Inquilab Logo Happiest Places to Work

گرم خون

Updated: March 23, 2026, 11:52 AM IST | Tayyaba Rafiq | Mumbai

’’چلو دور ہٹو سب۔ چلو جلدی‘‘’’اے سنائی نہیں دیتا کیا ؟ پیچھے ہٹ‘‘، ڈنڈے سے زمین پر مارتے ہوئے سپاہی سبھی کو پیچھے کرنے لگے۔ ایکدم سے افراتفری مچ گئی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

’’ہم انقلاب لائیں گے ‘‘، ’’ہم انصاف کے لئے لڑیں گے ‘‘، ’’اس ملک کے حالات بدلنا ہماری ذمہ داری ہے ‘‘چوراہے پر کچھ نوجوان لڑکے لڑکیاں ماتھے پر سرخ پٹی باندھے، سفید کرتے پہنے، ہاتھوں میں بڑے بڑے بینر لیے نعرے لگا رہے تھے۔ دھیرے دھیرے اُن کے ارد گرد چند ایک لوگ اکٹھا ہو گئے۔ ہفتے کا پہلا دن علی الصباح بھیڑ والے اس علاقے میں یونیورسٹی کے یہ طلبہ دفتر کو جانے والی بھیڑ کے بیچ کھڑے بلند آواز نعرے لگا رہے تھے۔ ادھوری نیند سے جگے، آدھے سوئے ہوئے لوگ اس شور سے چونک کر بیدار ہوتے، بینر اور تختیاں دیکھتے اور پھر اپنی منزل کی اور بڑھ جاتے۔ 
نوجوان خون کا جوش اُن کی آواز میں جھلک رہا تھا۔ اسکول جاتے بچے پلٹ پلٹ کر، بس کی کھڑکیوں سے جھانک کر انہیں دیکھ رہے تھے۔ سگنل پر جھنڈے بیچنے والے بچے کھڑے ہوکے انہیں دیکھتے اور سگنل لگنے پر گاڑیوں کے پاس جا کے جھنڈے بیچتے۔ دوبارہ سبز بتی پر مجموعے کے پاس آجاتے۔ 
’’جب جب ظلم کا اندھیرا چھائے گا، ملک کا نوجوان آگے آئےگا‘‘، لاٹھی، ڈنڈے، نہیں انصاف کا جواب اپنی آواز میں لائے گا۔ ‘‘ہاتھوں میں دف بجاتے وہ دائرے میں گھومتے نعرے لگا رہے تھے۔ آس پاس بے مقصد گھوم رہے لوگ وہاں اکٹھا ہو رہے تھے۔ ان نوجوانوں کی آواز کو تالیوں کا بیک گراؤنڈ میوزک دیا جانےلگا۔ سڑک پر گاڑیاں رواں دواں تھیں۔ چوراہے پر آتے ہی اس مجموعے کو دیکھ کچھ ہارن کانوں کو تکلیف دینے لگتے مگر پھر اپنی ہی رفتار میں گزر جاتے۔ بڑھتی بھیڑ دیکھ نوجوانوں کا جوش بھی بڑھنے لگا۔ 
’’تانا شاہوں کو جانا ہوگا انصاف کا ایسا شعلہ بھڑکانا ہوگا۔ ‘‘ ’’کمزوروں پر ظلم بند کرنا ہوگا، انصاف کا ایسا شعلہ بھڑکانا ہوگا‘‘، ’’غریبوں کو انصاف دلانا....‘‘ ’’دھڑام..... دھڑام..... ڈھوم ‘‘، ایکدم سے کوئی بہت بڑے ٹکراؤ کی آواز کانوں پر پڑی۔ ایک پل کو ہر طرف سناٹا ہوگیا۔ اگلے پل سبھی ایک سمت میں بھاگے۔ 
ٹریفک سگنل کی دائیں طرف ایک گاڑی ڈیوائیڈر سے بری طرح ٹکرا گئی تھی۔ موقعہ واردات پر جو منظر تھا وہ دل دہلانے والا تھا۔ اس بڑی سی موٹر کار نے راستہ پار کرنے والے ایک بچے کو کچل کر رکھ دیا تھا۔ ہر طرف خون بہہ رہا تھا۔ کار کے پہیے کے نیچے اس بچے کا سر تھا اور پہیہ خون سے لت پت تھا۔ اور آس پاس جھنڈے بکھرے پڑے تھے۔ نوجوان گروہ آگے بڑھا اور کار کا دروازہ کھول کر ایک اپنی ہی عمر کے نوجوان کو باہر نکالا۔ وہ سترہ برس کا کم عمر لڑکا تھا۔ نوجوانوں نے اسے دھر دبوچا۔ مگر وہ بالکل نہیں گھبرایا۔ 

یہ بھی پڑھئے: فرشتوں کا تجسس

’’خبردار جو مجھے ہاتھ لگایا۔ میں کون ہوں یہ جانتے نہیں تم لوگ۔ ‘‘’’ایک معصوم بچے کی جان لی ہے تو نے، اور اوپر سے یہ ہیکڑی۔ ‘‘ایک نوجوان نے اس کا گریبان پکڑ لیا۔ لڑکے نے اسے دھکا دے دیا۔ اتنے میں ایک عمر دراز عورت دوڑتی آئی۔ اُسکا حلیہ سگنل پر جھنڈے بیچنے والے بچوں جیسا ہی تھا......میلا کچیلا۔ اس نے بچے کو دیکھا اور ایکدم سے چیخ پڑی’’میرا بچہ‘‘ اور وہیں بیٹھ گئی اور چیخ چیخ کر رونےلگی۔ 
لڑکے نے کسی کو فون لگا دیا تھا’’جلدی آؤ میں یہاں نہیں رک سکتا کم فاسٹ‘‘، وہ بڑی ہی ہتک آمیز نظروں سے اس عورت کو دیکھنے لگا اور زیرلب کچھ کہنے لگا۔ سرخ پٹی والا نوجوان کچھ کرتا اس سے پہلے ہی پولیس سائرن کی آواز آئی۔ پولیس وین آچکی تھی۔ دو سپاہی دوڑتے ہوئے آگے آئے۔ 
’’چلو دور ہٹو سب۔ چلو جلدی‘‘’’اے سنائی نہیں دیتا کیا ؟ پیچھے ہٹ‘‘، ڈنڈے سے زمین پر مارتے ہوئے سپاہی سبھی کو پیچھے کرنے لگے۔ ایکدم سے افراتفری مچ گئی۔ زمین پر بیٹھی بلک بلک کر روتی عورت کو ڈنڈے کی دھاک دکھا کر اٹھنے پر مجبور کیا گیا۔ ایک نوجوان نے اسے سہارا دیا۔ فوت ہوئے بچے کے ساتھی بچے ایک کونے میں بلک بلک کر رو رہے تھے۔ ’’میرا بچہ.....یہ کیا کر دیا ظالم نے خدایا ...‘‘ عورت زار و قطار رو رہی تھی
’’صبر کر مائی اس ظالم کو ہم سزا دلائیں گے۔ قاتل ہے یہ’’ نوجوان چیخا۔ یہ سنتے ہی ایک پولیس افسر اُس کے پاس آیا۔ ’’اے.....شش .....خبردار جو دوبارہ بولا۔ جانچ ہوگی، ہم ہمارا کام کر رہے ہیں خاموش رہو۔ ‘‘’’دکھائی دے رہا ہے۔ قاتل سامنے ہے پر ہتھکڑی نہیں لگ رہی‘‘، ایک نوجوان بول اٹھا۔ وہ افسر اُسکے پاس آیا۔ اس کے شانے پر ہاتھ رکھا اور کہا ’’ کہا نا انصاف ہوگا۔ اپنا گرم خون ٹھنڈا رکھو۔ ‘‘
’’قاتل سے مسکرا مسکرا کر بات کرنے والا انصاف کریگا؟‘‘ دوسرا نوجوان بول پڑا۔ پولیس افسر اُسکے پاس گیا اسے دیکھتے ہوئے مسکرایا ’’دوبارہ یہ لفظ زبان پر آیا تو .....‘‘
’’ کیوں ؟ کسی امیر کی اولاد ہے کیا؟‘‘ اس نے گھور کر افسر کو دیکھا۔ افسر پھر مسکرایا۔ ’’منسٹر صاحب!!!‘‘ کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا۔ اب وہ بچے کی دادی کو اپنے ساتھ آگے لے گیا۔ نوجوان ایک دوسرے کو خاموش اور حیرت بھری نظروں سے دیکھنے لگے۔ اور پھر اس منظر کی اور دیکھا جہاں بچے کی لاش پڑی تھی اور اس سے کچھ فاصلے پر وہ لڑکا ایک کرسی پر بیٹھا تھا۔ اور اُسکا ڈرائیور چھاتا لئے کھڑا تھا۔ نوجوان مُٹھی بھینچنے لگے۔ 
ایک نوجوان سے رہا نا گیا وہ اس کی اور غصّے میں بڑھنے لگا، تبھی ایک سپاہی نے اسے روک لیا۔ ’’سزا دو اسے وہ غرایا۔ ’’ٹھنڈ رکھ۔ تیرا کچھ لگتا تھا وہ بچہ؟‘‘ سپاہی نے اس کے سینے پر لاٹھی رکھتے ہوئے پوچھا۔ 
’’نہیں ....لیکن معصوم کا قتل ہوا ہے۔ اس کی دادی بیچاری ....‘‘ نوجوان کا جملہ ادھورا رہ گیا......سپاہی نے انگلی سے اشارہ کیا۔ اس بچے کی دادی اس منسٹر کے سیکریٹری کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑی تھی اور ہاتھ میں پیسوں کی موٹی گڈی تھی۔ نوجوان نے حیرت سے ایک پل عورت کو، ایک پل اس افسر کو اور ایک پل اپنے ساتھیوں کو دیکھا۔ تبھی وہ افسر پاس آیا۔ 
’’سبھی کو ایک ایک گڈی مل جائےگی۔ بوڑھی عورت کو کوئی شکایت نہیں ہے۔ غلط وقت پر سڑک پار کرتے ہوئے بچہ حادثہ کا شکار ہو گیا اور گاڑی ڈرائیور چلا رہا تھا۔ ‘‘ افسر مسکرایا۔ 
’’مگر بچہ...‘‘ہاتھوں پر گرم نوٹوں کا بنڈل محسوس ہوا اور زبان خاموش ہو گئی۔ گرم خون سرد ہو چکا تھا۔ 
( مصنفہ گوگٹے جوگلیکر کالج رتناگیری میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں )

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK