Inquilab Logo Happiest Places to Work

رِکشا ایک مہا گاتھا، پہچان، سنگھرش اور دعویداری

Updated: March 03, 2026, 1:43 PM IST | Professor Sarwar Al-Huda | mumbai

جن لوگوں نے کلکتہ میں ہاتھ کا رکشہ چلاتے ہوئے لوگوں کو دیکھا ہے، وہ اس حقیقت سے واقف ہوں گے کہ ہاتھ کا رکشہ چلاتے ہوئے رکشے والا کس طرح پیدل بھاگتا جاتا ہے۔ اس کا وجود ایک گھیرے میں ہے۔

INN
آئی این این
 کئی مہینوں  سے یہ کتاب ایک ایسے مقام پر رکھی ہوئی تھی، جہاں  نگاہ چلی ہی جاتی ہے۔ زندگی، ادب اور فلسفہ کی نئی اور پرانی کتابوں  کے ساتھ ہندی میں  لکھی گئی یہ کتاب گھر کی فضا کو فکری سطح پر زمینی اور حقیقی بنا دیتی ہے۔ ایک مضمون رکشے سے متعلق پہلے بھی لکھ چکا ہوں ، رکشے پر پنڈت جواہر لال نہرو اور سردار پٹیل بیٹھے ہیں ۔ بڑی شخصیات کا رکشے پر بیٹھنا نہ صرف تاریخ کا حصہ بن گیا بلکہ رکشہ کو بھی تہذیبی طور پر پہچانا جانے لگا۔ 
جن لوگوں  نے کلکتہ میں  ہاتھ کا رکشہ چلاتے ہوئے لوگوں  کو دیکھا ہے، وہ اس حقیقت سے واقف ہوں  گے کہ ہاتھ کا رکشہ چلاتے ہوئے رکشے والا کس طرح پیدل بھاگتا جاتا ہے۔ اس کا وجود ایک گھیرے میں  ہے۔ مسافر کی جب منزل آ جاتی تو فطری طور پر رکشہ اس کے وجود کے ساتھ زمین سے آ لگتا ہے۔ یہ تجربہ جب پہلی مرتبہ میری زندگی کا حصہ بنا، تو میں  نے اپنے بڑے ابا سید نور الہدی سے کہا تھا کہ یہ تو بہت ہی افسوسناک صورتحال ہے۔ گریجویشن کا زمانہ تھا لیکن زندگی ابھی اتنی تیز رفتار بھی نہیں  ہوئی تھی۔ ٹرام کے ٹن ٹن کی آواز رکشہ چلانے والے کے لیے تھی یا رکشے والے نے سمجھا تھا کہ ٹرام کا وجود اس کے لیے کوئی خطرہ نہیں  ہے۔ دو سال پہلے کلکتہ جانا ہوا تو ہاتھ کا رکشہ کم کم دکھائی دیا۔ کہیں  سڑک کے کنارے رکشہ زمین سے لگا ہوا تھا تو کہیں  اکا دکا رکشہ ہانپتا دوڑتا دکھائی دیا۔ ٹرام کی رفتار اور گفتار میں  کمی نظر آئی لیکن ٹرام کی پٹریاں  بدستور سڑک سے لگی ہوئی تھیں  ۔
کتاب’’رکشہ ایک مہاگاتھا‘‘ کو تیار کرنے میں  کئی لوگوں  کا حصہ ہے۔ راجیندر روی، رادھے شیام منگول پوری، ابھے کمار دوبے، اسمتا اسنیہی، دھننجے کمار سنگھ اور سنجیو شاشوتی کے نام کتاب کے پہلے صفحے پر درج ہیں ۔ ان سب نے الگ الگ طریقے سے کتاب کی تشکیل میں  معاونت کی ہے۔ وانی پرکاشن سے شائع ہونے والی یہ کتاب تحقیق کا بھی ایک اہم نمونہ ہے۔ کتاب کے نام کے نیچے پہچان، سنگھرش اور دعویداری کے الفاظ درج ہیں ۔ یہ الفاظ رکشہ کی داستان کو عملی زندگی سے وابستہ کر کے دیکھنے کی دعوت دیتے ہیں ۔ رکشہ ایک پہچان بھی ہے، جدوجہد بھی اور دعویداری بھی۔ کتاب کے پیش لفظ میں  رکشہ چلانے والوں  اور رکشہ کے مالکوں  سے متعلق بنیادی حقائق کو پیش کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ایک مخصوص مشن کے تحت تیار کی گئی ہے اور اس کا تعلق ملک کی قومی راجدھانی کے رکشہ چالکوں  سے ہے۔ دلی میں  رہتے ہوئے رکشہ کے بارے میں  اتنی اہم اور بنیادی باتیں  پہلی مرتبہ مطالعے میں  آئیں ۔ رکشہ سے متعلق تحقیق کا عرصہ ۲۰۰۰ء سے ۲۰۰۲ء تک پھیلا ہوا ہے۔ اس عرصے میں  رکشہ چلانے والوں  کی تعداد میں  کمی آئی ہے۔ دلی اور اس کے مضافات میں  رکشہ چلانے والوں  کی زندگی کا یہ مطالعہ ایک انسانی اور اخلاقی جہت بھی رکھتا ہے۔راجیندر روی اپنے ابتدائیہ جمہوریت میں  رکشے کی جگہ میں  لکھتے ہیں : ’’قومی راجدھانی کا سائیکل رکشہ محض ٹرانسپورٹ کا ایک وسیلہ یا غریب آدمی کی روزی روٹی کا آخری سہارا بھر نہ ہو کر آج کے سیاق میں  ایک ایسی علامت ہے جس کے ارد گرد ہندوستان کے جمہوری ارتقا کی پوری کہانی اپنی حقیقت کے ساتھ گول بند ہوتی ہے۔‘‘ ابتدائیہ میں  سائیکل رکشہ والوں  سے جو گفتگو ہوئی ہے اس کا ذکر بھی موجود ہے۔ اپنے علاقے سے نکل کر دلی میں  رکشہ چلانا ایک اپنی مرضی کی زندگی بھی ہے۔ ایک رکشہ والا کہتا ہے کہ مجھے آزادی ہے، جب جی چاہے گا رکشہ چلاؤں  گا، جب جی چاہے گا آرام کروں  گا۔مشکلوں  سے بھری ہوئی یہ زندگی اپنا ایک شاہانہ انداز بھی رکھتی ہے۔ زندگی کی تیز رفتاری کا سائیکل رکشہ ساتھ نہیں  دے پاتا۔ اسی لیے ابتدائیہ میں  اس دکھ کا اظہار کیا گیا ہے کہ رکشہ کو گاڑیوں  کے لئے رکاوٹ تصور کیا جاتا ہے۔ رکشہ سے گویا زندگی کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔ اسی لئے بعض علاقوں  سے رکشہ کو ہٹانے کی تجویز پیش کی جاتی رہی ہے۔ دلی جیسے شہر میں  ہر دن گاڑیوں  کی کثرت میں  اضافہ ہوتا رہتا ہے اور یہ اضافہ گاڑیوں  کی چمک دمک کے ساتھ کچھ زیادہ ہی عام زندگی کو آئینہ دکھاتا ہے۔
 
 
ابھے کماردوبے نے پیش لفظ میں  رکشہ کو عالمی تناظر میں  بھی دیکھا ہے۔ رکشہ کے ارتقائی سفر کو جمہوری نظام کی ترقی کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت کا مطلب، جمہوری نظام کے مختلف سلسلوں  اور حوالوں  کو پیش نظر رکھنا ہے۔ صنعتی ترقی جہاں  جس طرح ہوئی اس کے مقابلے میں  رکشہ بھلا کہاں  آ سکتا تھا مگر رکشے نے اپنی جگہ بنا لی۔ رکشے کا ایک چہرہ تو وہ ہے جس سے رکشہ چلانے والے کی غربت کا اظہار ہوتا ہے مگر اسی کے ساتھ رکشے کا ایک چہرہ وہ بھی ہے جسے شہر کا چہرہ کہتے ہیں ۔ شہر کا چہرہ رکشہ اور رکشہ چلانے والے کے چہرے کے ساتھ کتنا اداس ہے۔ اصل میں  شہر کے چہرے کی اداسی کی تاریخ رکشہ چلانے والوں  کے چہرے کی اداسی کے بغیر نہ تو سمجھی جا سکتی ہے نہ ہی محسوس کی جا سکتی ہے۔ اس کتاب میں  رکشہ مستریوں  کا بھی ذکر ہے اور یہ مختلف صلاحیتوں  سے لیس ہیں ۔ رکشے میں  جو خرابی آ جاتی ہے، اسے دور کرنے کے لئے مستقل طور پر سڑک کے کنارے ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں ۔ کتاب کا ایک اہم عنوان ’’رکشے پر بیٹھنے والے: کچھ ریکھائیں ، کچھ چتر‘‘ بھی ہے۔ اس عنوان کے تحت ان سواریوں  کا ذکر ہے جو ایک ہی رکشے کو استعمال کرتے ہیں  اور وہ اس معاملے میں  بہت ہی وفادار ہیں ۔ رکشہ والا مطمئن رہتا ہے کہ روزانہ اسے بندھا ہوا پیسہ مل جائے گا۔ ایک اقتباس دیکھئے: ’’دو تہائی رکشہ چلانے والوں  نے بتایا کہ انہوں  نے کبھی نہ کبھی لاچار، بوڑھے، بیمار، عورت، بچے وغیرہ کو بنا پیسہ لئے اپنی رکشے پر بٹھایا اور انہیں  صحیح جگہ لے جا کر چھوڑا ہے۔‘‘ایک ایسے وقت میں  جبکہ ماحولیات ہماری زندگی اور زمانے کا بنیادی مسئلہ ہے ہے،رکشہ اپنے محدود سفر اور دائرے میں  رہ کر ماحول کو، ماحولیاتی اعتبار سے خراب نہیں  کیا۔اس وقت دنیا جنگ کے حالات سے دوچار ہے اور دھواں  ہے کہ انسانی زندگی کی تباہ کاریوں  کے ساتھ اپنی سربلندی کا اعلان کر رہا ہے۔ بقول : امداد امام اثر؎آہ سوزاں  کا اگر اونچا دھواں  ہو جائے گا
آسماں  اک اور زیر آسماں  ہو جائے گا 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK