Inquilab Logo Happiest Places to Work

فرٹیلائزر کمپنیوں کو بڑی راحت، پیٹروکیمیکل پر ڈیوٹی معاف

Updated: April 03, 2026, 3:36 PM IST | Mumbai

ایران جنگ کے سبب زراعت کو درپیش مسائل کے پیش نظر حکومت کا اہم اقدام ، ۳۰؍ جون ۲۰۲۶ء تک چھوٹ جاری رہے گی۔

If fertilizer becomes expensive, it could pose a problem for agriculture. Photo: INN
فرٹیلائزر مہنگا ہوا تو زراعت کیلئے مشکل کھڑی ہو سکتی ہے۔ تصویر: آئی این این

ایران  جنگ سے پیدا ہوئے عالمی بحران کو پیش نظر رکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے فرٹیلائزر کمپنیوں کو بڑی راحت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کے ذریعہ امونیم نائٹریٹ پر کسٹم ڈیوٹی میں چھوٹ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔  اطلاع کے  مطابق کئی پیٹروکیمیکل پر کسٹم ڈیوٹی سے چھوٹ ملے گی۔ یہ رعایت ۲؍ اپریل تا ۳۰؍ نافذ رہے گی۔

حکومت نے کھاد اور کیمیکل انڈسٹری کو راحت دیتے ہوئے کئی اہم خام مال پر کسٹم ڈیوٹی کو صفر کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیاگیا ہے جب عالمی سطح پر جنگ اور سپلائی بحران کے سبب انڈسٹری پر خرچ کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ وزارت مالیات کی طرف سے جاری گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق تقریباً ۴۰؍ پیٹروکیمیکل خام مال اور انٹرمیڈیٹس کی درآمدات پر کسٹم ڈیوٹی کو ختم کر دیا گیا ہے۔  اس میں امونیم نائٹریٹ، متھنال، فنال، پی وی سی، پالی پروپائلین جیسے کئی اہم کیمیکل شامل ہیں۔ حکومت کا ماننا ہے کہ یہ قدم عوام کے مفاد میں اٹھایا گیا ہے، جس سے انڈسٹری کو موجودہ عالمی بحران میں راحت مل سکے گی۔ حکومت کے اس فیصلہ سے خصوصاً فرٹیلائزر کمپنیوں کو بڑی مدد ملنے کی امید ہے، کیونکہ امونیم نائٹریٹ جیسے کیمیکل کھاد بنانے میں اہم کردار نبھاتے ہیں۔ اس سے پروڈکشن لاگت میں کمی آئے گی اور سپلائی چین پر دباؤ بھی گھٹے گا۔

یہ بھی پڑھئے: ہماچل: دودھ کی امدادی قیمت میں اضافہ سے ڈیری کے کار و بار یوں میں نئی امید

امونیم نائٹریٹ پر لگنے والے ایگریکلچر انفراسٹرکچر اینڈ ڈیولپمنٹ سیس کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ اس سے فرٹیلائزر سیکٹر کو اضافی فائدہ ملے گا۔ مجموعی طور پر حکومت کا یہ قدم انڈسٹری کیلئے ’کاسٹ ریلیف پیکیج‘ کی طرح دیکھا جا رہا ہے، جس سے موجودہ عالمی غیر یقینی حالات کے بیچ پروڈکشن اور سپلائی کو بنائے رکھنے میں مدد ملے گی۔جن کیمیکل کو چھوٹ میں شامل کیا گیا ہے، ان میں بیسک انڈسٹریل کیمیکلز ہیں۔ پیٹروکیمیکلز اور پلاسٹک خام مال پر بھی ڈیوٹی ہٹائی گئی ہے، جس کا استعمال پیکیجنگ، آٹوموبائل، الیکٹرانکس اور کنزیومر گڈس سیکٹر میں ہوتا ہے۔ ہائی اینڈ انجینئرنگ میٹریل کا استعمال ایئرواسپیس، ڈیفنس، میڈیکل ڈیوائس اور الیکٹرانکس میں ہوتا ہے۔ کئی کیمیکلز مینوفیکچرنگ کے عمل، پی وی سی پائپ، پینٹ، کوٹنگ اور انسولیشن میٹریل میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ آٹو موبائل انڈسٹری کے لیے پلاسٹک پارٹس، سیٹ فوم بنانے میں بھی انہی کیمیکلز کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جن مصنوعات پر ڈیوٹی ہٹائی گئی ہے، ان میں اہم کیمیکل کا استعمال فارماسیوٹیکل سیکٹر میں ہوتا ہے، جس سے دوائیوں کے پروڈکشن میں آسانی بنی رہے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK