• Sun, 25 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

راجستھان میں گجرات جیسا قانون، ہم کہاں جارہے ہیں؟

Updated: January 25, 2026, 1:42 PM IST | Aakar Patel | mumbai

ایک کے بعد ایک ایسے قوانین بنائے جارہے ہیں جن سے ملک کے اقلیتی طبقات کیلئے مشکلات پیدا ہورہی ہیں۔ کوئی بتائے کہ آخر یہ سلسلہ کہاں جاکر تھمے گا؟

INN
آئی این این
راجستھان میں  گجرات کی طرز پر ایک قانون بنانے کی تیاری ہے۔ یہ بعید از قیاس ہے کہ اس کے بارے میں  لوگ جانتے ہوں  گے۔ اتنا ہی بعید از قیاس یہ بھی ہے کہ میڈیا اس کو موضوع بنائے گا۔ جو بھی ہو، آئیے دیکھیں  کہ یہ قانون کیا ہے اور اس سے کیا ہوگا۔
جس جگہ غریب عوام رہنے پر مجبور ہوتے ہیں  (کم رقبے میں  زیادہ افراد)، اُسے جھوپڑ پٹی کہا جاتا ہے۔ آپ نے ایسے علاقے بھی دیکھے ہوں  گے جہاں  ایک نسلی گروہ کے لوگ رہتے ہیں ۔ اسے ایک خاص علاقہ کہا جاسکتا ہے جسے انگریزی میں  ’’گھیٹو‘‘ کہتے ہیں ۔ اولین قسم کے (غریب) لوگ جس جگہ رہتے ہیں  وہ اُس جگہ اس لئے رہتے ہیں  کہ اُن کے پاس کہیں  اور جانے کے وسائل نہیں  ہیں ۔ دوسری قسم کے لوگ ’’گھیٹو‘‘ میں  اسلئے رہتے ہیں  کہ اُن کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں  ہے۔ وسائل ہوں  تب بھی اُنہیں  اُسی علاقے یا لوکالیٹی میں  رہنا ہے۔ آپ نے ایک انگریزی اصطلاح ’’اپارتھیڈ‘‘ سنی ہوگی۔ اس کا معنی ہے نسل پرستی۔ یہ اصطلاح جنوبی افریقہ کی اُس پالیسی کیلئے استعمال کی جاتی ہے جس کے تحت سیاہ فام افریقیوں  کو گھیٹوز ہی میں  رہنے کی اجازت تھی اس کے علاوہ اور کہیں  نہیں ۔ قانون کے تحت اُن پر لازم تھا کہ وہ انہی علاقوں  میں  رہیں ۔ 
جب امریکہ میں  اس نوع کی پابندی کو قانونی طور پر ۱۹۶۰ء کی دہائی میں  ختم کیا گیا تب حکومت نے ایسے قوانین منظور کئے جن کے ذریعہ مختلف قوموں  یا نسلوں  کو ساتھ ساتھ رہنے کی اجازت ملی۔ ان میں  سے ایک قانون، مثال کے طور پر، مکانات میں  انصاف کا قانون (فیئر ہاؤسنگ ایکٹ) تھا۔ اس کی وجہ سے اُن علاقوں  میں  بھی مکان خریدنے اور بیچنے کی آزادی مل گئی جہاں  پہلے پابندی تھی۔ یہ پس منظر جان لینے کے بعد ، راجستھان سے پہلے آئیے گجرات کی طرف۔ اس ریاست کے تمام بڑے شہروں  اور متعدد چھوٹے شہروں  میں  بھی بی جے پی حکومت نے اس کے برعکس کیا۔  ایک قانون کے ذریعہ مسلمانوں  کو مجبور کیا کہ وہ گھیٹوز ہی میں  رہیں ۔ اس قانون کا نام خاصا طویل ہے جو اس طرح ہے: ’’گجرات پروہیبیشن آف ٹرانسفر آف اِمّوایبل پراپرٹی اینڈ پروویژن فار پروٹیکشن آف ٹینٹس فرام اِوِکشن فرام پریمائسیز اِن ڈسٹربڈ ایریاز ایکٹ‘‘ ۔ اس کا مفہوم کچھ اس طرح ہوگا: غیر منقولہ جائیداد خریدنے بیچنے پر پابندی اور مخدوش علاقوں  میں  لوگوں  کو اپنے مکانوں  سے نکالنے سے حفاظت کا قانون۔ اس قانون کے تحت ضروری ہوتا ہے کہ لوگ پراپرٹی خریدنے بیچنے سے قبل حکومت سے اجازت لیں ۔ اسی طرح کرایہ دار بدلنے کیلئے بھی اجازت طلب کرنی ہوتی ہے جس کی وجہ سے مذہب کی بنیاد پر لوگوں  کو ہاں  یا نہیں  کہا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے لازمی ہے کہ عرضی پر مکان خریدنے اور فروخت کرنے والے کا نام لکھا جائے۔ عرضی کے ساتھ ہی ایک افیڈویٹ دینا ہوتا ہے کہ فروختگی کسی جبر یا زور زبردستی کے بغیر ہورہی ہے اور جو قیمت بازار میں  چل رہی ہے اُسی قیمت پر ہورہی ہے۔
 
 
یہ قانون ابتداء میں  کانگریس نے بنایا تھا۔ ۲۰۰۹ء میں  مودی حکومت نے ایکٹ میں  ترمیم کی جس کے تحت کلکٹر کو فیصلہ کن اختیار دے دیا گیا کہ وہ انکوائری کرے۔ جولائی ۲۰۱۹ء میں  ایک اور ترمیم کی گئی۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ پراپرٹی بیچنے والوں  کیلئے لازم تھا کہ وہ عرضی داخل کریں  اور فروختگی کی اجازت طلب کریں  مگر جولائی ۱۹ء کی ترمیم کے بعد اجازت کی اہمیت کم ہوگئی ، اس سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ کلکٹر کو کسی بھی سودے کو روکنے کا اختیار حاصل ہوگیا ہے۔ اگر وہ محسوس کرتا ہے کہ سودے کی وجہ سے پولرائزیشن بڑھے گا یا ایک خاص طبقے کے لوگوں  کی آبادی میں  اضافہ ہوگا تو اسے اختیار ہے کہ سودا روک دے۔ اگر اس نوع کی اجازت کے بغیر کوئی سودا کیا گیا تو یہ قابل سزا ہوگا۔ سزا پہلے چھ ماہ تھی، اب چھ سال کردی گئی ہے۔ اس قانون کے ذریعہ حکومت ایک معائنہ اور مشاورت کمیٹی تشکیل دے سکتی ہے جس کا کام ہوگا کہ وہ کسی علاقے کے آبادیاتی ڈھانچے پر نگاہ رکھے اور کلکٹر کو مشودہ دے کہ مکانوں  کا کون سا سودا منظور کیا جائے اور کون سا نہیں ۔یہ قانون احمد آباد، وڈوردا اور سورت  کے علاوہ بھڑوچ، آنند،  کاپڈونج اور گودھرا میں  نافذ ہے۔ یہ وہ شہر ہیں  جہاں  گجرات کے مسلمانوں  کی خاصی آبادی ہے چنانچہ صورت حال یہ ہے کہ وہ بُری طرح سے مخصوص بستیوں  (گھیٹوز) میں  سمٹ گئے ہیں ۔ ستم طریفی دیکھئے کہ کوئی غیر ملکی شہری چاہے تو پراپرٹی لیز پر بھی لے سکتا ہے اور خرید بھی سکتا ہے مگر مسلمانوں  کو یہ اجازت نہیں ۔
اب آئیے راجستھان کی طرف۔ گزشتہ ہفتے اِس ریاست کی کابینہ نے ایسے ہی ایک قانون کو منظوری دی۔ وہاں  کے وزیر قانون جوگا رام پٹیل نے کہا کہ ایسی بستیاں  جہاں  ’’کلسٹرنگ‘‘ ٹھیک نہیں  ہے اُن پر توجہ مرکوز دی جائیگی۔ غیر منقولہ جائیداد کی بلا اجازت خرید و فروخت باطل قرار پائے گی۔ اقلیتوں  کو محروم کرنے کے دیگر قوانین کی طرح اس قانون کو بھی ایسا نام دیا گیا ہے جس سے اِس کی حقیقت نہیں  کھلتی۔ نام اس طرح ہے: ’’دی راجستھان پروہبیشن آف ٹرانسفر آف اِموویبل پراپرٹی اینڈ پروویژن فار پروٹیکشن آف ٹیننٹس فرام اِوِکشن فرام دی پریمائسیز اِن ڈسٹربڈ ایریا  بل ۲۰۲۶‘‘ ۔ اس کا اثر ویسا ہی ہوگا جیسا کہ گجرات کے متعلقہ قانون کا ہوا۔ اس کے ذریعہ مختلف فرقوں  کے درمیان تجارتی لین دین قابل تعزیر ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسا نازی جرمنی میں  ہوا تھا۔ قانون کی خلاف ورزی کی گئی تو  یہ جرم ناقابل ضمانت اور قابل سزا (پانچ سال تک قید اور جرمانہ) ہوگا۔ کانگریس اس بل کی مخالفت کررہی ہے لیکن اسمبلی میں  اس کی طاقت کم ہے اسلئے اسے روک نہیں  پائیگی۔ کانگریس کے ریاستی چیف  کا کہنا ہے کہ ’’آبادیاتی عدم توازن قانونی اصطلاح نہیں ۔ ایسی کوئی بنیاد نہیں  ہے جس کے سبب کسی علاقے کو ڈسٹربڈ کہا  جائے، بی جے پی گجرات ماڈل کے ذریعہ اقتدار پر قائم رہنا چاہتی ہے۔‘‘
یہ سچ ہے۔ مودی کے اقتدار میں  ایسے قوانین بنے ہیں  جو آئین کی روح  اور سیکولرازم کو کمزور کرنے والے ہیں ، عدالتوں  نے اس کی گرفت نہیں  کی اور اپوزیشن کمزور ہے اور  میڈیا کو اپنے فرائض یاد نہیں ۔ متعدد ریاستوں  میں  بیف پر پابندی، بین مذہبی شادی کا قابل سزا قرار دیا جانا، تین طلاق دینے والوں  کا مستحق ِ سزا گردانا جانا اور سی اے اے جیسے قانون کے ذریعہ ناانصافی کے بعد راجستھان میں  یہ قانون۔ نیا بھارت اکثریتی مملکت میں  تبدیل ہورہا ہے۔ 
gujarat Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK