Inquilab Logo Happiest Places to Work

بہار میں سیاسی فضا کی تبدیلی کے امکانات روشن؟

Updated: September 04, 2025, 3:43 PM IST | Dr. Mushtaq Ahmed | Mumbai

راہل گاندھی کی ’ووٹر ادھیکار یاترا‘‘ نے نہ صرف ریاست بہار میں ایک نئی سیاسی صف بندی کا آغاز کردیا ہے بلکہ قومی سطح پر بھی انڈیا اتحاد کو مستحکم کرنے کا قابلِ تحسین کارنامہ انجام دیا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

ریاست بہار میں محض پندرہ دنوں میں جس طرح اپوزیشن اتحاد کیلئے فضا سازگار ہوئی ہے اور زمینی سطح پر مستحکم ہوئی ہے شاید اس کا اندازہ خود انڈیا اتحاد کو بھی نہیں تھا اور این ڈی اے کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ راہل گاندھی کی قیادت میں ’’ووٹر ادھیکار یاترا‘‘ اس قدر کامیاب ہوگی اور ایک عوامی تحریک میں تبدیل ہو جائے گی۔ واضح رہے کہ راہل گاندھی اور تیجسوی یادو کے ساتھ بھاکپا مالے کے دیپانکر بھٹا چاریہ ودیگر اتحادی لیڈروں نے بہار کے سہسرام سے ۱۷؍ اگست ۲۰۲۵ء سے یہ یاترا شروع کی تھی ۔ بہار کی راجدھانی پٹنہ میں یکم ستمبر کو اس یاترا کا اختتام ہوا اور اس میں جو تاریخی عوامی سیلاب سڑکوں پر اترا اس نے تو بر سر اقتدار جماعت کے ہوش ہی اڑا دئیے اور راہل گاندھی کا یہ اعلان ’’اب ایٹم بم کے بعد ہائیڈروجن بم پھوڑا جائے گا‘‘سے ایک نئی تحریک کا بھی آغاز ہو چکا ہے۔
 بہر کیف!راہل گاندھی کے ساتھ دیگر انڈیا اتحاد کے لیڈران مثلاً سماجوادی پارٹی کے لیڈر اکھلیش یادو، بایاں محاذ اتحاد کے لیڈر دیپانکر بھٹا چاریہ ، تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ اسٹالین اور کانگریسی ریاستوں کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ ساتھ کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ، ممبران اسمبلی اوربالخصوص پرینکا گاندھی اور پارٹی کے صدر کھرگے کی شمولیت نے اس عوامی تحریک کو واقعی تاریخی مقام عطا کیا۔اب تک ترنمول کانگریس اس سے الگ تھی لیکن پٹنہ کے اختتامیہ جلسے میں ترنمول کانگریس کی طرف سے پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ یوسف پیٹھان کی شرکت نے یہ ثابت کردیا کہ انتخابی کمیشن کی بد عنوانیوں کے خلاف ملک کی تمام چھوٹی بڑی قومی و علاقائی سیاسی جماعتیں متحد ہیں اور اب انتخابی کمیشن کے تمام کالے کرتوت جستہ جستہ اجاگر ہونے لگے ہیں اور یہ انکشاف ہو چکا ہے کہ گزشتہ کئی اسمبلیوں اور پارلیمانی انتخاب میں ووٹ چوری ہوئی ہے جس سے نہ صرف اپوزیشن جماعتوں کے وجود کو نقصان پہنچا ہے بلکہ ہندوستان کی جمہوریت کے وجود کو خطرہ لاحق ہوگیاہے۔
 بہار میں خصوصی ووٹر نظر ثانی کے نام پر جس طرح انتخابی کمیشن نے جانبدارانہ رویہ اپنایا اور ۶۵؍ لاکھ سے زیادہ ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کئے وہ بھی اب ایک سازش کا حصہ ہی ثابت ہو رہاہے لیکن سچائی تو یہ ہے کہ اب پاپ کا گھڑا پھوٹ چکا ہے اور بہار سے جو انقلاب کی چنگاری پیدا ہوئی ہے وہ بہت کم وقت میں قومی سطح پر شعلہ کا روپ اختیار کرے گی جس کا اندازہ نہ انتخابی کمیشن کو تھا اور نہ بر سر اقتدار جماعت کو۔اس لئے کہ بر سر اقتدار جماعت نے سمجھا تھا کہ یاترا محض ایک یاترا بن کر رہ جائے گی کیوں کہ قومی میڈیا نے نہ صرف اس عوامی تحریک کو نظر انداز کیا بلکہ اسے متنازع بنانے کی سازش بھی کی لیکن بہار کے عوام نے یہ ثابت کردیا کہ وہ عوامی حقوق کی حق تلفی کبھی برداشت نہیں کر سکتی ۔
 اس ووٹر ادھیکار یاترا سے انڈیا اتحاد کی تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں کو فائدہ پہنچا ہے لیکن سب سے زیادہ فائدہ کانگریس اور راشٹریہ جنتا دل کو ہوا ہے ۔ واضح رہے کہ بہار میں کانگریس گزشتہ ۳۵؍ سال سے کلّی طورپر اقتدار میں نہیں ہے البتہ کبھی راشٹریہ جنتا دل اور درمیان میں جنتا دل متحدہ کے ساتھ وہ حکومت میں شامل ضرور رہی ہے لیکن زمینی سطح پر آہستہ آہستہ کانگریس کمزور ہوتی چلی گئی ۔ حال کے دنوں میں راشٹریہ جنتا دل کے ساتھ کانگریس کا اتحاد تو رہاہے لیکن ایک تلخ سچائی تو یہ ہے کہ وہ اتحاد اسمبلی اور پارلیمانی انتخاب کی ووٹنگ میں دکھائی نہیں دیتا تھا مگر اس ووٹ ادھیکار یاترا میں کانگریس اور راشٹریہ جنتا دل کے کارکنوں نے اپنے بے مثال اتحاد کا مظاہرہ کیااور نتیجہ یہ ہوا کہ پوری ریاست میں ایک نئی سیاسی فضا نہ صرف تیار ہوئی ہے بلکہ سازگار بھی ہوئی ہے۔ایک اہم تبدیلی یہ دیکھنے کو ملی کہ اس ووٹر ادھیکار یاترا کے جگہ جگہ منعقد اجلاس میں انتہائی پسماندہ طبقے کی بھی اچھی خاصی تعداد شامل تھی ، ساتھ ہی ساتھ خواتین کی حصہ داری بھی بہت حیرت انگیز تھی۔جہاں تک دلت طبقے کا سوال ہے تو اس کی حصہ داری بھی حوصلہ بخش رہی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کانگریس کے قومی صدر کھرگے اور ریاست بہار کے کانگریس صدر دونوں دلت ہیںاس لئے اس یاترا کی مدت کار میں یہ دیکھنے کو ملا کہ دلت طبقے کے اندر بھی ایک نیا سیاسی شعور پیدا ہورہاہے اور جس طرح ماضی میں کانگریس کے لئے دلت طبقے میں ہمدردی دیکھی جار ہی تھی اس کی واپسی ہو سکتی ہے۔چوں کہ اس وقت انڈیا اتحاد میں بایاں محاذ بھی شامل ہے اور خصوصی طورپر بھاکپا مالے کے لیڈر دیپانکر بھٹا چاریہ کی شمولیت نے ریاست کے مزدور طبقے کی حصہ داری بھی امید سے کہیں زیادہ نظر آئی۔اگرچہ وکاس شیل انسان پارٹی کے لیڈر مکیش سہنی بھی اس مکمل یاترا میں شامل رہے مگر تلخ سچائی یہ ہے کہ ریاست بہار کی موجودہ نتیش حکومت میں سہنی برادری کے کئی وزراء اور مرکزی حکومت میں بھی بطور وزیر شامل ہیں اس لئے ووٹ کی تقسیم میں مکیش سہنی معاون ہو سکتے ہیں لیکن بہار میں ذات پات کی سیاست کی حقیقت مسلّم ہے اس لئے مکیش سہنی کی وجہ سے کوئی بہت بڑا بدلائو ہوگا ایسا سمجھنا غلط فہمی ہوگی۔
 مختصر یہ کہ کانگریس کے لیڈر و پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کے لیڈر راہل گاندھی کی اس تحریک نے نہ صرف ریاست بہار میں ایک نئی سیاسی صف بندی کا آغاز کردیا ہے بلکہ قومی سطح پر بھی انڈیا اتحاد کو مستحکم کرنے کا قابلِ تحسین کارنامہ انجام دیا ہے۔راہل گاندھی نے انتخابی کمیشن کی بد عنوانیوں کے خلاف جس طرح ثبوتوں کے ساتھ حقائق پیش کئے ہیں اس سے نہ صرف بہار کے عوام میں یہ پیغام عام ہوا ہے کہ واقعی موجودہ انتخابی کمیشن کے ارکان بر سر اقتدار جماعت کے ہاتھوں کی کٹھ پُتلی بن گئے ہیں اور اس سے ملک کے پسماندہ ، دلت اور اقلیت طبقے کے جمہوری حقوق چھینے جا رہے ہیں اور اندیشہ یہ ہے کہ اس روش سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا ڈھانچہ ہی متزلزل ہو جائے گا اور ملک میں آمرانہ فضا تیار ہوگی جس میں ملک کے عوام کی ہر ایک صدا، صدا بہ صحرا ثابت ہو گی۔یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے اور اس پر تمام انصاف پسند اور پاسدارِ جمہوریت عوام کو غوروفکر کرنا ہے کہ وقت کا تقاضا یہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK