اگر ایک لڑکی ڈاکٹر، استاد، سائنسدان یا محقق بننے کا خواب دیکھتی ہے تو اس کے خاندان اور معاشرے کو چاہئے کہ اس کی تعلیم میں رکاوٹ نہ ڈالیں بلکہ عملی مدد فراہم کریں۔
EPAPER
Updated: March 09, 2026, 3:40 PM IST | Juweriya Qazi | Mumbai
اگر ایک لڑکی ڈاکٹر، استاد، سائنسدان یا محقق بننے کا خواب دیکھتی ہے تو اس کے خاندان اور معاشرے کو چاہئے کہ اس کی تعلیم میں رکاوٹ نہ ڈالیں بلکہ عملی مدد فراہم کریں۔
یوم ِ خواتین صرف خراجِ تحسین نہیں بلکہ احتساب اور عہدِ نو کا دن بھی ہے۔ خواتین آبادی کا نصف حصہ ہیں لہٰذا اگر انہیں تعلیم، صحت اور معاش کے مواقع میسر نہ ہوں تو قومی ترقی ادھوری رہتی ہے۔ انیسویں صدی میں ساوتری بائی پھلے نے پہلا لڑکیوں کا اسکول قائم کیا تھا۔ شدید سماجی مزاحمت کے باوجود یہ اقدام ایک تعلیمی انقلاب کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا۔ بعدازاں خواتین کی شرح خواندگی میں اضافہ اسی بیج کا ثمر تھا۔ اسی طرح علی گڑھ میں شیخ عبداللہ اور وحید جہاں بیگم کی کاوشوں نے خواتین کی تعلیمی بیداری کو نئی سمت دی۔ ایس این ڈی ٹی ویمنس یونیورسٹی برصغیر کی اولین جامعات میں سے ہے جس نے اعلیٰ تعلیم تک خواتین کی رسائی کو ممکن بنایا۔ یوں ایک نسل کی تعلیم اگلی نسل کی کامیابی کی ضمانت بنتی ہے۔ پھر بھی سماجی تعصبات، کم عمری کی شادی اور وسائل کی عدم مساوات بڑی رکاوٹیں ہیں۔ تاہم، قانون سازی، وظائف، محفوظ تعلیمی نظام اور ڈجیٹل رسائی جیسے اقدامات، امکانات کو وسیع کرتے ہیں۔ تاریخ اور تعلیم دونوں اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ خواتین کو با اختیار بنانا، معاشرے کو با وقار بنانا ہے جب علم اور اختیار مساوی ہو تو ہم ایک روشن، منصفانہ اور پائیدار مستقبل حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: یاسمین اویس ٹیچروں کو ٹریننگ دینے کے ساتھ ساتھ روزہ بھی رکھتی ہیں
یوم ِ خواتین محض ایک رسمی تہوار نہیں بلکہ عورت کے وجود، اس کے خوابوں، جدوجہد اور کامیابیوں کا اعتراف ہے۔ جملہ ’’اس کے خوابوں کا احترام کریں، اس کے سفر کی حمایت کریں‘‘ ایک فکری اور ادبی تعبیر رکھتا ہے جو سماجی انصاف، مساوات اور انسانی وقار کی علامت ہے۔ ادب ہمیشہ سے مظلوم آوازوں کا ترجمان رہا ہے، اور خواتین کی کہانیاں، شاعری، خودنوشت اور افسانے اسی جدوجہد کی عکاسی کرتے ہیں جہاں خوابوں کو پہچان ملتی ہے اور سفر کو سمت۔ ادب میں خواب صرف تصور نہیں بلکہ امید، شناخت اور آزادی کی علامت ہوتے ہیں۔ خواتین کے تناظر میں خواب اکثر اپنی پہچان قائم کرنے، تعلیم حاصل کرنے، پیشہ ورانہ ترقی کرنے اور خود مختار زندگی گزارنے سے جڑے ہوتے ہیں۔
تعلیم عورت کے لئے سب سے طاقتور وسیلہ ہے جو اس کے خوابوں کو مضبوط اور اس کے سفر کو روشن بناتا ہے۔ جب عورت تعلیم یافتہ ہوتی ہے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بھی سنوارتی ہے۔ اسی طرح اظہارِ رائے، تخلیقی سرگرمی اور علمی تحقیق اسے فکری آزادی فراہم کرتی ہیں۔ سوشل میڈیا، ادب، تحقیق اور فنونِ لطیفہ کے ذریعے خواتین اپنی کہانی خود بیان کر رہی ہیں۔ یہ خود بیانیہ ہی اصل اختیار ہے۔ ایک اخلاقی ذمہ داری اور سماجی عہد ہے۔ یومِ خواتین ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی مساوات صرف نعروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے قائم ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان کا آخری عشرہ خواتین کیلئے بھی بے حد اہم
جب خوابوں کو قدر ملتی ہے اور سفر کو سہارا ملتا ہے تو عورت مضبوط ہوتی ہے اور جب عورت مضبوط ہوتی ہے تو معاشرہ ترقی کرتا ہے۔ اگر ایک لڑکی ڈاکٹر، استاد، سائنسداں یا محقق بننے کا خواب دیکھتی ہے تو اس کے خاندان اور معاشرے کو چاہئے کہ اس کی تعلیم میں رکاوٹ نہ ڈالیں بلکہ عملی مدد فراہم کریں۔ اسکالرشپ، رہنمائی اور حوصلہ افزائی اس کے سفر کو مضبوط بناتی ہے۔ ایک عورت کاروبار شروع کرنا چاہتی ہے یا ملازمت کے ذریعے معاشی خودمختاری حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اس کے خواب کا احترام تب ہوگا جب اسے برابر مواقع، مناسب ماحول اور مالی وسائل تک رسائی دی جائے۔ اگر کوئی خاتون ادیبہ، شاعرہ، فنکارہ یا محقق بننا چاہتی ہے تو اسے اظہار کی آزادی اور پلیٹ فارم فراہم کرنا ضروری ہے۔ اس کی تخلیقی صلاحیتوں کو سراہنا اس کے سفر کی عملی حمایت ہے۔ بہت سی خواتین گھر اور کریئر دونوں کو سنبھالنے کی خواہش رکھتی ہیں۔ اگر خاندان ذمہ داریوں میں تعاون کرے اور فیصلہ سازی میں شمولیت دے تو وہ اپنے خوابوں کو آسانی سے پورا کرسکتی ہیں۔ بلاشبہ قیادت کے مواقع میں برابری اس کے سفر کو مضبوط بناتی ہے۔ برابری کا موقع دیا جائے تو ہر عورت اپنے خوابوں کی تکمیل اور اپنے سفر کی تکریم کے ساتھ آگے بڑھ سکتی ہے۔بے شمار عورتیں ہیں جو جو زمین پر آسمان رکھتی ہیں:
وہ عورت ہے/ مگر صرف نام کی نہیں/ وہ وقت کی پیشانی پر لکھی ہوئی/ ایک ضد ہے/ وہ مٹی کو چھوئے/ تو اس میں لہجہ اگ آتا ہے/ وہ ہوا سے گزرے/ تو موسم اپنا مفہوم بدل لیتے ہیں/ اس کے قدموں کی چاپ میں/ صدیوں کی ہجرتیں سوئی ہیں/ اس کی ہتھیلی پر/ ایک پورا گھر سانس لیتا ہے/ وہ درد کو چوڑیوں کی طرح پہنتی ہے/ اور مسکراہٹ کو/ آنکھوں کے کونے میں چھپا لیتی ہے/ کبھی وہ دریا ہے/ اپنی راہ خود بناتی ہوئی/ کبھی پہاڑ/ خاموش مگر قائم/ اس کی خاموشی/ کوئی کمزوری نہیں/ وہ تو ایک سمندر ہے/ جس میں طوفان بھی/ ادب سے اترتے ہیں/ وہ جب دعا کرتی ہے/ تو تقدیریں نرم ہو جاتی ہیں/ اور جب فیصلہ کرتی ہے/ تو راستے خود کو سیدھا کر لیتے ہیں/ وہ عورت ہے/ زمین پر رکھا ہوا/ ایک چلتا پھرتا آسمان!