Inquilab Logo Happiest Places to Work

مغربی بنگال کے اسمبلی انتخاب اور مسلمان

Updated: April 07, 2026, 11:32 AM IST | Dr. Mushtaq Ahmed | Mumbai

مسلمان ووٹرز کی سیاسی بصیرت، ممتا بنرجی کی قیادت، اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف ایک مشترکہ حکمت عملی یہ تین عوامل اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مغربی بنگال میں بہار جیسی صورتحال کا اعادہ مشکل ہے۔

Muslim Voter.Photo:INN
مسلم ووٹرس۔ تصویر:آئی این این
ہندوستان کی انتخابی سیاست میں مسلمان ووٹروں کا کردار ہمیشہ سے اہم رہا ہے، خاص طور پر ان ریاستوں میں جہاں ان کی آبادی خاطر خواہ ہے۔ بہار کے حالیہ سیاسی تجربے میں اسد الدین اویسی کی جماعت آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین(اے آئی ایم آئی ایم)  نے جس طرح مسلم ووٹوں میں تقسیم پیدا کی، اس کے اثرات نہ صرف ریاستی سیاست بلکہ قومی سطح پر بھی محسوس کئے گئے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہی منظرنامہ مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں بھی دہرایا جا سکتا ہے؟مغربی بنگال کی سیاست بہار سے کئی اعتبار سے مختلف ہے۔مغربی بنگال میں تقریباً ۳۲؍ برسوں تک کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) اور بائیں بازو کی جماعتوں کا غلبہ رہا، جس کے بعد ۲۰۱۱ء  سے ممتا بنرجی کی قیادت میں آل انڈیا ترنمول کانگریس نے سیاسی منظرنامہ بدل دیا۔واضح رہے کہ ۲۰۱۱ء میں ترنمول کانگریس اور انڈین نیشنل کانگریس نے اتحاد بنا کر کمیونسٹ پارٹی کو شکست دی تھی اور ترنمول کانگریس  نے۱۸۴؍سیٹیں جیتی تھیں جب کہ اس اتحاد نے ۲۹۴؍ سیٹوں میں ۲۲۷؍سیٹوں پر قبضہ کیا تھا ۔ ۲۰۱۱ء  کی مردم شماری کی روشنی میں مسلمانوں کی آبادی مغربی بنگال میں تقریباً ۲۷؍  فیصد کے قریب ہے اور کئی اضلاع جیسے مرشدآباد، مالدہ، بیر بھوم، چوبیس پرگنہ ، نادیہ اور شمالی دیناجپور میں وہ فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سیاسی جماعت ان کے ووٹ کو حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔مرشد آباد میں تقریباً ۶۶؍ فیصد ، مالدہ  میں ۵۱؍ فیصد ، دیناجپور۵۰؍فیصد،  بیر بھوم ۳۷؍فیصد، چوبیس پرگنہ ۳۶؍فیصد اور نادیہ میں تقریباً ۲۷؍  فیصد مسلم ووٹ ہیں اور ان اضلاع  میں ۸۵؍ایسی اسمبلی سیٹیں ہیں جن پر مسلم آبادی ۳۵؍ فیصد سے زیادہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ اسمبلی انتخاب میں ان ۸۵؍ سیٹوں میں سے ۷۵؍سیٹیں ترنمول کانگریس کو حاصل ہوئی تھیں۔ لیکن اس بار سیاسی منظر نامہ بدلا ہوا ہے کہ ترنمول کانگریس سے نکالے گئے ممبر اسمبلی ہمایوں کبیر  نے ۱۸۲؍سیٹوں پر انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے اور  اسد الدین اویسی کی پارٹی نے بھی اس کے ساتھ مل کر انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے ۔
بہر کیف!مغربی بنگال میں مسلمانوں کی بڑی تعداد روایتی طور پر ترنمول کانگریس کے ساتھ رہی ہے۔ ممتا بنرجی نے خود کو سیکولر اور اقلیت دوست رہنما کے طور پر پیش کیا ہے۔ مدرسہ اصلاحات، اقلیتی اسکالرشپس اور امام بھتہ جیسی اسکیموں نے ان کی شبیہ کو مضبوط کیا۔یہی وجہ ہے کہ ۲۰۲۱ء  کے اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں کی بھاری اکثریت نے ترنمول کانگریس کی حمایت کی، جس کے نتیجے میں پارٹی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو واضح شکست دی۔لیکن ایک تلخ سچائی یہ بھی ہے کہ جس طرح ۳۲؍ برسوں تک کمیونسٹ حکومت نے مسلمانوں کو محض جذباتی نعروں میں الجھائے رکھا اور جس کی وجہ سے سچّر کمیٹی کی رپورٹ نے یہ وضاحت کردی کہ ملک میں پسماندگی کے گراف میں مغربی بنگال کا مسلمان سب سے اوپر ہے۔اسی طرح گزشتہ ایک دہائی میں ممتا بنرجی نے بھی زمینی سطح پر مسلمانوں کی سماجی تصویر اور تعلیم وملازمت میں حقیقی تصویر بدلنے کی کوشش کم کی ہے اور جذباتی سیاست کو قدرے زیادہ ہی فروغ دیاہے جس کا دوہرا نقصان مغربی بنگال کے مسلمانوں کو ہو رہاہے۔ 
 
 
بہار میں اے آئی ایم آئی ایم نے پانچ نشستیں جیت کراور تقریباً پندرہ سیٹوں کا نقصان کر کے یہ ثابت کیا کہ وہ ایک فیکٹر بن سکتی ہے۔ لیکن مغربی بنگال میں حالات مختلف ہیں کہ اے آئی ایم آئی ایم اگر انتخاب لڑتی بھی ہے تو اس کا اثر چند مخصوص حلقوں تک محدود رہ سکتا ہے، جیسے سرحدی اضلاع جہاں سماجی و معاشی مسائل زیادہ ہیں۔پارٹی زیادہ تر اپنی موجودگی درج کرانے کیلئےانتخاب لڑ سکتی ہے، نہ کہ بڑے پیمانے پر کامیابی کیلئے۔کچھ حلقوں  میں اے آئی ایم آئی ایم   کے امیدوار چند ہزار ووٹ لے کر نتائج پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اگر مقابلہ کانٹے کا ہو۔مغربی بنگال میں انڈین نیشنل کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتیں بھی میدان میں ہیں، لیکن ان کی سیاسی طاقت پہلے جیسی نہیں رہی۔بالخصوص کانگریس اندرونی خلفشار کا شکار ہے اورجس کی وجہ سے بہار میںبھی وہ ناکام رہی اور مغربی بنگال میں بھی کوئی صاف تصویر نظر نہیں آرہی ہے۔ البتہ بایاں محاذ متحد ہے اورمسلم ووٹوں کو اپنی طرف کرنے کی جدوجہد بھی کر  رہی ہے۔اگر یہ جماعتیں مضبوط واپسی کرتی ہیں تو مسلم ووٹوں میں کچھ حد تک تقسیم ہو سکتی ہے، لیکن فی الحال ان کی حالت ایسی نہیں کہ وہ ترنمول کانگریس کے ووٹ بینک کو بڑے پیمانے پر متاثر کر سکیں۔انتخابی سیاست میں مسلم ووٹروں کا رویہ صرف مذہبی شناخت پر مبنی نہیں ہوتا بلکہ کئی سماجی و معاشی عوامل بھی اہم ہوتے ہیں۔مغربی بنگال کے مسلمان ان مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ووٹ دیتے ہیں، اور یہی چیز انہیں ایک حد تک متحد رکھتی ہے۔جبکہ بہار اور بنگال کی سیاست میں ایک بڑا فرق یہ  ہے کہ بہار میں سیاسی اتحاد نسبتاً کمزور تھا اور مقامی سطح پر کئی عوامل نے ووٹوں کی تقسیم کو ممکن بنایا۔ اس کے برعکس مغربی بنگال میںایک مضبوط علاقائی جما عت (ٹی ایم سی )  موجود ہے۔بی جے پی ایک واضح حریف ہے،مسلم ووٹروں میں اسٹریٹیجک ووٹنگ کا رجحان زیادہ ہے۔اسی لیے بہار جیسی صورتحال کا دہرانا آسان نہیں۔غرض کہ مغربی بنگال کے آئندہ اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں کا کردار پھر فیصلہ کن ہوگا۔ اگرترنمول کانگریس اپنی پوزیشن برقرار رکھتی ہے بی جے پی اپنی طاقت میں اضافہ کرتی ہے اور اپوزیشن منتشر رہتی ہے ۔تو غالب امکان یہی ہے کہ مسلم ووٹ بڑی حد تک متحد رہیں گے۔البتہ اگر کوئی نئی سیاسی طاقت مضبوط مقامی قیادت کے ساتھ ابھرتی ہے، تو صورت حال بدل سکتی ہے۔
 
 
مغربی بنگال کی سیاست کو بہار کے سانچے میں فٹ کرنا درست  نہیں ہوگا۔ اگرچہ اسد الدین اویسی اور ان کی جماعت مستقبل میں یہاں اپنی موجودگی بڑھانے کی کوشش کر سکتی ہے، لیکن کوئی واضح امکان نظر نہیں آتا کہ وہ بڑے پیمانے پر مسلم ووٹوں کو تقسیم کر سکیں۔ مسلمان ووٹرز کی سیاسی بصیرت، ممتا بنرجی کی قیادت، اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف ایک مشترکہ حکمت عملی یہ تین عوامل اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مغربی بنگال میں بہار جیسی صورتحال کا اعادہ مشکل ہے۔مختصر یہ کہ مغربی بنگال کے انتخابات میں مسلمان ووٹروں کا کردار محض عددی نہیں بلکہ اسٹریٹیجک بھی ہے، اور یہی چیز انہیں ہندوستانی جمہوریت میں ایک اہم اور بااثر قوت بناتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK