بہار کے وزیر اعلیٰ کی سمردھی یاترا انتظامیہ کیلئے بھی ایک امتحان ہے۔ سڑک، اسکول، اسپتال اور سرکاری دفاترسب کچھ اس یاترا کے دوران عوام کی نظر میں ہے۔
EPAPER
Updated: January 29, 2026, 5:50 PM IST | Dr Mushtaq Ahmed | Mumbai
بہار کے وزیر اعلیٰ کی سمردھی یاترا انتظامیہ کیلئے بھی ایک امتحان ہے۔ سڑک، اسکول، اسپتال اور سرکاری دفاترسب کچھ اس یاترا کے دوران عوام کی نظر میں ہے۔
بہار کی سیاست میں ان دنوں ایک بار پھر سرگرمی اور گہماگہمی نظر آ رہی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی قیادت میں جاری سمردھی یاترا محض ایک سرکاری مہم نہیں بلکہ ایک سیاسی، سماجی اور انتظامی عمل ہے جس کے دور رس اثرات بہار کی سیاست پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ واضح ہو کہ اسمبلی انتخاب کے بعد نتیش کمار کی قیادت میںحکومت تشکیل پائی ہے لیکن اس بار کا سیاسی منظر نامہ قدرے تبدیل ہے کہ اسمبلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبران کی تعداد جنتا دل یو سے زیادہ ہے اس لئے اس بار نتیش کمار کئی طرح کے دبائو میں بھی ہیں اس کا اثر انتظامیہ میں دیکھنے کو بھی مل رہاہے۔
بہر کیف! نتیش کمار نے ۱۶؍جنوری سے ۲۴؍جنوری تک پہلے مرحلہ میں چھ اضلاع میں اپنی سمردھی یاترا شروع کی تھی جو اب ختم ہوگئی ہے اور دوسرے مرحلے کا پروگرام بھی جلد ہی شروع ہونے والا ہے۔ پہلے مرحلہ میں بیتیا، مشرقی چمپارن، سیتا مڑھی، شیوہر، گوپال گنج، سارن، سیوان، مظفرپور اور ویشالی کا انہوں نے دورہ کیاہے۔ یہ یاترا ترقی کے بیانیے، حکومتی کارکردگی کے جائزے اور عوامی رابطے کی ایک جامع کوشش کے طور پر سامنے آئی ہے۔لفظ سمریدھی اپنے اندر خوشحالی، ترقی، استحکام اور معاشی بہتری کے مفہوم سموئے ہوئے ہے۔ سمریدھی یاترا کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا براہِ راست عوامی رابطہ ہے۔ نتیش کمار خود ضلعوں، بلاکوں اور دیہی علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں، ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ہندوستانی سیاست میں یاترا ہمیشہ سے ایک مؤثر ذریعہ رہی ہے۔چاہے وہ جے پرکاش نارائن کی تحریک ہو یا لالو پرساد یادو کی عوامی سیاست، یا پھر قومی سطح پر مختلف رہنماؤں کی سیاسی یاترائیں۔نتیش کمار کی سمریدھی یاترا اس روایت کو ایک انتظامی رنگ دے رہی ہے، جہاں سیاست اور گورننس ایک دوسرے سے جڑی نظر آتی ہیں۔ اس سمریدھی یاترا کے دوران حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بہار نے گزشتہ برسوں میں ترقی کے کئی اہم مراحل طے کیے ہیں۔دیہی سڑکوں کا جال،بجلی کی رسائی میں اضافہ ، اسکولوں میں لڑکیوں کی حاضری،پنچایتی نظام میں خواتین کی شمولیت۔یہ تمام نکات بہار کے سیاسی بیانیے میں اہم رہے ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ ترقی ہر طبقے تک یکساں طور پر پہنچی ہے؟ یاترا کے دوران عوامی شکایات، مسائل اور مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں، جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ترقی کا سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔ہاں اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ نتیش کمار کے ذریعہ گزشتہ دودہائیوں میں ان یاترائوں کے ذریعہ مقامی سطح کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے اور چوں کہ ان کی یاترا میں ریاست کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ضلع انتظامیہ بھی ساتھ ہوتی ہے اس لئے بہت سے ایسے چھوٹے بڑے مسائل حل بھی ہو جاتے ہیں۔ لیکن حزب اختلاف کے لیڈران کا موقف ہے کہ اب تک جتنی یاترائیں ہوئی ہیں اور جتنے اعلانات و سنگِ بنیاد رکھے گئے ہیں اس کا بھی محاسبہ کیا جانا چاہئے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ سمردھی یاترا کو بہار کی بدلتی ہوئی سیاسی صف بندی سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ نتیش کمار کی سیاسی زندگی اتحاد، مفاہمت اور وقت کے ساتھ حکمتِ عملی بدلنے کی مثال رہی ہے۔ ایسے میں یہ یاترا صرف ترقیاتی رپورٹ کارڈ پیش کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ سیاسی اعتماد کی بحالی کی کوشش بھی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اس یاترا کو سرکاری وسائل کے سیاسی استعمال سے تعبیر کر رہی ہیں، جبکہ حکمراں طبقہ اسے عوامی خدمت کا فطری حق قرار دیتا ہے۔ سچ شاید ان دونوں کے بیچ کہیں موجود ہے۔سمریدھی یاترا میں سب سے اہم سوال نوجوانوں کے روزگار کا ہے۔ بہار کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، جن کے لئےتعلیم کے بعد روزگار کے مواقع ایک سنگین مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ اگرچہ حکومت اس حوالے سے مختلف اسکیموں کا ذکر کرتی ہے، مگر زمینی سطح پر ہجرت کا مسئلہ آج بھی برقرار ہے۔یہ یاترا اگر واقعی سمریدھی کا راستہ ہموار کرنا چاہتی ہے تو اسے نوجوانوں کے مستقبل پر ٹھوس اور قابلِ عمل منصوبہ پیش کرنا ہوگا۔
نتیش کمار کی سیاست میں خواتین کو مرکزی مقام حاصل رہا ہے۔ شراب بندی، پنچایتوں میں پچاس فیصد ریزرویشن اورسرکاری نوکریوں میں لڑکیوںکو ۳۵؍فیصد ریزرویشن کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کی تعلیم جیسے اقدامات کو ان کی بڑی کامیابیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ سمریدھی یاترا میں خواتین کی بڑی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ سماجی تبدیلی کا یہ پہلو بہار کی سیاست میں گہرے اثرات رکھتا ہے۔تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا سماجی اصلاحات کو معاشی خود کفالت سے جوڑا جا سکا ہے یا نہیں۔سمریدھی یاترا انتظامیہ کے لئے بھی ایک امتحان ہے۔ سڑک، اسکول، اسپتال اور سرکاری دفاترسب کچھ اس یاترا کے دوران عوام کی نظر میں ہے۔ کہیں تعریف ہو رہی ہے تو کہیں تنقید بھی سامنے آ رہی ہے۔سمریدھی یاترا بہار کی سیاست میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ یاترا ترقی کے دعوؤں، عوامی مسائل، سیاسی حکمتِ عملی اور انتظامی کارکردگی ،سب کا ایک ساتھ جائزہ پیش کرتی ہے۔ نتیش کمار کے لئے یہ محض ایک سفر نہیں بلکہ اپنے طویل سیاست کا ایک اور امتحان ہے۔آخرکار، سمریدھی یاترا کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ نہ تو نعروں سے ہوگا، نہ اعداد و شمار سے بلکہ اس بات سے ہوگا کہ آیا بہار کا عام شہری خود کو اس ترقی کا حصہ محسوس کرتا ہے یا نہیں۔میرے خیال میں دو دہائیوں سے نتیش کمار اقتدار میں ہیں اور اب تک انہوں نے ۱۶؍یاترائیں کی ہیں اور ہر ایک یاترا کے بعد ان کی سیاسی شبیہ مستحکم ہوئی ہے اور عوام کے درمیان ان کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہواہے جس کا نتیجہ ہے کہ بہار کی سیاست میں نتیش کمار کی شخصیت گزشتہ دو دہائیوں سے محور ومرکز کی حیثیت حاصل کرچکی ہے اور کوئی بھی سیاسی جماعت ان کے مدمقابل کھڑی نظر نہیں آرہی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ وہ اتحادی حکومت کے ذریعہ ہی اقتدار میں قائم ہے مگر شخصی طورپر وہ عوام میں دن بہ دن قبولیت کا درجہ حاصل کرتے رہے ہیں اور یہ یاترا بھی ان کی سیاسی حکمت عملی کا ہی ایک حصہ ہے۔