ہندوستان سے جس معاشی معجزہ کی امید کی جا رہی تھی اگر وہ پوری نہ ہو تب بھی اس کا امتیازی پہلو اس کا جمہوری ہونا ہے۔ اس کے بعد یہ تاثر پیدا ہونے لگا کہ ہندوستان جمہوریت سے کھسک کر انتخابی آمریت اور من چاہے طرز ِاقتدار میں تبدیل ہوگیا ہے
میں جس عہد میں پلا بڑھا اس میں اس امید کے سائے میں ہماری پرورش ہو رہی تھی کہ ہندوستان چین سے مقابلہ کریگا اور ہمارے جیتے جی بڑی عالمی طاقتوں میں شمار ہوگا۔ میرے ہم عمروں میں یہ بھروسہ عام تھا، سیاسی مباحث کے دوران اس موضوع پر بات چیت ہوتی تھی اور وہ صحافی جو عالمی موضوعات پر لکھتے تھے، اس امید کا اظہار کرتے تھے۔۱۹۹۰ء اور پھر۲۰۰۰کی دہائی میں یعنی پوری دو دہائیوں کے دوران یہ احساس عام تھا۔
اس میں شک نہیں کہ ہندوستان کی معاشی ترقیاتی رفتار قدرے مدھم تھی اور صنعتی پیش رفت ویسی نہیں تھی جیسی چین میں تھی لیکن ایسا سمجھا جاتا تھا کہ یہ وقت کا فرق ہے آج نہیں تو کل ہم بھی اسی رفتار سے اپنا سفر طے کریں گے۔ ایک قلمکار نے دونوں ملکوں کے مستقبل کا موازنہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ چین کا ترقیاتی راستہ ہموار ہے سوائے ایک رکاوٹ کے، وہ ہے اس کا جمہوری نہ ہونا۔ بہ الفاظ دیگر، چین میں جمہوریت کی عدم موجودگی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کے بر خلاف ہندوستان کے سامنے کوئی بڑی رکاوٹ نہیں ہے البتہ کئی چھوٹے چھوٹے گڑھے ہیں ۔ مگر یہ بات درست ثابت نہیں ہوئی۔ اس کے بعد یہ محسوس ہونے لگا کہ اب اس طرح کی پیش گوئی نہیں کی جا رہی ہے۔ چین سے ہمارا موازنہ نہیں کیا جارہا ہے۔ شاید یہ سمجھا جانے لگا تھا کہ ہندوستان دنیا پر اثرانداز ہونے والی معاشی طاقت بننے کے معاملے میں چین کا مد مقابل نہیں ہوگا۔ یہی نہیں ، شاید یہ بھی سمجھ لیا گیا کہ ہندوستان دیگر ایشیائی ملکوں مثلاً جاپان، کوریا، سنگاپور وغیرہ کی راہ بھی نہیں اپنائے گا جنہوں نے اپنے عوام کی خوشحالی کو یقینی بنانے کی ہرممکن جہدوجہد کی۔
اگر یہ نہیں تو پھر کیا؟ شاید یہ سمجھ لیا گیا کہ ہندوستان ان ملکوں کی طرح اپنا سفر جاری رکھے گا جہاں غریبوں کی بہتات ہوگی۔ واضح رہے کہ فی کس جی ڈی پی کے معاملے میں ہندوستان عالمی اوسط کا ایک چوتھائی ہے۔ جب یہ گمان پیدا ہونے لگا تو ہماری جنریشن نے اس امید کو ترک کردیا جس کی نشو ونما ہم اس دور میں تیس برس سے کررہے تھے۔ امید کی جگہ ناامیدی نے تو نہیں لی مگر جو احساسات مرتب ہوئے ان کا معنی یہ تھا کہ بھلے ہی ہم کچھ بھی کہیں مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ ہم کوئی تیر مارنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ۔ ذرا سوچئے، یہ حقیقت کتنی تکلیف دہ ہے کہ کئی معاملات میں ہم پاکستان اوربنگلہ دیش کے ساتھ دکھائی دے رہے ہیں ۔ عالمی مبصرین نے وقت کے ساتھ ہمارا اور چین کا موازنہ بھی بند کردیا۔
اس دوران یہ بھی سمجھا جا رہا تھا کہ ہندوستان سے جس معاشی معجزہ کی امید کی جا رہی تھی اگر وہ پوری نہ ہو تب بھی اس کا امتیازی پہلو اس کا جمہوری ہونا ہے۔ اس کے بعد یہ تاثر پیدا ہونے لگا کہ ہندوستان جمہوریت سے کھسک کر انتخابی آمریت اور من چاہے طرز اقتدار میں تبدیل ہوگیا ہے۔ یہاں واضح کر دوں کہ یہ ساری باتیں مختلف وقت میں مختلف لوگوں کے ذریعہ کہی گئی ہے۔ مثال کے طور پر چار سال قبل جب ایک امریکی تھنک ٹینک نے ہندوستان کی درجہ بندی ’’جزوی طور پر آزاد‘‘ کے طور پر کی اور کشمیر کو ’’ناٹ فری‘‘ لکھا تو ہماری حکومت نے اس کا برا مانا۔ اس کے جواب میں ہم نے ایک پریس ریلیز جاری کرکے جس موقف کا اظہار کیا وہ کچھ اس طرح تھا:’’ہندوستان کے وفاقی ڈھانچے میں بہت سی ریاستیں ان پارٹیوں کے زیر اقتدار ہوتی ہیں جنہیں عوام صاف ستھرے اور آزادانہ طور پر کروائے گئے انتخابات کے ذریعہ اقتدار سونپتے ہیں ۔ ان انتخابات کی باگ ڈور خود مختار الیکشن کمیشن کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ یہ ثبوت ہے ایک فعال جمہوریت کا جس میں جُداگانہ نظریات رکھنے والوں کے لئے بھی جگہ ہے۔‘‘
یہ موقف حقیقت حال کی ترجمانی پر مشتمل نہیں تھا۔ امریکی تھنک ٹینک کی مذکورہ رپورٹ دو حصوں میں منقسم تھی۔ پہلے حصے کے ۴۰؍ فیصد مارکس تھے جس میں سیاسی حقوق تفویض کئے جانے پر مارکس دیئے جانے تھے۔ ہندوستان کو ۴۰؍ میں سے ۳۴؍ مارکس دیئے گئے۔ الیکشن کے انعقاد، الیکشن کمیشن کی غیرجانبداری، سیاسی جماعتیں قائم کرنے کی آزادی وغیرہ کیلئے پورے پورے مارکس دیئے گئے تھے۔ مارکس جہاں کم ہوئے وہ حصہ انتخابات کے دوران تشدد اور فرقہ وارانہ صورت حال سے متعلق تھا۔ حکومت کو شفافیت کے معاملے میں تین چوتھائی مارکس ملے تھے۔ جہاں مارکس زیادہ متاثر ہوئے وہ رپورٹ کا دوسرا حصہ تھا جس کے کل مارکس۶۰؍ تھے اور جو شہری حقوق سے متعلق تھا۔ اس حصہ میں ہمیں ۶۰؍ میں سے ۳۳؍نشانات ملے۔ اس میں جو کالم تھے وہ اس طرح تھے: اظہار رائے کی آزادی، مذہبی آزادی، جلسہ جلوس کی آزادی، غیر سرکاری تنظیموں کو اپنا کام کرنے کی آزادی، نظم و نسق، عدلیہ کی آزادی وغیرہ۔ انہی شعبوں میں ہمارے مارکس بری طرح متاثر ہوئے۔
جب ایک اور رپورٹ، جو ’’دی اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ‘‘ کی تھی، جاری ہوئی تو ہندوستان کو ’’ناقص جمہوریت‘‘ قرار دیا گیا۔ اس پرمرکزی حکومت نے یہ جاننا چاہا کہ کن معیارات پر ہندوستانی جمہوریت کو پرکھا گیا جبکہ رپورٹ میں وضاحت موجود تھی کہ کن بنیادوں پر جائزہ لیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ چند سال قبل کی رپورٹیں ہیں ۔ ان کے بعد بلڈوزر کلچر آیا اور اس کے بعد ایس آئی آر کے ذریعہ رائے دہندگان کی چھٹنی شروع کردی گئی۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ حکومت نے ایسی رپورٹوں کا سنجیدہ نوٹس لینا ترک کردیا ہے۔ اب اسے نہ تو بیرونی تنقید کی فکر رہ گئی ہے نہ ہی اندرونی تنقید کی۔ تو کیا جس طرح ہم نے ترقیاتی سفر پر سمجھوتہ کرلیا ہے، جمہوریت پر بھی کرلیں گے