ماضی کے مقابلے حال میں یوم ِ خواتین نہایت جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس دن خواتین کو بااختیار بنانے کا عزم ہی نہیں کیا جاتا، اُن کے حقوق کے تعلق سے بیداری کی ضرورت پر بھی زور دیا جاتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان سرگرمیوں میں مردوں سے زیادہ خود خواتین پیش پیش رہتی ہیں جبکہ مردوں کو زیادہ فعال ہونا چاہئے۔
ماضی کے مقابلے حال میں یوم ِ خواتین نہایت جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس دن خواتین کو بااختیار بنانے کا عزم ہی نہیں کیا جاتا، اُن کے حقوق کے تعلق سے بیداری کی ضرورت پر بھی زور دیا جاتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان سرگرمیوں میں مردوں سے زیادہ خود خواتین پیش پیش رہتی ہیں جبکہ مردوں کو زیادہ فعال ہونا چاہئے۔ عام بیداری کیلئے خواتین کی کوششوں سے خوشگوار تبدیلیوں کی اُمید کی جانی چاہئے۔ کامیاب خواتین، جنہوں نے شاندار کریئر بنایا، جب اپنا تعارف خود پیش کرتی ہیں اور اپنے کارہائے نمایاں کا تذکرہ کرتی ہیں تو گویا وہ کہہ رہی ہوتی ہیں کہ جب مَیں ایسا کرسکتی ہوں اور اتنی کامیاب ہوسکتی ہوں تو میرے بعد آنے والی لڑکیاں کیوں نہیں ۔ اس طرح وہ بعد کی نسل پر گہرا اثر ڈالتی ہیں اور اُن میں بھی کچھ کر دکھانے اور کچھ بننے کا حوصلہ پیدا کرتی ہیں ۔
مگر، اب تک کی تفصیل یہی ظاہر کرتی ہے کہ والدین لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت تو دیتے ہیں ، کریئر بنانے کے معاملے میں پس و پیش کرتے ہوئے یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ جہاں شادی ہوگی وہاں طے کرنا کہ کریئر بنانا چاہئے یا نہیں ۔ جہاں شادی ہوتی ہے وہاں اکثر یہی سننے کو ملتا ہے کہ خدا کا دیا سب کچھ ہے پھر باہر جاکر کام کرنے کی ضرورت کیا ہے۔ ایسا کہنے والے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ کریئر کا واحد مقصد تنخواہ نہیں ہوتا۔ کریئر اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کیلئے ہوتا ہے، جو علم حاصل کیا اس کا فیض قوم و ملت تک پہنچانے کیلئے ہوتا ہے، خود اعتمادی میں اضافہ کیلئے ہوتا ہے اور بااثر نیز بااختیار بننے کیلئے ہوتا ہے۔ کام کو ملازمت کی عینک سے دیکھنا کسی بھی زاویئے سے درست نہیں ۔
اب ذرا قوم کی تعلیمی صورت حال پر نگاہ ڈالئے۔ اسکولوں اور کالجوں سے ہر سال کامیابی حاصل کرنے والوں میں لڑکیاں ہی آگے ہیں ۔ لڑکے ہیں مگر کم بلکہ بہت کم۔ لڑکیاں نہایت سنجیدگی سے تعلیم حاصل کرتی ہیں اور اپنی صلاحیتوں کا جوہر دکھاتی ہیں ۔ اُن کے پاس کریئر سازی کا بہترین موقع ہوتا ہے۔ جن بچیوں کو اجازت ملی اُنہوں نے خود کو منوا یا۔ اجازت والدین سے لینی ہو یا سسرالی عزیزوں سے، یہ آج بھی ٹیڑھی کھیر ہے۔ اسی وجہ سے یہ ستم ظریفی دیکھنے کو ملتی ہے کہ لڑکیاں پڑھتی ہیں اور کریئر بناسکتی ہیں مگر اُنہیں اجازت نہیں ملتی جبکہ لڑکوں کی اکثریت نہ پڑھتی ہے نہ کریئر بنانا چاہتی ہے۔ اس کا خمیازہ قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔ کریئر بنا کر ہماری نئی نسل جہاں جہاں پہنچ سکتی تھی نہیں پہنچی اور خود کو با اثر ملت میں تبدیل کرنے کا خواب پورا نہیں ہوا کیونکہ جن میں شاندار کریئر بنانے کی اہلیت اور صلاحیت تھی اُنہیں اجازت نہیں دی گئی اور جنہیں بڑی آسانی سے کریئر سازی کی اجازت مل سکتی تھی وہ کسی نہ کسی سطح پر پچھڑ گئے، اُنہوں نے تعلیم کو درمیان ہی میں خیرباد کہہ دیا اور موبائل کی دکان کھول لینے، والد کے کاروبار کا حصہ بن جانے، کال سینٹر کو گوشہ ٔ عافیت مان لینے اور خود روزگار کے دیگر چھوٹے موٹے شعبوں کو بہترین پناہ گاہ تصور کرلینے پر اکتفا کیا۔ آزادی سے قبل اور بعد میں دانشوروں نے تعلیم نسواں پر زور دیا تھا مگر اکیسویں صدی کے دانشورانِ ملت پر لازم ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم ہی کو موضوع نہ بنائیں ، کریئر کی اہمیت بھی واضح کریں ۔ بچیوں کی اچھے گھروں میں شادی تو ترجیح ہو مگر اُن کا اچھا کریئر بھی ترجیحات میں شامل ہو۔