Inquilab Logo Happiest Places to Work

عیدالفطر، اَدبی روایات اور تہذیبی قدریں

Updated: April 03, 2026, 2:01 PM IST | shamim Tariq | mumbai

اسی ممبئی میں ایک دور تھا جب عید الفطر کے موقع پر نہایت عمدہ اور شاندار مشاعرے نیز ادبی نشستیں منعقد ہوا کرتی تھیں۔ وقت کے ساتھ سب کچھ بدل چکا ہے۔ اب نشستیں اور مشاعرے ہوتے بھی ہیں تو ویسے نہیں۔

INN
آئی این این
موجودہ ممبئی جو کبھی عروس البلاد ممبئی کہلاتی تھی ابھی چالیس پچاس سال پہلے تک تخلیق کاروں  کی پناہ گاہ تھی۔ تعلیم و تعلم سے فراغت کے بعد اپنی ضرورتیں  پوری کرنے کیلئے اُردو ادیب و شاعر اور استاذ اِدھر کا رُخ کرتے تھے۔ علامہ آرزو، شکیل بدایونی، مجروح سلطانپوری، کیفی اعظمی وغیرہ یوپی سے، حسرت جے پوری راجستھان سے، ساحر  اور دیگر پنجاب سے یہاں  ایسے آئے کہ یہیں  کے ہو کر رہ گئے۔ کچھ ایسے بھی ہیں  جیسے منشی پریم چند، جوش اور مجاز و خمار جو یہاں  آئے تو مگر یہاں  کے ماحول سے نباہ نہیں  کرسکے اور واپس چلے گئے۔ یہاں  مشاعرے بھی خوب ہوا کرتے تھے۔ عیدالفطر، یوم جمہوریہ، ہولی،  مختلف مواقع تھے جب ادب کی محفلیں  سجائی جاتی تھیں ۔ چند بڑے مشاعروں  کے علاوہ بڑی تعداد میں  جگہ جگہ شعری نشستیں  بھی منعقد ہوتی تھیں ۔ لیکن پھر ایسا ہوا کہ بڑے مشاعروں  پر تفریح کا عنصر اور گلی کوچوں  میں  منعقد ہونے والی شعری نشستوں  پر وہ عناصر غالب آتے چلے گئے جو شاعر تو نہیں  تھے مگر ’استاذ کی عطا‘ سے یا چوری کرکے محفلوں  میں  شعر سناتے اور پھر دعویٰ کرتے تھے کہ ’شاعر اعظم‘ وہی ہیں ۔ عید میلادالنبیؐ کے موقع پر تو اتنی نعتیہ نشستیں  ہوتی تھیں  کہ شاعر کیلئے فیصلہ کرنا مشکل ہوتا تھا کہ وہ کہاں  کہاں  اور کیسے پہنچے؟ 
پھر ایسے لوگوں  کا عروج ہونا شروع ہوا جو کچھ روپے دے کر یا کسی قسم کا جھانسہ دے کر مشاعروں  اور شعری نشستوں  کے ڈائس پر قبضہ کیا کرتے تھے۔ قوالی اور غزل گائیکی کے پروگرام بھی شہر میں  خوب ہوتے تھے لیکن پہلے تو گائیکی کی محفلیں  اور قوالی سے سماع کی محفلوں  کی کیفیت اور پھر مشاعرے اور شعری نشستوں  کے انعقاد کی روایت بھی عنقا ہوتی گئی۔ عیداب بھی عید جیسی منائی جاتی ہے، شیر خورما اور سوئیاں  بھی کھائی جاتی ہیں  مگر شعری نشستیں  منعقد نہیں  کی جاتیں ۔ عید کی تہذیبی اور ادبی حیثیت کو اجاگر کرنے والے اشعار بھی لوگوں  کے ذہنوں  میں  کم کم ہی رہ گئے ہیں ۔ خود مجھ سے پوچھا جائے تو شاید میں  بھی دو چار شعروں  اور مصرعوں  سے زیادہ نہ پڑھ سکوں ۔ مگر مجھ میں  اور دوسروں  میں  فرق یہ ہے کہ مَیں  بھیک یا چوری کے اجالوں  سے ادب کی رہگزر کو منور کرنے کا دعویٰ نہیں  کرتا۔
بات بھیک کی آئی تو اس سلسلے میں  ڈکیتی کا ایک واقعہ یاد آیا جس کے راوی قاضی وصی احمد آوارہ سلطانپوری ہیں ۔ موصوف نے عیدالفطر  پر منعقد ہونے والے ایک مشاعرہ کا حال بیان کرتے ہوئے بتایا کہ جب ایک شیروانی پوش شاعر نے چوری کی غزلیں  سنانا شروع کیں  اور یہ سلسلہ کچھ طویل ہوگیا تو سامعین کا دامن ِ صبر بھر گیا اور ایک صاحب نے شاعر صاحب کا پائجامہ پکڑ کر کھینچا جس سے ان کا ازار بند ٹوٹ گیا مگر وہ ایک ہاتھ سے پائجامہ اور دوسرے سے ڈائری پکڑے ہوئے شعر سناتے رہے بالآخر ایک صاحب نے وہ دیوان انہیں  دکھا دیا جس میں  وہ غزل چھپی ہوئی تھی۔ دیوان کسی اور کا تھا۔ دیوان دیکھتے ہی وہ اس شاعر کو اسٹیج سے ہی اول فول بکنے لگے جس نے وہ غزل ان کو معاوضہ لے کر عطا کی تھی۔
ایک اور واقعہ انہوں  نے ہی بیان کیا  تھا کہ ایک دولتمند شخص دوسروں  سے قیمتاً غزلیں  خریدتا اور مشاعروں  میں  سناتا تھا۔  بعد میں  ان صاحب نے ان غزلوں  کو کلیات یا دیوان کی صورت میں  شائع کرنے کا ارادہ کیا اور صرف یہ طے کرنے کیلئے کہ دیوان یا کلیات کا نام کیا ہو انہوں  نے دعوتِ طعام کا اہتمام کیا۔ ایک سے ایک بامعنی نام تجویز ہوئے مگر انہوں  نے اس نام سے اتفاق کیا جو ایک شاعر نے تفریحاً تجویز کیا تھا اور جو بے معنی تو تھا ہی فحش بھی تھا۔ ایک صاحب یہی نہیں  کہ شعر کہتے نہیں  تھے بلکہ پڑھ بھی نہیں  سکتے تھے میں  ان کے بارے میں  انہیں  سے کہتا تھا کہ ’’لڑتے ہیں  اور ہاتھ میں  تلوار بھی نہیں ‘‘ تو خوش ہوتے۔ دوسرے شعراء میں  اکثریت ان کی تھی جو لفظوں  کو جوڑ کر مصرع بنانے کا ہنر جانتے تھے۔ شعر کہنے اور دیر تک اپنا تاثر چھوڑنے میں  جو چند نام لئے جاسکتے ہیں  وہ محمود درانی، ظفر گورکھپوری، قیصر الجعفری اور عبد الاحد ساز تھے۔ جو شعراء ترنم یا فیشن زدگی کا شکار تھے ان میں  بھی سب کامیاب نہیں  تھے۔ مظفر شاہجہاں  پوری، کامل چاند پوری وغیرہ ترنم کی وجہ سے مدعو کئے جاتے تھے۔ ان سے بھی پہلے یہ حیثیت محشر امروہوی کو حاصل تھی۔ مائل لکھنوی اور نشتر ترکی سنجیدہ شعروں  کے ساتھ ایسے شعر بھی کہتے تھے جو چراغ گل کرکے ہی نشستوں  میں  سنے جاتے تھے۔ 
ایک روز عیدالفطر کی چھٹیوں  میں  خاکسار علامہ پرتو کے صاحبزادے جناب نوا لکھنوی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ایک صاحب نے اصرار کیا کہ گھر چلئے اور کھانا تناول فرمائیے۔ ’’دل بدست آور کہ حج اکبر ست‘‘ کے مصداق ہم دونوں  ان کے گھر گئے۔ یہاں  یہ بتا دوں  کہ نوا صاحب عروض داں  ہونے کے ساتھ زباں  داں  بھی تھے اور ایک بار میری ان سے توٗ توٗ مَیں  مَیں  ہوچکی تھی۔ ہوا یہ تھا کہ انہوں  نے کچھ کہا اور مَیں  نے اسی لہجے میں  جواب دیا تو کہنے لگے ’’کیا کرو گے!‘‘ میں  نے اُن کے نام ’’نوا‘‘ کی مناسبت سے جواب دیا کہ ’و‘ پر تشدید لگا دوں  گا۔ بہرحال ہم دونوں  کو اپنے ساتھ گھر لے جانے والے صاحب  نے انواع و اقسام کے کھانے تو کھلائے مگرپھر الٹے سیدھے شعر سنانے لگے۔ بحر کی بھی خرابی تھی مگر ہم دونوں  کڑوا گھونٹ پی کر ان کا شعر سنتے اور جھوٹی داد دیتے رہے لیکن جب انہوں  نے یہ دعویٰ کیا کہ مَیں  نے تمام قوافی باندھ دیئے ہیں ، کوئی ان میں  اضافہ نہیں  کرسکتا تو مجھ سے رہا نہیں  گیا۔ ان کے اشعار کا قافیہ تھا عید، دید.... وغیرہ مَیں  نے کہا کہ جناب آپ نے تو ’لید‘ کا قافیہ باندھا ہی نہیں ؟  میزبان نے کہا کہ سب کچھ کھایا پیا آپ نے غلاظت میں  ملا دیا۔ مَیں  نے جواب دیا کہ انسان مرغ بریانی کھائے یا متنجن سب کا مقدر غلاظت میں  تبدیل ہوجانا ہے آپ کو برا ماننے کی کیا ضرورت ہے۔ بعد میں  نوا صاحب نے عروض و قوافی کی غلطیوں  پر تفصیل سے روشنی ڈالی مگر وہ اپنی ’استاذی‘ پر ڈٹے رہے۔
عیدالفطر پر ان لوگوں  کے ساتھ جو تجارت و ملازمت کے سلسلے میں  پردیس کو آباد کئے ہوئے ہیں ، گھر خاندان کے لوگ اور احباب جمع ہوتے تھے۔ ایسے ہی ایک موقع پر کسی نے کسی کو استاد کہہ دیا۔ ایک بزرگ نے ناصحانہ انداز میں  پوچھا کہ اسکول و مدرسہ میں  پڑھانے والے بھی استاد اور کھانا پکانے، طبلہ بجانے یا کوئی فن سکھانے والے بھی ’استاد‘؟ جس سے یہ غلطی ہوئی تھی اس نے محسوس کیا اور پھر ادباً جواب دیا کہ مَیں  نے یوں  ہی ’بے نقط‘ اڑا دیا تھا۔ اب کتنے لوگ ہیں  جو بے نقط اڑانے کا معنی جانتے ہیں ؟ جب استادی کرنے والے بہت ہوجائیں  تو یہی ہوتا ہے۔ بے نقط اڑانے کا مطلب اُلو، سوّر یا گدھا کہنا ہے۔ یوں  عیدالفطر پر ایک تہذیب استوار ہوتی تھی اور زبان و بیان کی اصلاح کی صورت نکلتی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK