Inquilab Logo Happiest Places to Work

حقائق اور اعدادوشمار ’’لو َجہاد‘‘ کی نفی کرتے ہیں

Updated: March 01, 2026, 2:01 PM IST | Aakar Patel | mumbai

۴؍ فروری ۲۰۲۰ء کو حکومت نے لوک سبھا میں مانا تھا کہ قانون میں لوَ جہاد جیسی کوئی اصطلاح نہیں اور کسی مرکزی ایجنسی نے اس نوع کے کسی بھی واقعہ کی اطلاع نہیں دی۔ اسکے باوجود ۷؍ ریاستوں نے اس کے خلاف قانون بنائے۔

INN
آئی این این
کچھ ایسی باتیں  ہیں  جن پر ہمارا ملک برہم ہے اور یہ سچی خبر ہے۔ ان باتوں  میں  سے ایک ہے آبادیاتی عدم توازن۔ اس پر ذرائع ابلاغ ہی نہیں  وہاٹس ایپ گروپس بھی برہم ہیں ۔ آبادیاتی عدم توازن وسیع موضوع ہے اور برہمی اس پورے موضوع پر نہیں  اس کے ایک حصے پر ہے۔ وہ ہے لو جہاد۔ اب یہ الگ بات ہے کہ اعدادودشمار اور حقائق اس برہمی کا جواز پیش نہیں  کرتے۔ مگر اعدادوشمار اور حقائق کی طرف تاکتا بھی کون ہے جب یہ طے کرلیا گیا ہو کہ ایسا ہورہا ہے یعنی لو جہاد کی وجہ سے آبادی کا توازن بگڑ رہا ہے!
حال ہی میں  ’’نیوز منٹ‘‘ نے کیرالا میں  تبدیلیٔ مذہب کے واقعات پر تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے۔ یاد رہے کہ یہی (کیرالا) وہ ریاست ہے جہاں  کے ہائی کورٹ نے دسمبر ۲۰۰۹ء میں  اعلان کیا تھا کہ اسے اعلیٰ ذات کی ہندو اور عیسائی لڑکیوں  کو خوشحال خاندانوں  کی جانب سے اپنے جال میں  پھنسانے کا شبہ ہے۔ یہ سرسری سا تبصرہ ایک فاضل جج نے کیا تھا جنہیں  یہ اعتراف بھی تھا کہ اُن کے سامنے کوئی ثبوت نہیں  ہے۔ مگر شبہ کے اس اظہار کے بعد ہی اس ریاست میں  لو جہاد کی سازشی تھیوری شروع ہوئی جہاں  یہ قانون ہے کہ تبدیلیٔ مذہب کے واقعات کو ریکارڈ کیا جائے۔ ۲۰۲۴ء کے جو اعداد پیش کئے گئے ہیں  اُن کے مطابق تبدیلیٔ مذہب کے ۹۶۳؍ واقعات ہوئے۔ ان میں  مذہب تبدیل کرنے والی ۵۴۳؍ خواتین تھیں  جبکہک ۴۲۰؍ مرد۔ ان میں  ۳۲۹؍ ایسے افراد ہیں  جو پہلے عیسائی تھے جبکہ ۳۶؍ ایسے ہیں  جو ماضی میں  مسلمان تھے۔ اسلام قبول کرنے والوں  کی تعداد قدرے کم یعنی ۳۴۳؍ ہے جن میں  ۲۷۶ وہ ہیں  جو ماضی میں  ہندو تھے، ۶۷؍ وہ ہیں  جو ماضی میں  عیسائی تھے۔ عیسائیت قبول کرنے والوں  کی تعداد ۲۵۵؍ ہے جن میں  سے ۲۳۴؍ ماضی میں  ہندو تھے اور ۲۳؍ مسلمان تھے۔ 
کیرالا میں  کوئی ایسا رجحان دکھائی نہیں  دیتا ہے بلکہ سرے سے نہیں  ہے جسے لو جہاد نام دیا جاسکے۔ اس سلسلے کے اعداد و شمار سے وہ لوگ قطعی حیران نہیں  ہوں  گے جو اس نوع کی خبروں  کا مطالعہ کرتے رہے ہیں ۔ مَیں  نے اپنی کتاب ’’دی ہندو راشٹر‘‘ میں ، جو چند سال پہلے شائع ہوئی، ماضی کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا ہے۔ ۷؍ مارچ ۲۰۱۷ء کو اخبار ملیالم منورما نے ایک این جی او (میڈیا ڈیولپمنٹ اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن، کوزی کوڈ) کی ایک تحقیق پیش کی تھی جس میں  بتایا گیا تھا کہ جنوری ۲۰۱۱ء سے دسمبر ۲۰۱۷ء تک مذہب تبدیل کرنے والوں  میں  ۶۰؍ فیصد ایسے ہیں  جنہوں  نے ہندو مذہب قبول کیا ہے۔ گزٹ میں  نام کی تبدیلی کے اندراجات پر نگاہ ڈالئے تو معلوم ہوتا ہے کہ ۷؍ سال کے عرصے میں  ۸۳۳۴؍ لوگوں  نے نام تبدیال کیا جن میں  سے ۴۹۶۸؍ نے ہندو مذہب کو گلے لگایا جن کی اکثریت (۴۷۵۶؍ افراد) ماضی میں  ہندو اور بہت قلیل تعداد (۲۱۲) مسلمان تھی۔ ان میں  ۲۲۴۴؍ خواتین تھیں  اور ۲۷۲۴؍ مرد۔ اسلام قبول کرنے والے ۱۸۶۴؍ لوگوں  میں  ۷۸؍ فیصد وہ ہیں  جو ماضی میں  ہندو تھے۔ ان میں  خواتین اور مردوں  کی تعداد تقریباً یکساں  ہے۔عیسائیت قبول کرنے والے ۱۴۹۶؍ لوگوں  میں  ۹۵؍ فیصد وہ ہیں  جو ماضی میں  ہندو تھے۔ ان میں  ۷۲۰؍ خواتین ہیں  جبکہ ۷۷۶؍ مرد۔ ۶؍ افراد نے بدھ مت قبول کیا جن میں  ۵؍ وہ ہیں  جو ماضی میں  ہندو تھے اور ایک عیسائی۔ ان ۶؍ افراد میں  ۲؍ خواتین تھیں  اور چار مرد۔ 
اس سے چند سال قبول ایک اخباری رپورٹ میں  کہا گیا تھا کہ ’’کم و بیش ۶؍ ہزار افراد نے کیرالا میں  پانچ سال کے دوران اسلام قبول کیا۔‘‘ خبر میں  انٹلی جنس رپورٹ کا حوالہ دیا گیا تھا ۔ اس رپورٹ میں  بتایا گیا تھا کہ ۵۷۹۳؍ لوگوں  نے ۲۰۱۱ء سے ۲۰۱۵ء کے بیچ مذہب تبدیل کیا۔ ان میں  نصف تعداد خواتین کی تھی اور نصف مردوں  کی۔ ہندومذہب قبول کرنے والوں  کی تعداد ۴۷۱۹؍ تھی جبکہک عیسائیت قبول کرنے والوں  کی تعداد ۱۰۷۴۔ وہاٹس ایپ گروپس میں  ایسے انکل موجود ہیں  جو پروپیگنڈہ کو درست مانتے ہیں  اور اس پر بھروسہ کرلیتے ہیں ۔ یہی نہیں  خود اُن کے اندر سے بھی آواز آتی رہتی ہے اس لئے اُنہیں  پروپیگنڈہ پر یقین کرنے میں  ذرہ برابر بھی دشواری نہیں  ہوتی۔ اُن کے سامنے مذکورہ حقائق اور اعداد و شمار پیش کئے جائیں  تو وہ اُنہیں  ’’جھوٹی خبر‘‘ (فیک نیوز) سمجھ کر مسترد کردیتے ہیں ۔ ایسے انکلوں  کو چاہئے کہ لوک سبھا کی کارروائی مورخہ ۴؍ فروری ۲۰۲۰ء کا جائزہ لیں ۔ تھریسور کے انتخابی حلقہ چلاکڈی کی نمائندگی کرنے والے رکن پارلیمان بینی بہنن نے سوال کیا تھا کہ کیا وزارت ِ داخلہ اس بات کی توثیق کرے گی کہ ملک میں  لو جہاد کے واقعات ہوئے ہیں ؟ اگر ہوئے ہیں  تو اُن کی کیا تفصیل ہے۔ اس کے جواب میں  وزارت نے کہا تھا: ’’آئین کی دفعہ ۲۵؍ کے مطابق ہر شہری کو مذہب پر یقین رکھنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق ہے تاوقتیکہ اس کی وجہ سے نظم و نسق نہ بگڑتا ہو۔ عدالتوں  نے بھی اس کی تائدی کی ہے جن میں  کیرالا ہائی کورٹ بھی شامل ہے۔ قانون میں  لو جہاد کی اصطلاح کی تعریف نہیں  کی گئی ہے۔ کسی بھی مرکزی ایجنسی نے لوَ جہاد (کے واقعات) کی نشاندہی نہیں  کی ہے۔ ‘‘
اس صورت حال میں  سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر لو جہاد مفروضہ ہے، حقیقت نہیں  ہے جسے حکومت نے قبول کیا ہے اور اعدادوشمار بھی اس کی نفی کرتے ہیں  تو اس پر اتنا واویلہ کیوں  مچایا جاتا ہے؟ 
میرے خیال میں  اس کے دو اسباب ہیں ۔ پہلا سبب یہ کہ حقائق اور اعدادوشمار ’’نئے بھارت‘‘ کو راس نہیں  آسکتے۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ ہندوتوا کا بیانیہ اس حد تک قابل قبول ہوچکا ہے کہ کتنے ہی حقائق بیان کردیئے جائیں  اور اعدادوشمار پیش کردیئے جائیں  کوئی اُن پر توجہ نہیں  دیتا۔ ایک ایسا جھوٹ ہے جسے لوک سبھا میں  جھوٹ مان لیا گیا اس کے باوجود ۲۰۱۸ء کے بعد بی جے پی کی ۷؍ ریاستوں  نے اس مفروضہ سے نمٹنے کیلئے قانون بنائے۔یہ آج کے دور کی سچائی ہے۔ اب جو ڈیٹا سامنے آئے گا وہ بھی اس بات کی توثیق کرے گا کہ بی جے پی کا پروجیکٹ (لو جہاد) گمراہ کن اور نقصان دہ ہے مگر جن لوگوں  نے ہندوتوا کو سب کچھ مان لیا ہے وہ اس نوع کے ڈیٹا اور حقائق کو سازش کا حصہ ہی قرار دیں  گے ۔
jihad Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK