہ بھی ممکن نہیں رہ گیا ہے۔
تمام بڑی طاقتیں اس میں اپنا معاشی فائدہ بھی دیکھ رہی ہیں ۔ معاشی نقطہ نظر سے، اے آئی کی گلوبل مارکیٹ کی مجموعی قدر ۲۰۲۵ء میں ۲۴۴؍ تا ۳۹۰ ؍ ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ رواں سال کے اواخر تک اس کا مارکیٹ سائز ۳۱۲؍ سے ۵۳۹؍ ارب ڈالر ہوجائیگا جبکہ ۳۴۔۲۰۳۰ء میں اس مارکیٹ کی مجموعی مالیت ۸۰۰؍ بلین سے ایک کھرب ڈالر ہونا تقریباً طے ہے۔ فی الحال مائیکروسافٹ، نوئدا، گوگل، انٹیل اور آئی بی ایم جیسی کمپنیاں بھاری سرمایہ کاری کرچکی ہیں ۔
جن ملکوں نے اس شعبے میں سب سے زیادہ سرمایہ لگایا اُن میں امریکہ اور چین کے بعد برطانیہ، کنیڈا، اسرائیل اور جرمنی کا نمبر آتا ہے۔ ہندوستان کا نمبر ساتواں ہے جو کم و بیش ۱۱ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرچکا ہے۔ اے آئی اِمپیکٹ سمٹ ( چوٹی کانفرنس) کی میزبانی میں تو ہم نے دیگر ملکوں پر سبقت حاصل کرلی ہے مگر جن ملکوں کا بالائی سطور میں تذکرہ کیا گیا ہے ان کے مقابلے میں ابھی ہمیں کافی آگے جانا ہے۔آگے جانے کا عزم تو دکھائی دیتا ہے جس کا ثبوت یہ کانفرنس ہے مگر عزم، عمل کے بغیر ہو تو لڑکھڑانے لگتا ہے۔
کانفرنس کے پہلے دن نیتی آیوگ کے سابق سی ای او امیتابھ کانت نےاس اہم نکتے کی جانب توجہ دلائی کہ اے آئی کے میدان میں ہندوستان کو تیسرے نمبر پر ہونا چاہئے، اسے مصنوعی ذہانت کے اپنے سسٹم بنانا چاہئے تاکہ غیر ملکی ٹو‘لس مثلاً چیٹ جی پی ٹی پر ہمارا انحصار نہ رہے۔ اس عزم کی داد دی جاسکتی ہے مگر عمل؟ اب تک ہم عزم ہی کے مرحلہ میں کیوں ہیں اور عمل کے مرحلے سے گزر کر اے آئی کے دیسی سسٹم کیوں نہیں بنا سکے؟ یہ کام ہمارے لئے مشکل نہیں ہونا چاہئے کیونکہ جتنے بھی سسٹم ہیں سب کو ڈیٹا کی ضرورت ہوتی ہے اور ہندوستان ڈیٹا کے معاملے میں کافی ثروتمند ہے۔ امیتابھ کانت ہی کے بقول ’’ہمارے پاس امریکہ سے زیادہ ڈیٹا ہے‘‘ مگر ہم امریکہ کی سرمایہ کاری اور اس کی نتیجہ خیز سرگرمیوں کے پاسنگ برابر بھی نہیں ہیں ۔ یہی بات چین کے سلسلے میں کہی جاسکتی ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ ہمیں چوٹی کانفرنس کے انعقاد اور اس کی کامیابی پر رشک سے آگے بڑھ کر اے آئی میں تیز رفتار تحقیق اور پیش رفت کو یقینی بنانا ہوگا۔
کانفرنس کے نام میں لفظ ’’اِمپیکٹ‘‘ اہم ہے۔ اگر ہمارا عمل اس لفظ کے مفہوم (گہرا یا نمایاں اثر) کی کسوٹی پر پورا اُترے تو کوئی بات ہے، ورنہ کانفرنس پر صرف کی جانے والی توانائی اور پیسہ ضائع ہوکر رہ جائے گا۔ فی الحال یہ کانفرنس تاریخی کہلانے کی مستحق ہے مگر کیا تاریخی ثابت بھی ہوگی یہ وقت بتائے گا یا ہمارا عمل۔