Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوپی میں بجلی کا بحران ، یوگی آدتیہ ناتھ نے ہنگامی میٹنگ بلائی

Updated: May 25, 2026, 12:57 PM IST | Agency | Lucknow

شدید گرمی میں عوام کوبلا تعطل بجلی سپلائی کی ہدایت لیکن حالات ابتر، لکھنؤ اوردیگر اضلاع میں۸؍ سے۹؍ گھنٹےبجلی منقطع رہنے سےعوام ذہنی کرب میں مبتلا۔

Meeting.Photo:INN
میٹنگ۔ تصویر:آئی این این
شدید گرمی کے درمیان اتر پردیش میں بجلی کے شدید ہوتے ہوئے بحران نے حکومت اور انتظامیہ کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ دارالحکومت لکھنؤ سمیت کئی اضلاع میں گھنٹوں بجلی غائب رہنے، تکنیکی خرابی پیدا ہونے اوربار بار بجلی کی آنکھ مچولی کے سبب عوام کوذہنی کرب سے گزر ن پڑرہا ہے۔کئی علاقوں میں۸؍ سے۹؍ گھنٹے تک بجلی منقطع رہنے  پر عوام سڑکوں پر اترے اور جس سے انتظامیہ کو سیکوریٹی سخت کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اتوار کی صبح ساڑھے۱۰؍ بجے ایک ہنگامی، اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ بلائی ۔ محکمہ توانائی کے سینئر حکام اور ڈسکام کے منیجنگ ڈائریکٹرز کو طلب کیا گیا ۔ 
شدید گرمی میں بلاتعطل بجلی سپلائی کی ہدایت
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اتوار کو لکھنؤ میں محکمہ توانائی، پاور کارپوریشن اور سبھی بجلی سپلائی کمپنیوں کے افسران کے ساتھ ریاست کی بجلی سپلائی کے نظام کا جائزہ لیا۔ وزیر اعلیٰ نے شدید گرمی اور بڑھتی ہوئی بجلی کی مانگ کو دیکھتے ہوئے شہری اور دیہی علاقوں میں بلا رکاوٹ بجلی سپلائی یقینی بنانے کی ہدایات دیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو دیکھتے ہوئے سبھی پروڈکشن اکائیاں پوری صلاحیت کے ساتھ چلائی جائیں اور ان کے کاموں کی لگاتار نگرانی ہو۔ وزیر اعلیٰ نے ریاست کے ٹرانسمیشن سسٹم کو اور زیادہ مضبوط، جدید اور بھروسہ مند بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے فیڈر سطح پر نگرانی اور جوابدہی طے کرنے کو کہا۔وزیر اعلیٰ نے صاف کہا کہ ٹرانسفارمر خراب ہونے، فیڈر متاثر ہونے یا شکایت کے ازالے میں کسی بھی سطح پر لاپروائی قبول نہیں کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عام لوگوں کو بجلی سپلائی سے جڑی صحیح اور وقت کے مطابق معلومات فراہم کرائی جائیں۔ 
 
 
الہ آباد میں کانگریس کارکنوں کا مظاہرہ
اتر پردیش کے الہ آباد (پریاگ راج) میں شدید گرمی کے درمیان لگاتار ہو رہی بجلی کٹوتی اور ناقص بجلی نظام کے خلاف  کانگریس کارکنوں نے مظاہرہ کیا۔ اس دوران کانگریس لیڈروں اور کارکنوں نے ریاستی حکومت، وزیر توانائی اے کے شرما اور محکمہ بجلی کے افسران کے خلاف نعرے بازی کر کے عام لوگوں کے مسائل اٹھائے۔کانگریس لیڈروں نے الزام لگایا کہ پریاگ راج شہر اور ضلع کے زیادہ تر علاقوں میں لگاتار بجلی کٹوتی ہو رہی ہے جس سے معمولات زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کئی علاقوں میں ٹرانسفارمر پھٹنے یا جلنے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں جن کی مرمت یا تبدیلی میں کئی دن لگ جاتے ہیں۔ اس کے سبب لوگوں کو تین سے چار دنوں تک بجلی کے بغیر رہنا پڑ رہا ہے۔ لیڈروں نے یہ بھی کہا کہ شدید گرمی کی وجہ سے بجلی نہ ملنے سے پینے کے پانی کا بحران گہرا ہوگیا ہے۔ چونکہ زیادہ تر علاقوں میں پانی کی سپلائی بجلی پر منحصر کرتی ہے، اس لئے لمبے وقت تک بجلی منقطع رہنے سے لوگوں کو پانی کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر بچوں، معمر شہریوں اور مریضوں کیلئے بڑھتی ہوئی مشکلات کا ذکر کیا۔ کانگریس لیڈروں نے وزیر توانائی اے کے شرما پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے عوام بجلی کے بحران کا سامنا کررہے ہیں، جبکہ وزیر اور محکمہ جاتی افسران عوام کے مسائل کے حل کے بجائے دیگر پروگراموں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بجلی محکمہ کے افسران اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہے ہیں۔احتجاج کرنے والے لیڈروں نے یہ الزام بھی لگایا کہ بجلی چیکنگ مہم کے نام پر کئی مقامات پر صارفین سے غیر قانونی وصولی کی شکایتیں موصول ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ میں بدعنوانی پھیلی ہوئی ہے اور عام صارف استحصال کا شکار ہو رہا ہے۔کانگریس کارکنوں نے مانگ کی کہ ریاستی حکومت فوری طور پر بجلی کے نظام میں بہتری لائے، جلے ہوئے ٹرانسفارمروں کو جلد بدلے، غیر ضروری بجلی کٹوتی پر روک لگائے اور قصوروار افسران کے خلاف کارروائی کرے۔ ساتھ ہی انتباہ دیا کہ اگر عوام کے مسائل کا حل جلد نہیں ہوا تو تحریک کو اور تیز کیا جائے گا۔
 
 
۲۴؍ گھنٹے بجلی دینے کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہوا: سپریہ شرینیت
کانگریس نے اتوار کو کہا کہ اتر پردیش میں بجلی کی کٹوتی سے ہاہاکار مچا ہوا ہے اور عوام شدید بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ کانگریس کے سوشل میڈیا ڈپارٹمنٹ کی چیئرمین سپریہ شرینیت نے ایک بیان میں کہا کہ اتر پردیش کے تمام۷۵؍ اضلاع میں بجلی کی کٹوتی سے انتہائی سنگین صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ ملک کے ۵۰؍ گرم ترن شہروں میں  سے۲۶؍شہر اترپردیش کے ہیں، لیکن شدید گرمی کے درمیان لوگوں کو۲۴؍ گھنٹے میں صرف ۷،۸؍ گھنٹے ہی بجلی مل پا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ میرٹھ سے لے کر بلیا تک لوگ بجلی کے بحران سے پریشان ہیں اور کئی جگہوں پر لوگ رات کو گھروں سے نکل کر سڑکوں پر سونے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دارالحکومت لکھنؤ تک میں گھنٹوں بجلی غائب رہنے سے اسپتالوں کی خدمات متاثر ہو رہی ہیں۔ ایکس رے اور اسکین جیسی سہولیات ٹھپ ہو گئی ہیں۔ کانپور دیہات کے میڈیکل کالج کے طلبا کو دیر رات تک بجلی نہ ملنے کے سبب دھرنے پر بیٹھنا پڑا۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ بجلی کے بحران کا اثر طالب علموں کی پڑھائی پر بھی پڑ رہا ہے، کیونکہ موبائل فون تک چارج نہیں ہو پا رہے ہیں۔بی جےپی حکومت کا ۲۴؍ گھنٹے بجلی سپلائی کا وعدہ پوری طرح جھوٹا ثابت ہوچکا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK