انگریزی زبان روز بہ روز مقبولیت کا دائرہ وسیع کررہی ہے۔ اس کی لفظیات بدل رہی ہیں، جملے نئے قالب میں ڈھل رہے ہیں۔ اس کی کشش میں اضافہ کیلئے محنت ہورہی ہے۔ اور یہ باعث حیرت نہیں کہ یہ اس کے زندہ ہونے کی علامت ہے۔
الفاظ کو اُلٹ پلٹ کر دیکھتے رہنا چاہئے۔ روزانہ تبدیل ہونے والی اس ترقی یافتہ دُنیا میں الفاظ کا اِملا اور تلفظ ہی نہیں بدل رہا، معنویت بھی بدل رہی ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال امریکہ میں بولی، لکھی اور پڑھی جانے والی انگریزی ہے۔ یہ اپنا چولا بدل رہی ہے۔ اسے برطانوی انگریزی سے خدا واسطے کا بیر ہے۔ اس لئے شیڈول کو امریکیوں نے اسکیڈیول کردیا اور اشیو کو اِسیو بنا دیا۔ برطانوی اور امریکی انگریزی سے قطع نظر، اہل انگریزی میں جو بھی زبان کے محافظ بنے ہوئے ہیں وہ بار بار مشورہ دیتے ہیں کہ حضورِ والا، اگر آپ انگریزی بولنا چاہتے ہیں تو خدارا روایتی انگریزی مت بولئے، اس سے بہت اچھا اور خوشگوار تاثر قائم نہیں ہوتا۔ بولنا ہے تو اس طرح بولئے (مثال): ’’مجھے معلوم نہیں ‘‘ مت کہئے بلکہ اسی مفہوم کو اس طرح ادا کیجئے کہ ’’مَیں اس بارے میں پُریقین نہیں ہوں ‘‘ یا، یہ مت کہئے کہ ’’مَیں خوف محسوس کررہا ہوں ‘‘ بلکہ یہ کہئے کہ ’’کلیجہ منہ کو آرہا ہے‘‘۔ اسی طرح ’’مَیں سن رہا ہوں ‘‘ مت کہئے بلکہ ’’مَیں ہمہ تن گوش ہوں ‘‘ کہئے۔ لطف کی بات، اَور لطف سے زیادہ سیکھنے والی بات یعنی وہ بات جو ہم اُردو والوں کو سیکھنا چاہئے، یہ ہے کہ جو کچھ بتایا جارہا ہے اس پر عمل بھی رہا ہے۔ لوگ ان کی بات سن رہے ہیں ۔
اس طرز عمل کی اثر پزیری کا جلوہ ہندوستان میں دیکھا جاسکتا ہے۔ بالخصوص کارپوریٹ کمپنیوں میں یہ تغیر نمایاں ہے اور بالعموم انگریزی بول چال اور لفظیات کا چہرا بدل رہا ہے۔ کمپیوٹر میں دو طرح کی انگریزی ہے اور جب آپ زبانوں کو ’’اِنسٹال‘‘ کرتے ہیں تو آپ کے سامنے دونوں متبادل رکھے جاتے ہیں اور پوچھا جاتا ہے کہ آپ کس کو ترجیح دینگے، امریکی انگریزی کو یا برطانوی انگریزی کو۔ چونکہ اب وہ برطانیہ نہیں رہ گیا ہے جس کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا اس لئے شائقین ِ انگریزی نے امریکہ کی طرف جست لگادی اور امریکی انگریزی پر کلک کرناشروع کردیا۔
ہر زندہ زبان کی خوبی یہ ہے کہ وہ صحتمند طریقے سے تبدیل ہوتی رہتی ہے اور خوب سے خوب تر کی تلاش کے ساتھ اپنی لفظیات کی حفاظت پر مامور رہتی ہے۔ یہ کام پرانی نسل سے نئی نسل کی ذمہ داری بنتا ہے اور ایک نسل کے ساتھ (کے بعد نہیں ) دوسری نسل کی ذمہ داری۔ زبان تبدیلیوں کیلئے اپنے دروازے نہ کھولے اور کھڑکیاں بھی بند رکھے تو وقت کے ساتھ ہم آہنگی پیدا نہیں کرپاتی جس کا نتیجہ اچھا نہیں ہوتا۔ ٹھیک ہے زبانیں سو دو سال میں عنقا نہیں ہوجاتیں مگر جب کوئی زبان کتابوں میں مقید اور کتابیں غیر محفوظ ہوجاتی ہیں تو اس زبان پر ضعف طاری ہونے لگتا ہے، نظام ِ ہضم کمزور ہوجاتا ہے، (کوئی لفظ)ہضم ہو بھی جائے تو جزو بدن (جزوِ زبان) نہیں بنتا تب اس کی عمر گھٹنے لگتی ہے اور پھر کب اس کی روح قبض ہوجائے کہا نہیں جاسکتا۔ آج دُنیا کی کتنی ہی زبانیں بستر علالت سے بستر مرگ کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہیں ۔ کتنی ایسی ہیں کہ ان کے بولنے والے دو چار لوگ جس دن فوت ہوجائینگے، زبان بھی فنا ہوجائیگی۔ ا اس لئے انگریزی میں ہونے والی تبدیلیاں اور اہل انگریزی کی جانب سے دیئے جانے والے مشورے،جن کا ذکر بالائی سطور میں کیا گیا، گراں نہیں گزرتے بلکہ اچھے لگتے ہیں ۔ یہ زبان کسی نہ کسی ترمیم، تغیر اور تبدیلی سے گزرتی آرہی ہے اور اب بھی گزر رہی ہے۔ یہ عمل اس کے زندہ اور تابندہ ہونے کی علامت ہے۔
اس کے زندہ ہونے کے ساتھ ساتھ صحتمند ہونے اور روز بہ روز مالامال ہونے کی ایک وجہ ٹیکنالوجی کا بڑھتا دائرہ اور نت نئی ایجادات کا وہ سحر ہے جو جلدی ٹوٹنے والا نہیں ہے۔ جتنی بھی ایجادات ہورہی ہیں اور جتنی نئی مصنوعات منظر عام پر آرہی ہیں ، اپنے انگریزی نام کے ساتھ متعارف ہورہی ہیں لہٰذا زبان کے ذخیرۂ الفاظ کی کشادگی روز افزوں ہے۔ یہ الفاظ ہر غیر انگریزی زبان کی مجبوری ہیں کہ جس آلہ یا شےکو جو نام دے دیا گیا وہ حتمی ہے اور رواج پا چکا ہے۔ اگر آپ اُس سے مطمئن نہیں ہیں تو بیٹھئے ترجمہ کیجئے، اگر آپ خوش قسمتی سے اُس آلہ یا شے کو کوئی موزوں نام دینے میں کامیاب ہوگئے تب بھی دیکھ لیجئے گا کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہ ہوگا، آپ کے اپنے لوگ پیچھے ہٹ جائینگے کیونکہ ترجمہ سے قبل اوریجنل انگریزی نام زبانوں پر چڑھ چکا۔ اس کی ایک مثال دیکھئے۔ اہل اُردو نے موبائل فون کا متبادل وضع نہیں کیا مگر ہندی زبان میں اس کا ترجمہ کیا گیا ’’چل دور بھاش‘‘۔ مگر ہمیں آج تک ایک بھی ہندی زبان کا ایسا پرستار نہیں ملا جو موبائل فون کو دور بھاش کہتا ہو۔ اس لفظ سے یاد آیا اس سے ملتا جلتا ایک لفظ جو کافی عرصہ پہلے وضع کیا گیا تھا۔ وہ تھا ’’چل چتر‘‘ جو موشن پکچریعنی فلم کا ترجمہ تھا۔ یہ لفظ بھی نہیں چلا مگر لفظ فلم چلتا رہا، آج بھی رائج ہے۔ لفظ کے چلنے پر یاد آئے اکبرؔ، خوب کہا تھا کہ:
بو‘ٹ ڈاسن نے بنایا مَیں نے اک مضموں لکھا
ملک میں مضموں نہ پھیلا اور جو‘تا چل گیا
یہ صحیح ہے کہ کوئی بھی زبان عملاً تبھی رواج پاتی ہے اور مستحکم ہوتی ہے جب اُسے حکومت یا حکومتی اداروں کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے مگر اُتنی ہی درست یہ بات بھی ہے کہ زبان اپنے بولنے ، لکھنے اور پڑھنے والوں کی مرہون منت ہوتی ہے۔ انگریزی کو بڑی سے بڑی پشت پناہی حاصل ہے مگر اس کا کام صرف پشت پناہی سے نہیں چل رہا ہے۔ اس کے متوالوں اور رکھوالوں کا بھی کمال ہے۔ وہ عالمی زبان بنانے کے مقصد سے اسے آگے بڑھا رہے ہیں ، اس کی کشش میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں ، اس میں لکھ رہے ہیں ، بول رہے ہیں اور اس کے جادو کو سر چڑھ کر بولنے والا بنا رہے ہیں ۔ ہمارے یہاں یہ جذبہ نہیں ہے۔
ہمارے یہاں زبان سے محبت کا دعویٰ کرنے والوں کی بڑی آبادی تھی اخبار یا کتاب مانگ کر پڑھنے والوں کی آبادی کی طرح، مگر، ہر دو طرح کی آبادیاں کافی گھٹ چکی ہیں ۔ نہ حبِ اُردو کا دعویٰ رہ گیا ہے نہ ہی مانگ کر پڑھنے کا رواج۔ اُردو بولنے کا شوق بھی نہیں ہے کہ عمداً اور قصداً اُردو کے چند اچھے الفاظ بول دیئے جائیں ، لکھ دیئے جائیں یا کسی کو بتا دیئے جائیں ۔ اُردو کی زبوں حالی کا افسوس تو ہے ہی، زیادہ افسوس تب ہوتا ہے جب اچھی اُردو بولنے کی صلاحیت والے لوگ بُری انگریزی بولتے ہیں اور شرمسار نہیں ہوتے۔