• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

اسرائیل، انٹیلی جنس کے ساتھ ہی سفارتی محاذ پر بھی ناکام ہو گیا ہے

Updated: October 15, 2023, 12:44 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai

اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے استعماری قوتوں کا طریقہ رہا ہے کہ وہ بار بار اس بیانیہ کو پیش کرتی ہیں کہ جس سے امریکی، مغربی بلکہ پوری دنیا کے عوام گمراہ ہو جائیں۔

Israeli Prime Minister Netanyahu. Photo: INN
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو۔ تصویر:آئی این این

اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے استعماری قوتوں کا طریقہ رہا ہے کہ وہ بار بار اس بیانیہ کو پیش کرتی ہیں کہ جس سے امریکی، مغربی بلکہ پوری دنیا کے عوام گمراہ ہو جائیں۔ عراق پر حملے کی مثال سامنے ہے جس میں ایک ملین سے زیادہ لوگ مار دیئے جبکہ حملے کی جو وجہ بتائی گئی تھی وہ ہتھیار کبھی نہیں ملے۔ اسرائیل تو امریکہ کا بغل بچہ ہے۔ اس کی حفاظت کے لئے امریکی انتظامیہ پوری طرح سرگرم رہتا ہے۔ وہاں کی حکومت بھی اسرائیل کی ایک آہ پرمرنے مارنے کو تیار ہو جاتی ہے۔ اب اس پس منظر میں اسرائیل کی فوج ، اس کی انٹیلی جنس ، اس کی ٹیکنالوجی اور اس کے جدید ہتھیاروں کو دیکھا جائے تو پوری دنیا میں یہ ہوا بنایا گیا ہے کہ اسرائیل سے کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا ، اس کے پاس انتہائی جدید اور تربیت یافتہ جاسوسی ایجنسی ہے جسے ’موساد‘ کہا جاتا ہے۔ اس کی ٹیکنالوجی اورسافٹ ویئرس کسی بھی ملک کے مضبوط سے مضبوط کمپیوٹر نظام کو منٹوں میں گھٹنوں پر لاسکتے ہیں۔
اس پورے بیانیہ کو گزشتہ کئی دہائیوں سے اتنا راسخ اور پختہ کردیا گیا کہ سبھی یہ ماننے لگے تھے کہ اسرائیل کو ہرایا نہیں جاسکتا لیکن یہ بیانیہ اور اس کا بھرم گزشتہ ہفتے سنیچر کو اس وقت ٹوٹ گیا جب فلسطینیوں کی آزادی کیلئے لڑنے والی تنظیم حماس نے اسرائیلی فوج ، انٹیلی جنس اور ٹیکنالوجی کو ایک ساتھ ہر محاذ پر شکست دے دی۔ حماس نے زمین ، آسمان اور پانی تینوں جگہوں سے وہ حملے کئے کہ اسرائیل کے دانت کھٹے ہوگئے۔ ان حملوں کے بعد اپنے زعم میں فلسطین کو مٹی میں ملادینے کی بار بار باتیں کرنے والے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ ان کے اقدامات پر بوکھلاہٹ اور جھلاہٹ غالب آگئی۔ یہاں تک کہ انہوں نے اس بوکھلاہٹ میں پے در پے وہ غلطیاں کرنا شروع کردیں جس کی توقع حماس نے ان سے کی تھی۔ انہوں نے فوری طو ر پر جو فیصلہ کیا وہ یہ تھا کہ فورسیز کی بڑی تعداد کو اس علاقے سے ہٹالیا جہاں حملہ ہو رہا تھا اور اسے یہودی آبادکاروں کی حفاظت پر مامور کردیا۔ اس فیصلے نے حماس کومزید موقع فراہم کردیا۔ یہ تو ہوئی حکومتی سطح کی غلطیاں لیکن انٹیلی جنس کی سطح پر جو بھیانک غلطیاں ہوئی ہیں اس کا درست اندازہ جنگ ختم ہونے کے بعد ہی لگایا جاسکے گا کیوں کہ موساد کو حماس کے اتنے بڑے منصوبے کی بھنک تک نہیں لگی جبکہ اسرائیل اپنے شہریوں کی حفاظت کے نام پر کروڑوں خرچ کرتا ہے۔ اس میں موساد کو دیا جانے والا فنڈ بھی شامل ہے۔ اب اسرائیلی میڈیا اور اپوزیشن بجاطور پر یہ سوال اٹھارہے ہیں کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں اتنی بری طرح ناکام کیسے ہوئیں ؟
یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مصری انٹیلی جنس نے موساد کو اطلاع فراہم کی تھی کہ حماس کوئی بہت بڑا منصوبہ بنارہا ہے لیکن ایجنسی نے اس پر دھیان نہیں دیا۔ اسی لئے یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ موساد کو وقت رہتے حماس کے ارادوں کی بھنک کیوں نہیں لگی جبکہ ان کے پاس ابتدائی انفارمیشن تھی ؟ ہر چند کہ حماس کے لڑاکوں نے بالکل غیر روایتی انداز میں غزہ کی سرحدوں سے نکل کر اسرائیل پر حملہ کیا۔ انہوں نے پیرا گلائیڈرس کااستعمال کرکے جو حملہ کیا وہ اسرائیل میں کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا۔ ان پیرا گلائیڈرس نے وہ سرحد اور اس کے کنارے قائم کی گئی طویل حفاظتی دیوار بھی بآسانی پار کرلی جو اسرائیل کا غرور تھی ۔ حماس کے لڑاکے موٹر سائیکلوں سے ، سائیکلوں سے اور یہاں تک کہ بیل گاڑیوں سے بھی حملہ آور ہوئے۔ اس طرح کے حملے کا کوئی جدید تربیت یافتہ فوج تصور بھی نہیں کرسکتی او ر اسی لئے وہ اس طرح کے مقابلے کے لئے تیار بھی نہیں ہوپاتی ہے۔ حماس نے یہی نقطہ ذہن میں رکھتے ہوئے غالباً اپنی تیاری کی اور اسرائیل کو پوری دنیا کے سامنے برہنہ اور بےبس کردیا۔ ہمارے خیال میں موساد کے پاس حملے کی اطلاع ہو گی لیکن انہیں یہ اندازہ قطعی نہیں ہو گا کہ یہ حملے اتنے غیر روایتی طریقے سے کئے جائیں گے۔ 

اگر انٹیلی جنس اور حکومتی سطح پر اسرائیل ناکام ہوا ہے تو سفارتی سطح پر بھی اسے سنگین سوالوں کا سامنا کرنا پڑ رہا  ہے کیوں کہ حملے کے پہلے دن تو پوری دنیا کے ممالک نے حماس کی مذمت کی اور اسرائیل سے یکجہتی کا اظہار کیا لیکن جیسے جیسے دن گزرتے جارہے ہیں ، اسرائیل کے وحشیانہ حملے بڑھتے جارہے ہیں اور غزہ سے انسانی المیے کی جو تصاویر سجامنے آرہی ہیں ، ویسے ویسے اسرائیل کی حمایت میں کمی آرہی ہے۔ کل تک جن یورپی ممالک نےآنکھ بند کرکے اسرائیل کی حمایت کی تھی اب وہی فلسطینیوں پر حملے بند کرنے کے لئے آواز بلند کررہے ہیں۔ فلسطین کو انسانی بنیادوں پر مدد بھی پہنچانے کا عزم کیا جارہا ہے اور مسئلہ کےپر امن حل کے لئے دبائو بنایا جارہا ہے۔
روس نے اس معاملے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس نے پرتشدد حملوںکی مذمت تو کی لیکن اس کے ساتھ ہی اہل غزہ کی مکمل حمایت کا اعادہ بھی کردیا۔ امریکہ کے مقابلے میں روس کے میدان میں اتر جانے سے بھی مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن متاثر ہوا ہے لیکن اس کی وجہ سے عالمی سطح پر رائے عامہ  بڑی حد تک فلسطین کے حق میں ہموار ہونے لگی۔
یہ اسرائیل کی بہت بڑی سفارتی ناکامی ہے کیوں کہ وہ بہت تیزی کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں قابل قبول ملک کی حیثیت اختیار کررہا تھا ،کئی عرب ممالک اس سے ہاتھ ملانے کو تیار نظر آرہے تھے جبکہ ان ممالک کے عوام کیلئے اسرائیل اب بھی قابل قبول نہیں ہے لیکن حماس کے حملے  نے اس کی سفارتی کوششوں پر بھی پانی پھیر دیا۔ اب عرب ممالک اپنے عوام کے دبائو میںکھل کر اسرائیل کی مذمت کررہے ہیں اور اس پر جنگ روکنے کا دبائو بنارہے ہیں۔ یورپی ممالک اس پر غزہ کی راہداری کھولنے کا دبائو بنارہے ہیں تو افریقی ممالک بھی اس کی نا ک میں دم کرنے کے لئے تیار نظر آرہے ہیں۔ یہاں ایک اور نکتہ یہ بھی ذہن میں رہے کہ اسرائیل نےکمال ہوشیاری سے ’دو ریاستی حل‘ کو پس پشت ڈال دیا تھا اور اس معاملے میں کئی ممالک کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہو گیا تھا لیکن حماس نے اس مسئلے کو پھر مرکز نگاہ بنادیا ہے۔
 اب پوری دنیا میں اس مسئلے کو ہمیشہ کے لئے حل کرنے کی بات کی جارہی ہے۔ اسرائیل کے حق میں اگر آواز اٹھ رہی ہے تو فلسطینی ریاست کے قیام کے لئے بھی آواز بلند کی جانے لگی ہے جسے عالمی سطح پر اور سفارتی طور پر نیتن یاہو بہت بڑی ناکامی قرار دیا جاسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK