• Tue, 24 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی لسانی مکالمے اور مادری زبان!

Updated: February 24, 2026, 1:49 PM IST | Dr. Mushtaq Ahmed | mumbai

ہندوستان میں ۱۲؍زبانیں ایسی ہیں جن کے بولنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے لیکن حکومت ہند کی جانب سے ۲۲؍سرکاری زبانوں کو شیڈول ۸؍میں رکھا گیاہے۔ہندوستان میں تقریباً ۱۶۰۰؍مقامی زبانیں ہیں جنہیں مادری زبان کا درجہ حاصل ہے۔

INN
آئی این این
اس وقت عالمی سطح پر یہ لسانی بحث ومباحثہ جاری ہے کہ اس عہدِ مصنوعی ذہانت میں  انسانی معاشرے کے لئے زبان کی کیا اہمیت رہ گئی ہے اور بالخصوص مادری زبان کے وجود کو کن کن خطرات کے چیلنجز ہیں ۔دنیا کے تمام ماہر لسانیات کی متفقہ رائے ہے کہ انسان کے ما فی الضمیر کے اظہاریہ کا سب سے طاقتور وسیلہ زبان ہے۔جہاں  تک مادری زبان کا سوال ہے تو اس کی تاریخی اہمیت وافادیت مسلّم ہے اس لئے ہندوستان میں  جب نئی قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ءکو حتمی صورت دی گئی اور اس کے نفاذ کا اعلان کیا گیا تو اس پالیسی میں  مادری زبان کی لسانی اور سائنسی اہمیت کو قبول کرتے ہوئے ملک کی تمام علاقائی اور مادری زبان میں  اسکول تا یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ تکنیکی اداروں  میں  بھی بذریعہ مادری زبان تعلیمی سہولیات فراہم کرانے کا انقلابی فیصلہ کیا گیا اور اس کے نفاذ کے لئے بھی موجودہ حکومت کی طرف سے کوششیں  جاری ہیں ۔راقم الحروف جس وقت یہ مضمون لکھ رہاہے اس وقت ملک کی دارالسلطنت دہلی میں  اے آئی امپیکٹ سمٹ(۱۶؍ فروری تا ۲۰؍ فروری ۲۰۲۶ء) جاری ہے جس میں  درجنوں  ممالک کی شرکت ہو رہی ہے اور ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ اس امپیکٹ سمٹ ۲۰۲۶ء سے ملازمتوں  میں  کمی کے خدشات پر فکر مندی ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں  ہے کیوں  کہ مصنوعی ذہانت مستقبل کا مسئلہ نہیں   بلکہ موجودہ دورکی ضرورت ہے ۔بلا شبہ اس وقت پوری دنیا میں  مصنوعی ذہانت کو ٹکنالوجی انقلاب کا بڑا عطیہ سمجھا جا رہاہے اور اس کے فوائد پر شب وروز گفتگو ہو رہی ہے ۔اس میں  کوئی شک نہیں  کہ تغیر زمانہ کے ساتھ جدید ٹکنالوجی سے استفادہ کرنا انسانی معاشرے کی مجبوری ہے لیکن اس بات کا ہمیشہ خیال رکھا جانا چاہئے کہ انسانی ذہن کو مفلوج نہیں  بنایا جائے کہ یہ قدرتی عطیہ انسانی معاشرے کی شناخت کو مستحکم کرنے کا ایک چشمۂ ابدی ہے ۔
 
 
واضح رہے کہ دنیا میں  تقر یباً ۷۱۵۰؍زبانیں  زندہ ہیں  ان میں  ۱۲۱؍ ایسی زبانیں  ہیں  جو مختلف ممالک میں  روزمرہ کی سرکاری اور غیر سرکاری زبان کے طور پر استعمال ہوتی ہیں  ان  میں  ۱۹۵۰۰؍  مادری زبان شامل ہے۔ان میں  سب سے زیادہ ۲۲۹۴؍ زبانیں  ایشیا ئی اور ۲۱۴۴؍افریقی ممالک میں بولی جاتی ہیں ۔یور پ کے ۴۴؍ممالک میں  تقریباً ۲۸۷؍زبانیں  بولی جاتی ہیں ۔جہاں  تک ہندوستان کا سوال ہے تو یہاں  بھی ۱۲؍زبانیں  ایسی ہیں  جس کے بولنے والے کی تعداد سب سے زیادہ ہے لیکن حکومت ہند کی جانب سے ۲۲؍سرکاری زبانوں  کو شیڈول ۸؍میں  رکھا گیاہے۔ہندوستان میں  تقریباً ۱۶۰۰؍مقامی زبانیں  ہیں  جنہیں  مادری زبان کا درجہ حاصل ہے۔
بہر کیف!اس وقت مجھے یومِ مادری زبان کی مناسبت سے زبان کے تعلق سے تحریر شدہ حالیہ ایک اہم کتاب پر گفتگو مقصو د ہے کہ اس کتاب میں  نہ صرف مادری زبان کی اہمیت پر تفصیلی بحث کی گئی ہے بلکہ جنوبی ایشیاء میں  زبان کے ارتقائی سفر اور اس کی معاشرتی تاریخی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔زبان وادب اور بالخصوص علم لسانیات کے طلباکے لئے یہ کتاب غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ میری مراد پیگی موہن کی کتاب ’ ’فادری ٹنگ، مادر لینڈ‘‘ ہے۔یہ کتابہندوستانی لسانی سیاست، شناخت اور ادبی اظہار کے باہمی رشتوں  پر ایک اہم تنقیدی و تخلیقی متن ہے۔ یہ محض سوانحی یا تاثراتی بیانیہ نہیں  بلکہ زبان، قومیت، استعمار اور صنفی شناخت کے پیچیدہ سوالات کو ایک ذاتی تجربے کی روشنی میں  برتتی ہے۔ عنوان ہی اپنی ساخت میں  ایک فکری تنوع لئے ہوئے ہےFather Tongue  (باپ کی زبان) اور’Motherland‘(ماں  کی سرزمین) گویا زبان اور وطن کے مابین نسبتیں  سادہ اور سیدھی نہیں  بلکہ تاریخی و سماجی طاقت کے رشتوں  سے جڑی ہوئی ہیں ۔یہ تبصرہ کتاب کے مرکزی مباحث، اسلوب، نظریاتی بنیادوں  اور ہندوستانی لسانی منظرنامے میں  اس کی معنویت کاایک مختصر جائزہ ہے ۔واضح رہے کہ  ڈاکٹر پیگی موہن کے مطالعے کا محور ومرکز علم لسانیات ہے ان کا تعلق ویسٹ انڈیز سے ہے ۔ انہوں  نے ویسٹ انڈیز یونیورسٹی سے لسانیات میں  پی ایچ ڈی کی ہے ، پھر انہو ں نے یونیورسٹی آف مشی گن سے بھی اعلیٰ ڈگری حاصل کی ہے۔ انہوں  نے ہاوارڈ یونیورسٹی ، واشنگٹن(امریکہ) ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی، دہلی، جامعہ ملّیہ اسلامیہ اور اشوکا یونیورسٹی دہلی میں  درس وتدریس کی خدمات انجام دی ہیں ۔زیر بحث کتاب سے قبل ان کی کتاب "Wanderes, Kings, Merchants (2021)بہت مقبول ہوئی تھی اور انہیں  اس کتاب پر کئی ادبی ایوارڈ حاصل ہوئے تھے ۔ان دنوں  پیگی موہن ملک کی راجدھانی دہلی ، ہندوستان میں  رہتی ہیں ۔
زبان اور شناخت Father Tongueکی معنویت:۔مصنفہ عنوان کے ذریعے اس مفروضے کو چیلنج کرتی ہیں  کہ زبان ہمیشہ ’’مادری‘‘ہوتی ہے۔ ہندوستان جیسے معاشرے میں ، جہاں  نوآبادیاتی ورثہ، انگریزی کی بالادستی اور مقامی زبانوں  کی سیاست ایک ساتھ موجود ہیں ، زبان کی نسبت محض حیاتیاتی یا جذباتی نہیں  رہتی بلکہ اقتدار اور مراعات سے جڑ جاتی ہے۔جہاں  تک اپنے ملک ہندوستان کا سوال ہے تو یہاں  لسانی سیاست ایک حساس موضوع ہے۔ ہندی، انگریزی اور علاقائی زبانوں  کے مابین کشمکش جاری ہے۔ اس پس منظر میں  یہ کتاب ایک اہم مداخلت ہے کیونکہ یہ کسی ایک زبان کی وکالت نہیں  کرتی بلکہ لسانی تکثیریت کو تسلیم کرتی ہے۔مصنفہ کا استدلال یہ ہے کہ زبان کا انتخاب محض ذاتی نہیں  بلکہ سماجی و سیاسی عمل ہے۔ جب کوئی شخص انگریزی میں  لکھتا ہے تو وہ ایک خاص قاری طبقے کو مخاطب کرتا ہے، جب کہ مقامی زبان میں  لکھنا ایک مختلف سماجی ربط پیدا کرتا ہے۔کتاب کی سب سے بڑی خوبی اس کی فکری دیانت اور پیچیدگی کو برقرار رکھنا ہے۔ مصنفہ نہ تو انگریزی کو مکمل طور پر استعماری قرار دیتی ہیں  اور نہ ہی اسے غیر مشروط طور پر ترقی کا ذریعہ مانتی ہیں ۔ وہ تضادات کو قبول کرتی ہیں  اور قاری کو بھی سوچنے پر مجبور کرتی ہیں ۔البتہ بعض ناقدین کے نزدیک کتاب میں  نظریاتی مباحث کی گہرائی نسبتاً محدود ہے اور زیادہ تر زور ذاتی تجربے پر ہے۔ تاہم یہی پہلو اسے قابلِ مطالعہ بناتا ہے کیونکہ یہ نظریہ کو زندگی کے تجربے سے جوڑتا ہے۔ ’ ’فادری ٹنگ، مادر لینڈ‘‘زبان، شناخت اور وطن کے سوالات پر ایک اہم اور فکر انگیز کتاب ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK