نیتن یاہو اور ٹرمپ ایک عرصے سے جس رجیم چینج کا خواب دیکھ رہے تھے انہیں لگا کہ اس کے شرمندہ ٔ تعبیر ہونے کا وقت آگیا ہے لیکن آیت اللہ خامنہ ای اور صف ِ اول کے سیاسی اور فوجی لیڈروں کی شہادت کے باوجود ایران کے بلند حوصلے کے سامنے اسرائیل اور امریکہ کو متنبہ ہوجانا چاہئے کہ ایران نرم چارہ نہیں ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کااصول ہے کہ دو ممالک کے درمیان کسی تنازع کے حل کے لئے اگر مذاکرات ہورہے ہوں تو ان کے ناکام ہوجانے کی صورت میں ہی جنگ ہوتی ہے اور وہ بھی سخت ضابطوں کی پاسداری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اجازت کے بعد۔ستم ظریفی دیکھئے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات جب پچھلے ہفتے کامیابی کی دہلیز پر پہنچ گئے تو ٹرمپ نے جنگ کا بگل بجادیا۔ عمان کے وزیر خارجہ بدر ابوسعیدی نے یہ انکشاف کیا کہ جمعرات کے دن جینوا میں تیسرے دور کے مذاکرات میں دونوں فریق ایک نئے جوہری ڈیل کے قریب پہنچ گئے تھے۔ایران اس بات پر راضی ہوگیا تھا کہ وہ افزودہ یورینیم کی ذرا سی مقدار بھی اپنے پاس نہیں رکھے گا۔ ایران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA)کے ذریعہ اپنی جوہری تنصیبات کی مکمل اور جامع جانچ پڑتال کے لئے بھی تیار ہوگیا تھا۔ ٹرمپ جوہری معاہدہ پر دستخط کرکے امریکہ کی فتح کا اعلان کرسکتے تھے لیکن انہوں نے مفاہمت اور امن کا راستہ چننے کی بجائے تصادم اور جنگ کا انتخاب کیا۔
یہ وہی ٹرمپ ہیں جنہوں نے امریکہ کی لامتناہی جنگوں کے سلسلے کو ختم کرنے کے ایجنڈہ پر الیکشن جیتا تھا۔ یہ وہی ٹرمپ ہیں جودور دراز کے ملکوں میں رجیم چینج کرانے کی امریکی خارجہ پالیسی کے سخت مخالف تھے۔ یہ وہی ٹرمپ ہیں جنہوں نے ایک سال قبل وہائٹ ہاؤس میں دوسری اننگزکا آغاز کرتے وقت کہا تھا کہ ان کی حکومت کی کامیابی کا پیمانہ وہ’’ جنگیں نہیں ہوں گی جو وہ جیتیں گے بلکہ وہ جنگیں ہوں گی جنہیں وہ رکوائیں گے اور سب سے اہم وہ جنگیں ہوں گی جنہیں وہ شروع ہی نہیں کرینگے۔‘‘ ایسے سلجھے ہوئے خیالات کے اظہارکے ایک سال کے اندر انہوں نے صرف اسرائیل کی خوشنودی کی خاطر ایران پر ایک قطعی غیر ضروری اور بلا اشتعال جنگ مسلط کردی۔ پچھلے سال جون میں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ نشانے پر ایران کی جوہری تنصیبات تھیں لیکن اس بار ان کا نشانہ ایران کی سیاسی اور فوجی قیادت تھی۔ نیتن یاہو اور ٹرمپ کا خیال تھا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اورایران کے صف اول کے سیاسی اور فوجی لیڈروں کے قتل کے بعد ایران کا سیاسی نظام منہ کے بل آگرے گا۔ انہیں یہ بھی امید تھی کہ ایرانی عوام بغاوت کردیں گے۔
نیتن یاہو اور ٹرمپ ایک عرصے سے جس رجیم چینج کا خواب دیکھ رہے تھے انہیں لگا کہ اس کے شرمندہ تعبیر ہونے کا وقت آگیا ہے۔ امریکہ،عراق، افغانستان اور لیبیا جیسے ممالک میں رجیم چینج کی کوششوں کا بھیانک انجام دیکھ چکا ہے، اس کے باوجود ٹرمپ ایران میں وہی غلطی کربیٹھے ہیں جو ان کے پیش رو ماضی میں کرچکے تھے۔
امریکی تجزیہ کار اور فوجی ماہرین بھی تسلیم کررہے ہیں کہ ٹرمپ نے پنڈورا کا صندوق کھول دیا ہے۔انہوں نے نہ جنگ کے واضح مقاصدکا اعلان کیا اور نہ ہی ان کے پاس اس کے خاتمے کا کوئی روڈ میپ ہے۔ جون کے بارہ روزہ جنگ کے وقت ایران کی جوابی کاروائی سست اور علامتی تھی۔ اس بار ایرانی افواج نے وقت ضائع کئے بغیر ایک جانب متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، عراق اور کویت میں واقع امریکی فوجی اڈوں اور دوسری جانب اسرائیل کے شہروں پر بیلسٹک میزائلوں کی برسات کردی ہے۔ایران نے سیکڑوں امریکی فوجی اہلکاروں کو مارگرانے کا دعویٰ کیا ہے لیکن واشنگٹن نے چھ ہلاکتوں کا اعتراف کیا ہے۔ اسرائیل میں بھی ایرانی میزائیل تباہی مچارہے ہیں ۔خطرناک امریکی بحری بیڑہ ابراہم لنکن بھی ایرانی میزائیلوں کی زد میں آچکا ہے۔ کویت اور سعودی عرب میں امریکہ کے سفارت خانوں پر بھی حملے ہورہے ہیں ۔کویت میں امریکہ کے متعدد F-5 جنگی طیارے تباہ ہوچکے ہیں ۔سپریم لیڈر کی شہادت سے ایرانیوں کے دلوں میں انتقام کی آگ بھڑک اٹھی ہے اور وہ اپنی محدود طاقت کے باوجود دشمنوں پر بڑھ چڑھ کر حملے کررہے ہیں ۔ امریکی وزیر دفاع کے سابق سینئر مشیر کرنل ڈگلس میکگریگر کا دعویٰ ہے کہ ایران نے مڈل ایسٹ میں امریکہ کے تمام فوجی اڈوں کو ایک ساتھ نشانہ بناکر’’ شاندار کارنامہ‘‘انجام دیا ہے یہ حقیقت ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ سپر پاور امریکہ اور ایٹمی ہتھیاروں سے لیس اسرائیل دونوں کی مشترکہ جارحیت کا ایران تن تنہا مقابلہ کررہا ہے۔ یورپ اور خطے کے کئی ممالک کی براہ راست اور درپردہ مدد بھی ایران کے دشمنوں کو حاصل ہے۔ ایران تین دہائیوں سے عالمی پابندیوں کی زنجیروں میں جکڑا ہوا، معاشی بد حالی کا شکار ملک ہے اور اسکا مقابلہ دنیا کی بڑی معیشتوں سے ہے۔
سچ پوچھئے تو ایران اور امریکہ۔اسرائیل محاذ کا کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔شاید اسی لئے ٹرمپ اور نیتن یاہوکو پوری امید تھی کہ سپریم لیڈر اور ملٹری کمانڈر کے قتل کے بعد ایرانیوں کے حوصلے ٹوٹ جائیں گے،وہ ہتھیار ڈال دیں گے اور رحم کی بھیک مانگیں گے۔ اگرایران جس نے جنگ بندی کی پیشکش کو ٹھکرادی ہے، ابھی بھی میدان چھوڑکر نہیں بھاگا ہے تو ٹرمپ کو یہ آگہی ہوجانی چاہئے کہ ایران کو وینزویلا کی طرح نرم چارہ سمجھ کر انہوں نے غلطی کردی۔
یہ بھی پڑھئے : رِکشا ایک مہا گاتھا، پہچان، سنگھرش اور دعویداری
جب کوئی امریکی صدر کسی ملک کے خلاف جنگ چھیڑتا ہے تو اپوزیشن پارٹی اور عوام پوری طرح اس کی حمایت میں اس کے ساتھ کھڑ ے ہوجاتے ہیں اور اس کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس سیاسی ردعمل کو Rally Around the Flag Effect کہتے ہیں ۔ ٹرمپ کی مقبولیت میں اضافہ ہونا درکنار ان کے ایران جنگ کے فیصلے کی مذمت ہورہی ہے۔ستر فی صد عوام جنگ کے خلاف ہیں ۔ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈران ٹرمپ پر ایک غیر قانونی اور غیر آئینی جنگ شروع کرنے کا الزام لگارہے ہیں ۔ ملک بھر میں ایران جنگ کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں ۔ پنٹاگان نے بھی اپنے صدر کو جھٹلاتے ہوئے یہ واضح کردیا ہے کہ ایران امریکہ کے مفادات پر حملہ کرنے کا پلان نہیں بنارہا تھا۔ سب سے زیادہ بری حالت تو ٹرمپ کے بھکتوں کی ہے جنہیں MAGA حامی کہتے ہیں ۔ جس شخص کو انہوں نے اس لئے ووٹ دیا تھا کہ وہ بیرونی جنگوں سے ملک کو دور رکھ کر امریکہ کی کھوئی ہوئی عظمت واپس د لائے گا اس نے ان کے اعتماد کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ نومبر میں امریکہ میں بے حد اہم وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں ۔ مبصرین یہ پیشن گوئی کررہے ہیں کہ ڈیموکریٹک پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ریپبلیکن کو بری طرح شکست دے گی۔ کچھ دانشور تو یہاں تک کہ رہے ہیں کہ اگر جنگ میں امریکی ہلاکتیں زیادہ ہونے لگیں تو ٹرمپ کی مشکلات کافی بڑھ جائیں گی۔امریکی دفاعی ماہر Joe Cirincione نے تو یہ دعویٰ کردیا ہے کہ اس جنگ کے نتیجے میں رجیم چینج تو ہوگا لیکن تہران میں نہیں واشنگٹن میں ۔