Inquilab Logo Happiest Places to Work

رکن پارلیمنٹ سریش مہاترے پرکلیان حلقےکو نظر انداز کرنے کا الزام

Updated: August 24, 2026, 3:38 PM IST | Ejaz Abdul Ghani | Kalyan

کلیان مغرب اسمبلی حلقے کے شہریوں کا الزام ہے کہ بالیا مامانےمرباڈ، شاہ پور اور بھیونڈی میں کروڑوں روپے کے ترقیاتی کام منظور کیے لیکن کلیان حلقہ پرتوجہ نہیں دی۔

Suresh Mahatre aka Balia Mama. Picture: INN
سریش مہاترے عرف بالیا ماما۔ تصویر: آئی این این

۲۰۲۴ کے لوک سبھا انتخابات میں کلیان کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے جہاں مسلسل تیسری بار اقتدار میں واپسی کی پیش گوئی کرتے ہوئے ’ہیٹ ٹرک ‘کا نعرہ دیا تھا وہیں بھیونڈی لوک سبھا حلقے سے کپل پاٹل کی تیسری کامیابی کا بھی یقین ظاہر کیا تھا لیکن انتخابی نتائج نے سیاسی منظر نامے کو پلٹ کر رکھ دیا تھا۔ راشٹروادی کانگریس پارٹی (شرد پوار) کے امیدوار سریش مہاترے عرف بالیا ماما نے سیکولر قوتوں کی متحدہ حمایت بالخصوص کلیان کے مسلم ووٹروں کی فیصلہ کن تائید کے بل پر کپل پاٹل کے کامیابی کے سفر کو روک دیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: جاپان ماؤنٹ فیوجی: تھکن کی شکایت کرنے پر ۷؍ سالہ بچے کو والد نے تنہا چھوڑ دیا

تاہم انتخابی فتح کے ۲۷؍ ماہ بعد اب ایک بنیادی سوال نے شدت اختیار کرلی ہے کہ جن ووٹروں کی حمایت نے بالیا ماما کو ایوانِ پارلیمنٹ تک پہنچایا کیا وہی ووٹر ان کی ترقیاتی ترجیحات میں پسِ پشت چلے گئے ہیں ؟ کلیان مغرب اسمبلی حلقے کے شہریوں کا الزام ہے کہ رکن پارلیمنٹ نے اپنے حلقۂ انتخاب کے مرباڈ ، شاہ پور اور بھیونڈی علاقوں میں سرکاری فنڈ سے کروڑوں روپے کے ترقیاتی کام منظور کیے لیکن کلیان اسمبلی حلقہ کو انتہائی معمولی رقم دے کر عملاً نظر انداز کردیا۔ ترقیاتی فنڈ کی مبینہ غیر مساوی تقسیم نے شہریوں میں ناراضگی پائی جارہی ہے۔ رکن پارلیمنٹ سریش مہاترے عرف بالیا ماما کے ذریعے پیش کردہ دو سالہ ترقیاتی فنڈ کی رپورٹ کے بعد کلیان کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے حاصل کردہ ۸۱۲؍کروڑ روپے کے فنڈ میں سے مرباڈ ، شاہ پور اور بھیونڈی اسمبلی حلقوں میں کروڑوں روپے کے کام کروائے گئے لیکن کلیان مغرب اسمبلی حلقے کے حصے میں کل فنڈ کا ۲؍ فیصد بھی نہیں آیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس لینے کا فیصلہ

اس ضمن میں سماجی رکن عزیز خان نے جو لوک سبھا کی انتخابی مہم میں پیش پیش رہے تھے ، نے گہرے دکھ اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران رکن پارلیمنٹ نے مسلم اکثریتی علاقوں کی ترقی کو ترجیح دینے کے بڑے بڑے دعوے کیے تھے۔ تاہم کامیابی ملتے ہی وہ نہ صرف اپنے وعدے بھول گئے بلکہ انہوں نے ایک بار بھی ان علاقوں کا دورہ کرنا گوارا نہیں کیا اور نہ ہی ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈ فراہم کیا۔ مقامی شہری عقیل انصاری نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سریش مہاترے نے پورے کلیان (مغرب) کے عوام کو سبز باغ دکھا کر محض بے وقوف بنایا ہے۔ دیگر حلقوں میں گٹر ، پیور بلاکس اور اسٹریٹ لائٹس جیسے بنیادی کاموں کے لیے فنڈ جاری کیے گئے لیکن مسلم علاقوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرکے شہریوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا گیا۔ اُدھو سینا کے قائد سچن باسرےمہاوکاس اگھاڑی کی تمام اتحادی پارٹیوں نے بالیا ماما کی کامیابی کیلئے دن رات ایک کیا اور انہیں تقریباً ۷۵؍ ہزار ووٹوں کی بھاری برتری دلائی۔ اس شاندار حمایت کے باوجود رکن پارلیمنٹ نے کلیان کے ووٹر اور حلیفوں کو یکسر نظر انداز کر دیا اور اس حلقے میں کوئی ایک بھی قابل ذکر کام انجام نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ رکن پارلیمنٹ نے یہاں کے رائے دہندگان کو ’ماما ‘ بنا دیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK