کیوبا کی حکومت نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں پر سخت تنقید کی ہے اور ایران کیلئے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے، جس کی وجہ سے ہوانا اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں۔
EPAPER
Updated: March 07, 2026, 4:07 PM IST | Washington
کیوبا کی حکومت نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں پر سخت تنقید کی ہے اور ایران کیلئے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے، جس کی وجہ سے ہوانا اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں۔
امریکہ نے ایران کے ساتھ جاری تنازع ختم ہونے کے بعد کیوبا کی طرف توجہ دینے کا اشارہ دیا ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے میجر لیگ سوکر کلب ’انٹر میامی سی ایف‘ کے کھلاڑیوں کے اعزاز میں وہائٹ ہاؤس میں منعقدہ تقریب کے دوران اشارہ دیا ہے کہ امریکہ کیوبا پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور وہ ایران کے بعد اس پر توجہ دے گا۔
ایران کے خلاف جاری فوجی مہم کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ دیگر بین الاقوامی مسائل پر توجہ دینے سے پہلے کیوبا سے جڑی صورتحال کو حل کرنا چاہتا ہے۔ ایران کے ساتھ تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ”ہم پہلے اسے ختم کرنا چاہتے ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ کیوبا سے نمٹنا پھر ’صرف وقت کی بات‘ ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: تیسری عالمی جنگ یا جوہری جنگ کی صورت میں ٹرمپ محفوظ تنصیبات میں منتقل ہوسکتے ہیں
امریکی صدر کے یہ تبصرے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آئے ہیں۔ خطہ میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائیوں نے شدت اختیار کرلی ہے۔ اس تنازع نے پورے خطے میں عدم استحکام پیدا کر دیا ہے اور واشنگٹن کی فوجی حکمت عملی کی جانب عالمی توجہ مبذول کرائی ہے۔
اپنے تقریر کے دوران، ٹرمپ نے کیوبا کے بارے میں امریکی پالیسی تشکیل دینے میں مارکو روبیو کے کردار کی بھی تعریف کی۔ واضح رہے کہ مارکو روبیو کیوبا نژاد امریکی سیاست دان ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ میں وزیر خارجہ (سیکریٹری آف اسٹیٹ) کے عہدے پر فائز ہیں۔ وہ طویل عرصے سے کیوبا کی حکومت کے خلاف سخت رویہ اپنانے کے حامی رہے ہیں۔
ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ کیوبا کی قیادت بالآخر واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کی خواہش کر سکتی ہے۔ انہوں نے جزیرے پر سیاسی تبدیلیوں کے امکان کا بھی ذکر کیا۔ ٹرمپ کے بیان کے بعد سیاسی ماہرین کے درمیان بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا ایران تنازع کے ختم ہونے کے بعد امریکی خارجہ پالیسی مشرقِ وسطیٰ سے لاطینی امریکہ کی طرف منتقل ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: محکمہ انصاف نے ایپسٹین دستاویزات جاری کیں، ٹرمپ کے خلاف جنسی زیادتی کے الزام
واضح رہے کہ گزشتہ مہینوں میں امریکہ اور کیوبا کے درمیان تعلقات میں نمایاں بگاڑ آیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ پابندیوں کے ذریعے ہوانا پر معاشی دباؤ میں اضافہ کررہی ہے جس کی وجہ سے جزیرے کی معاشی مشکلات مزید سنگین ہوتی جارہی ہیں۔ کیوبا کے خلاف امریکی اقدامات میں ایندھن اور توانائی کی فراہمی کو متاثر کرنے والی کارروائیاں شامل ہیں، جو ملک میں بجلی اور ایندھن کی قلت کا باعث بن رہی ہیں۔
کیوبا کی حکومت نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں پر سخت تنقید کی ہے اور ایران کیلئے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے، جس کی وجہ سے ہوانا اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں۔