گجرات کےتاڑکیشور میں ایک کروڑ روپئے کی لاگت سے تعمیر کی گئی پانی کی ٹنکی افتتاح سے قبل ہی گر گئی، اس معاملے میں پولیس نے دو سرکاری افسران سمیت آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا ، انہیں جمعرات کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
EPAPER
Updated: January 22, 2026, 8:04 PM IST | Gandhinagar
گجرات کےتاڑکیشور میں ایک کروڑ روپئے کی لاگت سے تعمیر کی گئی پانی کی ٹنکی افتتاح سے قبل ہی گر گئی، اس معاملے میں پولیس نے دو سرکاری افسران سمیت آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا ، انہیں جمعرات کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
گجرات کےتاڑکیشور میں ایک کروڑ کی لاگت سے تعمیر کی گئی پانی کی ٹنکی افتتاح سے قبل ہی گر گئی، اس معاملے میں پولیس نے دو سرکاری افسران سمیت آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا ، انہیں جمعرات کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔گرفتار افراد میں جینتی سپر کنسٹرکشن پرائیویٹ لمیٹڈ،مہسانہ کے مالک کنٹریکٹر جینتی پٹیل (۶۱؍ سالہ) اور ان کے معاہدے میں پارٹنر بابو پٹیل (۶۱؍) شامل ہیں۔ بابو کے بیٹے جاسمین (۳۲؍ سالہ) اور داماد دھول (۳۵؍ سالہ) کو بھی گرفتار کیا گیا جو دونوں بابولال پٹیل کمپنی سے تعلق رکھتے ہیں۔احمدآباد کی پروجیکٹ مینیجمنٹ کنسلٹنسی مارس پلاننگ اینڈ انجینئرنگ سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ کے ملازمین،سپرویژن کے سربراہ بابو مانی پٹیل (۶۳؍) اور سائٹ سپروائزر جگر پراجاپتی (۳۴؍ سالہ) کو بھی حراست میں لیا گیا۔گجرات واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کے ایگزیکٹو انجینئر انکت گرسیا اور ڈپٹی انجینئر جے چودھری کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔پولیس اس معاملے میں ملوث دیگر افراد کے خلاف بھی کارروائی کرے گی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ ہر عام شہری کیلئے زندگی عذاب بن گئی ہے، جوابدہی کا مطالبہ کرو‘‘
دریں اثناء مجرمین پر بھاریہ نیایا سنہتا کی دفعہ۳۱۶؍ (۵؍)(سرکاری ملازمین کی طرف سے امانت میں خیانت)،۳۱۸؍(۴؍) (دھوکہ دہی اور بے ایمانی کی ترغیب) اور۱۲۵؍(اے) (لاپرواہی یا غفلت سے انسانی جان کو خطرے میں ڈالنے والے اعمال) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ بعد ازاں تاڑکیشور میں نئے بنے اوورہیڈ پانی کی ٹنکی کے گرنے کی وجوہات کی تحقیقات کے لیے سردار ولبھ بھائی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایس وی این آئی ٹی) سورت اور گجرات انجینئرنگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (جی ای آر آئی) وڈودرا کے انجینئرنگ ماہرین کی ایک ٹیم نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔سورت کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس راجیش گڈھیا نے کہا کہ ’’ایس وی این آئی ٹی اور جی ای آر آئی کی تکنیکی رپورٹ کی بنیاد پر مزید تحقیقات پولیس کرے گی۔ استعمال ہونے والے مواد کی جانچ اور دیگر تکنیکی تفصیلات کی تصدیق کی جائے گی۔‘‘تحقیقات ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بی کے ونار کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ونار نے کہا کہ ’’ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جائے گا اور مزید کارروائی ثبوتوں کی روشنی میں طے کی جائے گی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: یونین بجٹ سے قبل جماعتِ اسلامی ہند کا روزگار، مساوی ترقی اور سماجی انصاف پر زور
واضح رہے کہ ۱۵؍ میٹر اونچی اس اوورہیڈ پانی کی ٹنکی کی گنجائش ۱۱؍ لاکھ لیٹر تھی۔آزمائشی جانچ کے دوران، ڈھانچہ گرنے سے پہلےاس میں دو دنوں میں تقریباً۹؍ لاکھ لیٹر پانی بھرا گیا تھا۔ یہ ٹینک۱۴؍ گاؤں کو پانی فراہم کرنے والے پانی کی تقسیم کاری نظام کے۲۱؍ کروڑ روپے کے منصوبے کا حصہ تھا۔ ٹینک کی تعمیری لاگت ایک کروڑ روپے تھی، جس میں سے۸۳؍ لاکھ روپے ادا کیے جا چکے تھے۔