عدم اعتماد کی نوٹس پر ۱۱۸؍ اراکین پارلیمان کے دستخط ہیں۔ ان ۱۱۸؍ اراکین میں ترنمل کانگریس اور آپ پارٹی کا کوئی رکن نہیں ہے مگر اس لئے نہیں کہ وہ وسیع تر اتحاد کی مخالف ہے بلکہ اس لئے کہ وہ چاہتی ہے کہ اسپیکر کو تین دن کی مہلت دی جائے اور وہ اپنی اصلاح نہ کریں تو عدم اعتماد کا نوٹس دیا جائے۔
ہمارے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی نوٹس تو دی گئی ہے مگر اس تحریک کے منظور کئے جانے کے امکانات نہیں ہیں حالانکہ عدم اعتماد پیش کئے جانے کی روایت برطانوی ہاؤس آف کامنس میں بھی رہی ہے اور ہندوستانی پارلیمنٹ میں بھی۔ برطانوی ہاؤس آف کامنس کا ذکر اس لئے ضروری تھا کہ ہندوستان میں لوک سبھا کا انتظام اسی کے طرز پر چلایا جاتا ہے۔ جان ایولِن ڈینی سن ۱۸۵۷ء سے ۱۸۷۲ء تک اس کے اسپیکر رہے۔ ۱۸۶۷ء میں ٹرینی کالج ڈبلن سے متعلق ایک معاملے میں بحث ہوئی اور جب ووٹ ڈالے گئے تو موافقت اور مخالفت میں برابر ووٹ ڈالے گئے تھے ایسی صورت میں فیصلہ اسپیکر کے ووٹ سے کیا جانا تھا اور آج بھی کیا جاتا ہے۔ ڈینی سن نے مسودۂ قانون کی مخالفت میں ووٹ دیا حالانکہ ان کی رائے اس مسودہ قانون کے حق میں تھی۔ انہیں صرف یہ بتانا تھا کہ ایسے کسی معاملے میں اسپیکر کے ووٹ سے فیصلہ نہ کیا جائے بلکہ مزید غور و فکر اور بحث و تکرار کی جائے۔ برطانیہ میں اب سیاسی پارٹیاں یا پارلیمانی سیاسی پارٹیاں اسپیکر کے خلاف بھی اپنے امیدوار کھڑے کرنے لگی ہیں مگر پہلے ایسا نہیں تھا۔ البتہ یہاں اسپیکر منتخب ہونے کے بعد اسپیکر کے عہدے کے لئے منتخب شخص کے اپنی سیاسی پارٹی سے مستعفی ہوجانے کی روایت اب بھی برقرار ہے۔
ہندوستان میں اسپیکر کے عہدے کے لئے منتخب شخص اپنی پارٹی سے استعفیٰ نہیں دیتا۔ مثالیں تو بہت ہیں مگر حافظے میں محفوظ رہ جانے والی ایک مثال یہ ہے کہ ۲۰۰۸ء میں سوم ناتھ چٹرجی پارلیمنٹ کے اسپیکر تھے۔ ان کی پارٹی مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی نے حکومت سے اپنی پارٹی کی تائید واپس لے لی اور سوم ناتھ چٹرجی سے کہا کہ وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیں مگر سوم ناتھ نے ایسا نہیں کیا نتیجتاً اپنی پارٹی سے برخاست کئے گئے۔ ان کا موقف تھا کہ وہ کسی پارٹی کے نہیں ایوان کے صدر ہیں لہٰذا ان کے لئے ضروری نہیں کہ وہ استعفیٰ دیں ۔ اگر وہ پارٹی کے کہنے پر مستعفی ہوتے تو ان کے فیصلوں پر جانبداری کے الزامات عائد کئے جاسکتے تھے۔ اس سے بھی پہلے ۱۸؍ دسمبر ۱۹۵۴ء کو یعنی پہلی لوک سبھا میں جہان آباد کے سوشلسٹ رکن وگیشور مشرا نے ایوان کے اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی مگر تعداد کم ہونے کے سبب وہ تحریک منظور نہیں ہوئی۔ عدم اعتماد کی تحریک اسی وقت پیش کی جاتی ہے جب اراکین یا کسی خاص رکن کو شکایت ہو کہ اس کو بولنے نہیں دیا گیا۔
اس مرتبہ بھی تحریک اعتماد اس لئے پیش کی گئی ہے کہ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ہم نواؤں کو محسوس ہوا کہ ان کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے اور بار بار کی کوشش کے باوجود ان کو بولنے نہیں دیا گیا ہے۔ راہل گاندھی سابق آرمی چیف (فوجی سربراہ) جنرل ایم ایم نرونے کی یادداشت ’فور اسٹار آف ڈیسٹنی‘ کے حوالے سے بولنا چاہتے تھے یا وہ باتیں بولنا چاہتے تھے جو اس کتاب میں ہیں ۔ انہوں نے جنرل نرونے کی ۲۰۲۳ء کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کا حوالہ بھی دیا مگر حکومت کا موقف تھا کہ جو کتاب چھپی ہی نہیں ہے یا چھاپنے کی منظوری بھی نہیں دی اس کے لئے اس کو گھیرا جانا صحیح نہیں ہے مگر ایک طبقے کا موقف یہ ہے کہ کتاب منظوری کے بعد چھاپی گئی ہو یا منظوری کے بغیر مگر جنرل نرونے کی یہ پوسٹ موجود ہے کہ یہ کتاب اب دستیاب ہے اور اس میں ۲۰۲۰ء کی گلوان وادی کی جھڑپ کی تفصیلات بھی موجود ہیں تو اس کو کیسے نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔ بہرحال یہی تعطل اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی نوٹس تک پہنچا۔ اوم برلا نے کارروائی شروع ہونے سے پہلے ہی خود کو اس نوٹس پر کارروائی سے الگ کر لیا جس کو اچھا مانا گیا اور ان کے اس قدم کی تعریف ہوئی۔
عدم اعتماد کی نوٹس پر ۱۱۸؍ اراکین پارلیمان کے دستخط ہیں ۔ ان ۱۱۸؍ اراکین میں ترنمل کانگریس اور آپ پارٹی کا کوئی رکن نہیں ہے مگر اس لئے نہیں کہ وہ وسیع تر اتحاد کی مخالف ہے بلکہ اس لئے کہ وہ چاہتی ہے کہ اسپیکر کو تین دن کی مہلت دی جائے اور وہ اپنی اصلاح نہ کریں تو عدم اعتماد کا نوٹس دیا جائے۔ مگر اب صورتحال بدل رہی ہے۔ ترنمل کانگریس کو گیانیش کمار کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانا ہے اس کے لئے اس کو تمام سیاسی پارٹیوں کی ضرورت ہے مگر ہر سیاسی پارٹی جانتی ہے کہ ۲۰۲۲ء میں ترنمل کانگریس نے نائب صدر کے انتخاب کا بائیکاٹ کرکے ایک طرح سے جگدیپ دھنکر کی فتح کو آسان بنایا تھا۔ جگدیپ دھنکر کامیاب ہو کر نائب صدر کے عہدے پر فائز تو ہوگئے تھے مگر بعد میں انہیں مستعفی ہونے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ اس بار اس کا گیانیش کمار کو ہٹانے کا خواب شاید شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکے۔ اس لئے کہ اپوزیشن کا متحد ہونا مشکل ہے اور دوم یہ کہ حکمراں محاذ کی انہیں یعنی اوم برلا کو بھرپور حمایت حاصل ہے۔ یوں بھی عدم اعتماد کی اس تحریک کو اسپیکر کی جانبداری کے خلاف اپوزیشن کے علامتی احتجاج کی حیثیت سے دیکھا جا رہا ہے۔ اسپیکر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہیں یا نہیں ؟ اس سلسلے میں الگ الگ لوگوں کی الگ الگ رائے ہے۔ لیکن معاملہ یہ ہے کہ ہندوستان کی جس جمہوریت میں ہم رہتے ہیں اس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے اس لئے یہ کہا جا رہا ہے کہ عدم اعتماد کا نوٹس تو قبول ہوا ہے مگر اس تحریک کو منظور کیا جانا مشکل ہے کیونکہ اپوزیشن اراکین کے دستخط مطلوبہ تعداد میں نہیں ہیں ۔ ویسے زیادہ تعداد میں اراکین کا دستخط کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسپیکر کے رویے سے تمام اراکین مطمئن نہیں ہیں اور محض زیادہ تعداد میں تائید و حمایت کرنے والوں کی وجہ سے ان کا عہدے پر ہونا Majorityism ہے اصل جمہوریت نہیں ہے۔ اسپیکر کا فرض ہے کہ غیر جانبداری کا مظاہرہ کرے، وہ چاہے جو کہیں مگر یہ سوچنا ضروری ہے کہ ان کے طرز عمل سے خفا ہو کر اراکین نے کیوں عدم اعتماد کی تحریک کا نوٹس دیا ہے۔ ظاہر ہے اس میں تبدیلی لایا جانا ضروری ہے۔ یہی عدم اعتماد کے نوٹس کا مقصد بھی ہے۔