اسی کے ساتھ یہ بھی کہا جارہا تھا کہ۳؍ماہ تک سی ایس ایم ٹی اورگوریگاؤں کے درمیان ٹرینیں بند رہیں گی، انتظامیہ نے کہا کہ اب تک کوئی فیصلہ نہیںکیاگیاہے ، مسافر پریشان نہ ہوں۔
ممبئی کی لوکل ٹرین۔ تصویر:آئی این این
باندرہ میںہاربر لائن پر پرانے ریلوے بریج کوتوڑنے اور ۳؍ماہ تک سی ایس ایم ٹی اورگوریگاؤں کے درمیا ن ہاربرلائن خدمات بند رکھے جانے کی خبروں سے مسافر پریشان ہیں۔ انہیں یہ اندیشہ ہے کہ جن مسافروں نے ۳؍ماہ یا۶؍ماہ یا سال بھر کا پاس بنوا لیا ہے ، وہ ضائع ہوجائے گا۔ کچھ مسافروں سے نمائندۂ انقلاب نے بات چیت کی تو انہوں نےاسی طرح کے اندیشے کا اظہار کیا۔ ایسے مسافروں میں منصور عمر درویش اور دیگر مسافر شامل ہیں۔ مگرحقیقت میں ایسا نہیں ہے، ابھی اس تعلق سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے، اس لئے مسافروں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔اس طرح کی خبروں کو ویسٹرن ریلوے انتظامیہ نے افواہ قرار دیا۔ یہ بھی بتایا گیاکہ ابھی منصوبہ بندی کی جارہی ہے کہ کام کیسے کیا جائے، اس لئے مسافر ابھی سے پریشان نہ ہوں، نہ تو ان کا پاس خراب ہوگااور نہ ہی ٹکٹ، بلکہ منصوبہ بندی کے بعد مسافروں کے لئے متبادل سفر کا نظم کیا جائے گا اور جب بھی کام شروع کیا جائے گا ،انہیں پیشگی اطلاع دی جائے گی۔
ویسٹرن ریلو ےکے چیف پی آر او ونیت ابھیشیک سے نمائندۂ انقلاب کے استفسار کرنے پر ان کا کہنا تھاکہ ’’ دراصل ماہم اور سانتاکروز کے درمیان پانچویں لا ئن کی تعمیر کا مسئلہ ہے ۔ اسے حل کرنے کے لئے ریلوے کی جانب سے یہ سوچا جارہا ہے کہ باندرہ میں ہاربرلائن کا بریج ،جو پرانا بھی ہوگیا ہے، اسے توڑ کر نیا بریج تعمیرکرنے کے وقت کچھ کھسکا دیا جائے، اس سے پانچویں لائن کے لئے کچھ جگہ خالی مل جائے گی کیونکہ باندرہ اورماہم کے درمیان ریلوے کی زمینوں پر ناجائز قبضے ہیں، ایسے میںوہاں نئی لائن بچھانا مشکل ہورہا ہے۔اس لئے اب اس طرح حل نکالنے کے لئے سوچا جارہا ہے مگرابھی کچھ بھی طے نہیںکیا گیا ہے ، محض منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔‘‘
چیف پی آر او نےمثال دیتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ’’ تین ماہ ،۶؍ماہ یا ایک سال بعد جب بھی بریج توڑا جائے تواولاً سی ایس ایم ٹی سے باندرہ تک ہاربرلائن کی ٹرینیں معمول کے مطابق چلائی جائیں گی ، اس سے آگے کا سفر مسافر مین لائنوں کی ٹرینوں میں کرسکیں گے۔ دوسرےاس کی خاطرخواہ تشہیر کی جائے گی اور مسافروں کوپیشگی اطلاع دی جائے گی۔ اس لئے مسافروں کوابھی سے پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے، سفر کے تئیں متبادل نظم کیا جائے گاپھر کام شروع کیا جائےگا۔‘‘