خود رو پودے کسی کی ملکیت نہیں ہوتے البتہ کسی کی زمین پر اگر تلسی کا پودا اُگ آیا تو اسے زمین کے مالک سے پوچھے بغیر نہیں لیا جا سکتا۔ یہ پودے درخت نہیں ہیں جو سایہ کریں گے، لیکن ماحولیاتی اعتبار سے ان کا ہونا بہت ضروری ہے۔
ماحولیات۔ تصویر:آئی این این
خود رو پودوں کے بارے میں غور کرتے ہوئے ذہن کا زمینی ہونا بہت ضروری ہے۔ ذہن آسمان پر ہو تو زندگی اور کائنات کی بنیادی سچائی نظر کے بعد احساس کا حصہ نہیں بنتی۔ یہی وجہ ہے کہ خود رو پودے نگاہ میں نہ تو محترم ہو پاتے ہیں اور نہ ان کی طرف نگاہ اس طرح جاتی ہے جس طرح باغ کے پودوں اور پھولوں کی طرف جاتی ہے۔ پودوں کی کچھ قسمیں سڑک کے کنارے نکل آتی ہیں مگر انہیں کوئی باغباں نہیں ملتا۔ باغبانی کا شوق بڑی حد تک مخصوص زمین کے علاقے اور خطے تک محدود ہے۔ ایک دیوار ہے یا مٹی سے اٹھی ہوئی دیوار جو باغ کے پودوں اور پھولوں کو امان اورشان کا احساس دلاتی ہے۔ گھاس اور پودوں کی تراش خراش ایک معنی میں تہذیبی عمل ہے جو انسانی تہذیب کی طرح ترقی یافتہ تہذیب کا تاثر پیش کرتی ہے۔ انسانی تہذیب کے ارتقائی سفر میں سب سے اہم بات اشیاء کا صیقل ہونا تھا۔ حسن کا معیار اسی تراش خراش اور توازن سے وابستہ رہا ہے۔ کھیت اور کھلیان چٹیل زمین کو مخصوص موسم میں جس انسانی تہذیب کا نمونہ پیش کرتے ہیں، ان سے کبھی معاشرے کے ہر طبقے کا رشتہ تھا۔پکی ہوئی گیہوں کی بالیوں سے انگلیاں چھل جاتی تھیں بلکہ ایک ہلکی سی لکیر پڑ جاتی اور خون کچھ اس طرح نکلتا کہ جیسے مقصد لہو لہان کرنا نہیں بلکہ زندگی کا احساس دلانا ہے۔ کھیت اور کھلیان کبھی آبادی سے بہت نزدیک تھے۔ خود رو پودے بھی پہلے کی طرح دکھائی نہیں دیتے۔ سڑکیں چوڑی ہوتی جاتی ہیں اور قدرتی طور پر اگے ہوئے پودے کم ہوتے جاتے ہیں۔ خود رو پودوں کی دیکھ بھال قدرت کرتی ہے اور قدرت کا یہ نظام انسانوں کو یقین دلاتا ہے کہ زندگی کتنی دشوار اور کتنی آسان ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ زندگی کہیں آسان ہوتی جاتی ہے اور کہیں مشکل۔ خود رو پودے مسافروں سے اور لوگوں سے کیا کچھ کہتے ہیں۔ اقبال نے’’ لالہ صحر‘‘جیسی نظم لکھ کر بتایا تھا کہ زندگی کا راز کسی پودے اور پھول سے بھی سمجھا جا سکتا ہے اور اسے اپنی ذات کے حوالے سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
خود رو پودے کسی کی ملکیت نہیں ہوتے البتہ کسی کی زمین پر اگر تلسی کا پودا اُگ آیا تو اسے زمین کے مالک سے پوچھے بغیر نہیں لیا جا سکتا۔ یہ پودے درخت نہیں ہیں جو سایہ کریں گے، لیکن ماحولیاتی اعتبار سے ان کا ہونا بہت ضروری ہے۔ ان میں تو کئی ایسے پودے اور پھول جو نگاہوں میں اتر جاتے ہیں اور جی چاہتا ہے کہ انہیں گھر لے آیا جائے۔ پھر بھی ایک تذبذب کی کیفیت باقی رہتی ہے۔ یعنی خود رو پودے اور پھول گھر کیسے لائے جائیں۔ کچھ ایسے پودے بھی ہیں جن کا وجود قدرتی علاج کے طور پر بہت اہم ہے۔ اسی لئے کبھی کبھی کوئی شخص سڑک کے کنارے یا کسی جنگل میں پودوں کے پتوں کو توڑتا دکھائی دے گا۔ کبھی پودے زمین سے اپنی چھوٹی جڑوں کے ساتھ نکل آتے ہیں، اور کوئی دوسرا پودا اس خالی زمین کو برسات کے آتے آتے بھر دیتا ہے۔ پودوں کی مختلف قسموں اور صورتوں کا یوں سرراہ اکٹھا ہو جانا وحدت کی تعلیم بھی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس وحدت کو قائم کرنے میں قدرت کا کردار ہے۔ایسے میں قدرت کی طرف دیکھنا گویا خود رو پودوں کی طرف دیکھنا اور اپنی طرف دیکھنا بھی ہے۔خود رو پودے عام طور پر درخت کے سائے سے الگ رہتے ہیں۔ انہیں موسموں کی مار اپنے وجود کی طاقت کے ساتھ برداشت کرنا ہوتی ہے۔ ایک طاقت ہے جو انہیں قدرت نے ودیعت کی ہے۔ ایک اعتماد ہے جو سخت گرمی کے موسم میں بھی قائم رہتا ہے۔ شام ہوگی تو زندگی پرانی روش پر آ جائے گی۔ خودرو پودوں کی روش دراصل کسی روشن اور خوبصورت راستے کو اپنی فطرت کے ساتھ آئینہ دکھانا بھی ہے۔خود رو پودے سخت جان ہیں اور مہربان بھی۔ سخت جانی اگر مہربانی ہو جائے تو زندگی گنگنانے لگتی ہے۔سخت جان ہونا کوئی ان پودوں سے سیکھے۔ جنگل ختم ہونے جاتے ہیں، دور دور تک زمینیں ہیں اور زمینوں پر بننے والی عمارتوں کے نقشے۔ اس مرتبہ بھی جب وطن آیا تو راستے کے درخت کم دکھائی دیئے۔ سڑک کا چوڑا ہونا انسانی زندگی کو بلکہ سفر کو سہولت مہیا کرنا ہے مگر جو درخت کٹ رہے ہیں ان کی جگہ درخت تو نہیں لے سکتے۔ وہ پودے بھی کم کم دکھائی دیتے ہیں جنہیں خود رو پودے کا نام دے کر میں نے تحریر کا آغاز کیا ہے۔ کبھی میرے آنگن میں کچھ ایسے پودے نکل آتے تھے، جن میں ایک قسم ساگ کی بھی ہوتی تھی۔ میں صاف کرنے لگتا تو امی کہتیں کہ بیٹا یہ ساگ ہے اس کو گھاس کے ساتھ ملاؤ گے نہیں۔ ابا نے نئی عمارتوں کے ساتھ ایک چھوٹی سی زمین ایسی بچا لی ہے جس میں ساگ پھل پھول اگائے جا سکتے ہیں۔ میری نگاہ میں وہ منظر اور وہ وقت ٹھہر گیا ہے جو ان پودوں کے ساتھ امی نے گزارا تھا۔ خودرو پودے میری زندگی میں باہر سے نہیں بلکہ اپنے گھر آنگن کے وصیلے سے زندگی کا تجربہ بنے۔ بڑے شہروں کا قیام رفتہ رفتہ ذہن کو آسمانی بنا دیتا ہے مگر ایک زمین ہے جو وجود سے نہ صرف لپٹی ہوئی ہے، بلکہ اصل زندگی کا مفہوم بھی سمجھاتی ہے۔
زندگی کے بارے میں فلسفیانہ باتیں زندگی کی معمولی چیزوں سے بھی برآمد ہوتی ہیں۔اس کے لئے زمین پر چلنا ضروری ہے۔زمین قدموں کو پہچانتی ہے اور یہ بھی سمجھتی ہے کہ ان میں کتنی اتراہٹ اور کتنا غرور ہے۔ایسے پاؤں خود رو پودوں کی طرف بھی جاتے ہیں۔زد میں باغ کے پھول نہیں آتے۔وہاں چلنے کی ایک تہذیب ہے جو باغباں کی نگہبانی کا نتیجہ ہے۔مختلف کنارے بتاتے ہیں کہ پاؤں کو کس طرح اور کہاں دھرنا ہے۔خود رو پودے جس زمین پر اگے ہیں اس زمین کا حسن نا ہم واری میں ہے۔نا ہموار زمین پر اگے ہوئے پود ے کہیں کہیں ڈھلان کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔کہیں اوپر کی طرف اٹھتے ہوئے۔وہ زمین کی فطرت کے ساتھ خود کو ڈھالتے ہیں اور اپنی زندگی کا سامان کر لیتے ہیں۔مجھے لطف الرحمٰن نے محمد حسن کا یہ شعر سنایا تھا؎
وہ اور ہیں جو سرو و صنوبر کی طرح ہیں
ہم سبزہ خود رو ہیں کناروں پہ اُگے ہیں