Inquilab Logo Happiest Places to Work

جگر کے نغمے زندہ رہیں گے

Updated: April 05, 2026, 3:15 PM IST | Sajjad Zaheer | Mumbai

اس وقت تک جب تک اُردو زبان اور اس کے بولنے والے زندہ ہیں۔

Jigar moradabadi: birth: 6 April 1890* Death: 9 September 1960. Photo: INN
جگرمرادآبادی: آمد: ۶؍اپریل ۱۸۹۰ء٭ رخصت: ۹؍ستمبر ۱۹۶۰ء۔ تصویر: آئی این این

اردو ادب کا جدید دور حیرت انگیز طور پر بارآور دور ہے۔ اپنے تنوع، رنگینی ، وسعت اور بلندی کے اعتبار سے غالباً  کسی پہلے کے دور میں اردو ادب اس درجے پر نہیں پہنچا تھا۔ اسی دور نے اردو شعر کو اقبالؔ اور اردو نثر کو پریم چند ؔ جیسی عظیم ہستیاں عطا کیں۔ اسی دَور میں اردو افسانے نے اپنے لئے ایک عالمی مقام حاصل کیا۔ تنقید نگاری کی نئی راہیں کھلیں، شعر کے میدان میں پرانے تصورات کی جگہ نئے تصورات، پرانے اسلوب و طرز کی جگہ نئے  طرز اور اسلوب نے لینا شروع کی۔ اگر قدیم اور مقبول عام انداز اور اطوار باقی بھی رہے تو اِن میں اندرونی اور معنوی تبدیلیاں پیدا ہونے لگیں۔ ترقی پسند ادبی تحریک نے ادب کی ہر صنف پر گہرا اثر ڈالا۔ یہ سب دراصل ہندوستانی ذہن اور روح پر اس جدوجہد کا عکس تھا جو برطانوی سامراج اور قدیم رجعت پرست عناصر کے خلاف اور آزاد جمہوریت اور ایک نئی اور خوش حال اور مہذب زندگی کو حاصل کرنے کے لئے ہندوستانی عوام کررہے تھے۔ ہندوستان کی ہر زبان کے ادب میں کم و بیش ان کیفیتوں کا عکس موجود ہے۔ در حقیقت ہمارے قومی ادب کی نشاۃ ثانیہ آزادی ، سامراج دشمنی، جمہوریت اور سوشلزم کی انہیں تحریکوں کے ساتھ وابستہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: رشوت ٹیکس

جگرؔمرادآبادی  ایک  ایسے شاعر تھے جنہیں صحیح معنوں میں ہندوستان کی قدیم تہذیبی اور تمدنی قدروں اور ہماری نئی جمہوری قدروں کے درمیان کی سنہری کڑی کہا جاسکتا ہے۔

جگرؔ صاحب کی شاعری کے سانچے وہی ہیں جو صدیوں سے فارسی اور اردو غزل کے سانچے تھے اور جگرؔ صاحب کا شعور یعنی ان کا حسن و عشق اور زندگی کا تصور، ان کے اخلاق و شرافت کا معیار، ان کی انسان دوستی کا پیمانہ، یہ سب وہی معلوم ہوتے ہیں جو مثلاً حافظؔ شیرازی، میرؔ یا غالبؔ کے یہاں بھی ہمیں ملتے ہیں۔ پھر بھی چونکہ زمانہ بدل چکا تھا، زندگی کے بہت سے تقاضے بدل چکے تھے اس لئے جگرؔ کا کلام سنتے یا پڑھتے وقت بار بار ہم چونک پڑتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ راگ اور سُر ایک ہونے کے باوجود ماحول کی کیفیات نے نغمہ کار پر اتنا گہرا اثر ڈالا ہے کہ وہ ہمارے ذہن اور روح اور جذبات کے بالکل نئے تاروں کو چھیڑ دیتا ہے۔ ایسے تار جو کبھی کبھی جدید زندگی کے آہنگ کو بیدار کرتے ہیں۔ معلوم نہیں خود جگرؔ صاحب کو اس کا شعوری احساس تھا یا نہیں۔ بہرحال یہ ایک حقیقت ہے ، اور میرا خیال ہے کہ ان کی غیرمعمولی مقبولیت کا راز دراصل یہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: قیام ِ امن، افرادِ قوم کی ذہن سازی اور اَدیب کا کردار

مثلاً جگرؔ کے یہ تین شعر لیجئے:

نغمۂ آرزو و رقصِ حیات

مرحبا عاشقانِ خوش اوقات

تُو محبت کو لازوال بنا

زندگی کو اگر نہیں ہے ثبات

ہم نے دیکھے ہیں جاگتے ہوئے دل

ہم سے پوچھو ستم کے احسانات

امید ہے کہ کوئی مجھ پر ’’عاشقانہ‘‘ اشعار کو سیاسی رنگ دینے کا الزام نہ لگائے گا، لیکن ان اشعار کو پڑھ کر بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہم عہد ِ حاضر کے ان متوالوں کی طرف خیال نہ کریں جنہیں زندگی سے پیار ہے، اور جو اِسے بنانے، سجانے اور سنوارنے کے لئے سب کچھ کر گزرتے ہیں؟ کیا اس شعر میں جگرؔ ایسے ہی لوگوں کو مرحبا نہیں کہہ رہے ہیں ؟ اور کیا ان کی ہی کاوشوں اور قربانیوں اور محبت کو امر بنانے کی جدوجہد کو وہ دنیا کی حسین ترین اور عظیم ترین جدوجہد نہیں سمجھتے؟ اور کیا انہیں کے ’’جاگتے ہوئے دل‘‘ جگرؔ کی نظر میں بے حد و انتہا گراں قدر اور بے بہا نہیں تھے؟

یہ بھی پڑھئے: گرم خون

اگر اوپر کے اشعار میں جگرؔ صاحب کے اشارے کسی قدر مبہم بھی سمجھ لئے جائیں تو اس شعر کی ’’مادیت‘‘ اور ’’زمین پرستی‘‘ سے کیسے انکار کیا جاسکتا ہے؟

’’یہی زمیں ترا مسکن، یہی ترا مدفن

اِسی زمین سے تو مہر و ماہ پیدا کر!‘‘

جگرؔ صاحب غزل کے معاملے میں کافی ’’متعصب‘‘ واقع ہوئے تھے۔ کافی عرصے تک وہ نظم کہنے والوں کو شاعر ماننے سے ہی انکار کرتے رہے۔ اِن کے نزدیک شاعری اندرونی کیفیات اور واردات کا لطیف اظہار کرتی ہے، واقعات کا بیان اس کا کام نہیں۔ لیکن بعد کو انہوں نے اپنے تصورات میں کافی ترمیم کی اور خود بھی چند نظمیں لکھیں ۔ پھر بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کے بہترین اشعار اور ان کی بہترین غزلیں، جو اب لوگوں کی زبانوں پر محاوروں اور کہاوتوں کی طرح چڑھ گئی ہیں، وہی ہیں جن میں زندگی اور عشق، ہجر اور وصال کی صاف اور سادہ حقیقتیں غیرمعمولی نرمی اور لطافت کے ساتھ بیان کی گئی ہیں، مثلاً

دنیا کے ستم یاد، نہ اپنی ہی وفا یاد

اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد

کیا جانئے کیا ہوگیا اربابِ جنوں کو

مرنے کی ادا یاد نہ جینے کی ادا یاد

مدت ہوئی اک حادثۂ عشق کو لیکن

اب تک ہے ترے دل کے دھڑکنے کی صدا یاد

مظلوم اور محنت کش انسانوں کے ساتھ جگرؔ کی یگانگت اور ہمدردی اور انسان کی عظمت کا احساس ان کی ایک خصوصیت ہے، مثلاً

اے سہاروں کی زندگی والو

کتنے انسان بے سہارے ہیں

ہم تو اب ڈوب کر ہی ابھریں گے

وہ رہیں شاد جو کنارے ہیں

وہ ہمیں ہیں کہ جن کے ہاتھوں نے

گیسوئے زندگی سنوارے ہیں

اور ایک دوسری غزل میں کہا ہے:

یہ خون جو ہے مظلوموں کا، ضائع تو نہ جائے گا، لیکن

کتنے وہ مبارک قطرے ہیں جو صرف ِ بہاراں ہوتے ہیں

جگرؔ کو یہ احساس تھا کہ مظلوم انسانوں کی جدوجہد سے ایک نئی اور بہتر دنیا جنم لے گی:

جو طوفانوں میں پلتے جارہے ہیں

وہی دنیا بدلتے جارہے ہیں

نکھرتا آرہا ہے رنگ ِ گلشن

خس و خاشاک جلتے جا رہے ہیں

جگر صاحب ۱۸۹۰ء میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ زمانہ جاگیری سماج کے زوال کا بھی  تھا۔ جگرؔ صاحب اپنی تعلیم و تربیت اور ماحول  کے لحاظ  سے  اِس سماج سے بھی وابستہ تھے۔ وہ غالباً اس سماج کے زوال سے کبھی کبھی غمزدہ بھی ہوتے تھے۔ ان کی ایک بہت مشہور غزل ہے:

وہی مے خانہ و صہبا وہی ساغر وہی شیشہ

مگر آوازِ نوشا نوش مدھم ہوتی جاتی ہے

وہی ہے شاہد و ساقی مگر دل بجھتا جاتا ہے

وہی ہے شمع لیکن روشنی کم ہوتی جاتی ہے

وہی ہے زندگی لیکن جگرؔ یہ حال ہے اپنا

کہ جیسے زندگی سے زندگی کم ہوتی جاتی ہے

کون کہہ سکتا ہے کہ ان اشعار میں ہمارے سماج کے ان طبقوں کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیت کی عکاسی نہیں ہے جن کے لئے زندگی بے معنی اور کھوکھلی ہوچکی ہے اور جنہیں ہر طرف زوال اور موت کے سائے ہی نظر آتے ہیں؟

لیکن جگرؔ، جو زندگی میں خلوص اور محبت اور والہانہ سرمستی کے قائل تھے، اپنے وطن میں ’’سچی‘‘ جمہوریت کا دور دورہ چاہتے تھے۔  جنوری ۱۹۵۰ء میں انہوں نے اپنی نظم ’’اعلانِ جمہوریت‘‘ شائع کی۔ اس کے چند اشعار سے جگرؔ کا جمہوری مسلک واضح ہوجاتا ہے:

چمن چمن ہی نہیں جس کے گوشے گوشے میں

کہیں بہار نہ آئے، کہیں بہار آئے

یہ میکدے کی، یہ ساقی گری کی ہے توہین

کوئی ہو جام بکف، کوئی شرمسار آئے

نہ ہو جو عام مسرت، محال ہے اے دوست

کہ زندگی کو کسی حال میں قرار آئے

جگرمرادآبادی کی وفات سے اردو شاعری  موجودہ دور کے اپنے سب سے ہردلعزیز اور مقبول شاعر سے محروم ہوگئی لیکن جگرؔ اپنی غزلوں کے دیوان میں اپنی روح کا لطیف ترین اور شیریں ترین ترنم ہمارے لئے چھوڑ گئے ہیں۔

ان کے نغمے اس وقت تک زندہ رہیں گے جب تک اردو زبان اور اس کے بولنے والے زندہ ہیں۔ جمہوری ہندوستان اپنے اس محبوب شاعر کو اپنے دل میں جگہ دے گا اور صدیاں بیت جانے کے بعد بھی آنےو الی نسلیں اور خاص طور پر نوجوان ہندوستانی لڑکے اور لڑکیاں، حسن اور عشق کے ان لازوال نغموں کو گنگائیں گے جو جگرؔ ان کے لئے چھوڑ گئے ہیں ، اور جب ان کے دلوں میں محبت کی متبرک آگ بھڑکے گی تو وہ جگرؔ کو خلوص اور عقیدت مندی کے ساتھ یاد کرینگے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK