مرکزی حکومت نے گیہوں سے تیار ہونے والی کئی اہم مصنوعات کی برآمدی پالیسی میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے گیہوں کا آٹا، میدہ، سوجی، ہول میل آٹا اور مکسڈ گندم آٹا کو پابندی والی فہرست سے نکال کر آزاد برآمدی زمرے میں شامل کر دیا ہے۔
EPAPER
Updated: August 24, 2026, 4:04 PM IST | New Delhi
مرکزی حکومت نے گیہوں سے تیار ہونے والی کئی اہم مصنوعات کی برآمدی پالیسی میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے گیہوں کا آٹا، میدہ، سوجی، ہول میل آٹا اور مکسڈ گندم آٹا کو پابندی والی فہرست سے نکال کر آزاد برآمدی زمرے میں شامل کر دیا ہے۔
مرکزی حکومت نے گیہوں سے تیار ہونے والی کئی اہم مصنوعات کی برآمدی پالیسی میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے گیہوں کا آٹا، میدہ، سوجی، ہول میل آٹا اور مکسڈ گندم آٹا کو پابندی والی فہرست سے نکال کر آزاد برآمدی زمرے میں شامل کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ان مصنوعات کی برآمد پر اب کسی خاص پابندی کے بغیر اجازت ہوگی۔ یہ اطلاع ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (DGFT) کی جانب سے پیر کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں دی گئی۔
نظرثانی شدہ پالیسی کے تحت اب درج ذیل مصنوعات کی برآمد آزادانہ طور پر کی جاسکے گی: گندم یا میسلن کا آٹا، میدہ، سوجی، ہول میل آٹا، مکسڈ گندم آٹا۔ حکومت کے اس فیصلے سے آٹا اور گندم سے تیار ہونے والی دیگر مصنوعات بنانے والی کمپنیوں اور برآمد کنندگان کو بیرون ملک نئی منڈیوں تک رسائی کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ مرکزی حکومت نے مئی ۲۰۲۲ء میں ملک میں غذائی تحفظ یقینی بنانے اور گندم کی بڑھتی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے گندم کی برآمد پر پابندی عائد کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:ایران کے خلاف امریکہ کا ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ منصوبہ، نئی پابندیوں کا اعلان متوقع
۱۳؍مئی ۲۰۲۲ء کو گندم کی برآمدی پالیسی کو ’آزاد‘ زمرے سے تبدیل کرکے ’محدود‘ زمرے میں ڈال دیا گیا تھا۔ اس کے بعد اسی سال اگست میں گندم کے آٹے کی برآمد پر بھی پابندیاں عائد کردی گئی تھیں۔ یہ فیصلہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے بعد عالمی سطح پر گندم کی سپلائی میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے درمیان کیا گیا تھا۔ اس دوران ہندوستانی گندم کی عالمی طلب میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں گھریلو مارکیٹ میں قیمتوں پر دباؤ بڑھنے لگا تھا۔حکومت نے اس وقت کہا تھا کہ تقریباً ۴ء۱؍ ارب آبادی کی غذائی ضروریات کو یقینی بنانے اور گندم و آٹے کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے برآمدی پابندیاں ضروری ہیں۔ وقت کے ساتھ ملک میں گندم کے ذخائر اور پیداوار کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے حکومت نے بتدریج برآمدی پابندیوں میں نرمی شروع کی۔ رواں سال فروری میں حکومت نے بہتر اسٹاک دستیابی کا حوالہ دیتے ہوئے ۲۵؍ لاکھ میٹرک ٹن گندم اور مزید۵؍لاکھ میٹرک ٹن گندم سے تیار شدہ مصنوعات کی برآمد کی اجازت دی تھی۔ اب تازہ فیصلے کے ذریعے آٹا، میدہ، سوجی اور دیگر متعلقہ مصنوعات کو مکمل طور پر آزاد برآمدی زمرے میں شامل کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں عالمی تحفظ کی تعیناتی ضروری: اقوام متحدہ
حکومت کے اس فیصلے سے ہندوستانی آٹا، میدہ اور سوجی تیار کرنے والی کمپنیوں کو عالمی مارکیٹ میں اپنی موجودگی بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے۔ برآمدات میں اضافے سے گندم کی پروسیسنگ، پیکیجنگ، لاجسٹکس اور متعلقہ شعبوں کو بھی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ دوسری جانب حکومت کے لیے سب سے اہم چیلنج یہ ہوگا کہ برآمدات میں اضافے کے باوجود گھریلو مارکیٹ میں گندم اور آٹے کی قیمتیں قابو میں رہیں اور ملک کی غذائی سلامتی متاثر نہ ہو۔ یہ فیصلہ اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ حکومت موجودہ گندم کے ذخائر اور بڑھتی پیداوار کو دیکھتے ہوئے عالمی منڈی میں ہندوستانی گندم مصنوعات کی برآمدات کو مزید فروغ دینا چاہتی ہے۔