کشمیر کے دستکاری اور قالین صنعت کے لیے یورپ سب سے بڑا بازار ہے۔ ایسے میں ہند-یوروپی یونین (ای یو) کے فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) سے کشمیر کے ہینڈی کرافٹ اور قالین صنعت کے لیے برآمدات کے مواقع بڑھ جائیں گے۔
EPAPER
Updated: January 28, 2026, 9:00 PM IST | New Delhi
کشمیر کے دستکاری اور قالین صنعت کے لیے یورپ سب سے بڑا بازار ہے۔ ایسے میں ہند-یوروپی یونین (ای یو) کے فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) سے کشمیر کے ہینڈی کرافٹ اور قالین صنعت کے لیے برآمدات کے مواقع بڑھ جائیں گے۔
کشمیر کے دستکاری اور قالین صنعت کے لیے یورپ سب سے بڑا بازار ہے۔ ایسے میں ہند-یوروپی یونین (ای یو) کے فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) سے کشمیر کے ہینڈی کرافٹ اور قالین صنعت کے لیے برآمدات کے مواقع بڑھ جائیں گے۔ یہ معلومات بدھ کے روز ماہرین کی جانب سے دی گئی۔
قالین برآمدات پروموشن کونسل میں ایڈمنسٹریشن کمیٹی کے رکن شیخ عاشق نے کہا کہ ہندوستا-یورپی یونین کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ ہونا کافی مثبت قدم ہے۔ کشمیر کے ہینڈی کرافٹ اور قالین صنعت کے لیے یورپ سب سے بڑا بازار ہے، اور اس معاہدے سے کشمیر کے برآمد کنندگان کے لیے مواقع میں اضافہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:فوجی افسر کی بیوی کا کردار ایک منفرد تجربہ : چترانگدا سنگھ
ٹیکسٹائل کمپنی الوک انڈسٹریز کے ڈائریکٹر انل راجونشی نے ہندوستان -ای یو ایف ٹی اے پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کے لیے ایک بہت اچھا معاہدہ ہے۔ اس سے لیدر، کپڑا اور زیادہ مزدوری استعمال کرنے والی صنعتوں کو یورپ میں برآمدات بڑھانے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے سے ہندوستانی برآمد کنندگان کو یورپ کے ۲۷؍ ممالک کے بازاروں تک براہِ راست رسائی حاصل ہوتی ہے اور ان ممالک کے بازاروں کا حجم ۲۰؍ ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے۔ اسی وجہ سے ہندوستان -ای یو معاہدے کو’’مدر آف آل ڈیلز‘‘ کہا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:جدید کرکٹ کے دباؤسے ٹیسٹ فارمیٹ متاثر ہو رہا ہے: راہل دراوڑ
راجونشی نے بتایا کہ پچھلے ۱۰؍برسوں میں اتنے دوطرفہ معاہدے ہوئے ہیں، جتنے پچھلے ۴۰؍ سالوں میں نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہندوستان مستقبل میں امریکہ کے ساتھ بھی ایسے معاہدے کرے گا۔اس سے قبل پولی میڈیکور کے ایم ڈی اور سی ای او ہنماش وید نے کہا کہ ہندوستان -یوروپی یونین کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ ہونا ملک کے لیے ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس سے یورپ کے ۲۷؍ ممالک کے بازار ہندوستانی برآمد کنندگان کے لیے کھل گئے ہیں۔ ساتھ ہی ہندوستان کو یورپی بازاروں میں ویتنام، بنگلہ دیش، تھائی لینڈ، ملائیشیا اور سری لنکا جیسے ممالک کے ساتھ مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی۔