Inquilab Logo Happiest Places to Work

قیام ِ امن، افرادِ قوم کی ذہن سازی اور اَدیب کا کردار

Updated: March 29, 2026, 3:22 PM IST | Mubeen Mirza | Mumbai

سماج میں قیامِ امن کا مسئلہ بنیادی اور براہِ راست طور سے اہل ادب کیلئے نہیں، اہل سیاست یا انتظامیہ کیلئے سوال ہے تاہم اس حوالے سے ادیب اپنی سوچ اور اپنے ردِ عمل کا اظہار اپنی داخلی کیفیت کے تحت کرتا ہے اِسلئے کہ اُس کا ردِ عمل دراصل اُس آواز کو سامنے لاتا ہے جسے ہم ضمیر کی آواز کہتے ہیں۔

Poets and writers try to awaken the public through their writings, which is their primary duty. Photo: INN
شاعر و ادیب اپنی تحریروں کے ذریعے عوام کو بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ان کا بنیادی فرض ہے۔ تصویر: آئی این این

انتشار اور بدامنی کے دور میں انسانی معاشرے کو سب سے زیادہ ضرورت قیامِ امن کی ہوتی ہے اور اِس ضرورت کو پورا کرنے میں ادیب کا کیا کردار ہے یا ہوسکتا ہے؟ ادیب کے کام کو یا معاشرے میں اُس کے کردار کو محض امن سے منسوب کرنا، سراسر غلط فہمی ہے، جس سے سیاسی محرکات اور مقاصد کی بنیاد پر ہر بار بہ وقت ِ ضرورت پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کا مشاہدہ ہم صرف اپنے یہاں نہیں، دنیا کے کچھ اور ممالک میں بھی تاریخ کے اوراق دیکھ کر بہ آسانی کرسکتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ادیب کا فن اُس کے داخلی تقاضوں سے اپنے اظہار کے قرینے کا تعین کرتا ہے۔ تاہم یہ بھی مسلّمہ امر ہے کہ اُس کے داخلی تقاضوں کی صورت گری میں اس کے خارج کی صورتِ حال اور اس کے گرد و پیش کا ماحول بھی ایک اہم اور اثر آفریں قوت کا درجہ رکھتا ہے البتہ اس خارجی قوت کا اثر ہر ادیب اپنی انفرادی افتادِ طبع اور داخلی کیفیت کے تحت ازخود قبول کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاعروں نے صرف امن و سلامتی کے نغمے ہی نہیں گائے، بلکہ رجز بھی لکھے ہیں اور وہ دنیا کے بڑے ادب کا حصہ تسلیم کئے جاتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: گرم خون

جس سوال سے گفتگو کا آغاز کیا گیا، وہ پہلی بار نہیں اٹھایا گیا۔ دنیا کی مختلف تہذیبوں اور معاشروں نے اپنے مختلف ادوار میں اور مختلف حالات اور مسائل کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے اس حوالے سے بارہا گفتگو کی ہے، خود ہمارے یہاں گزشتہ سات دہائیوں میں کئی بار اس نوع کے کئی مسائل معرضِ بحث میں آئے ہیں، کبھی بالواسطہ اور کبھی براہِ راست۔ آج ہمارے یہاں امن کے قیام میں ادیب کا کیا کردار ہوسکتا ہے؟ دیکھا جائے تو سماج میں قیامِ امن کا مسئلہ بنیادی اور براہِ راست طور سے اہلِ ادب کیلئے نہیں، اہلِ سیاست یا انتظامیہ کے لئے سوال ہے۔ تاہم اس حوالے سے ادیب اپنی سوچ اور اپنے ردِ عمل کا اظہار اپنی داخلی کیفیت کے تحت کرتا ہے۔ اِس لئے کہ اُس کا ردِ عمل دراصل اُس آواز کو سامنے لاتا ہے جسے ہم انسانی ضمیر کی آواز کہتے ہیں۔ یہ آواز انسانی ابتلا کے تجربے کو بیان کرتی اور اس کو مسترد کرتی ہے۔ 
یہ آزادی اور بنیادی سہولتوں کے ساتھ جینے کے انسانی حق پر غیر مشروط طور سے اصرار کرتی ہے۔ یہ اصل میں اُن انسانی اقدار کا اظہار ہوتا ہے جن پر ادیب یقین رکھتا ہے اور جن کیلئے نظری، فکری، لسانی، سماجی اور ثقافتی تعصبات سے بالا تر ہوکر آواز اٹھاتا ہے۔ اسلئے یہ عمل دراصل ادیب کی بنیادی ذمے داری ہے اور اس کے ادبی شعور کی بیداری کا ثبوت بھی۔

یہ بھی پڑھئے: اَدب کا کام صرف سماجی تباہیوں اور خارجی حادثوں کا اثر قبول کرنا نہیں ہے

ٹامس مان کے ادبی شعور نے اس حقیقت کا ادراک پون صدی پہلے کرلیا تھا کہ عہدِ جدید کے انسان کی تقدیر اب سیاسی اصطلاحوں میں لکھی جائے گی۔ اس پر سوال کیا جاسکتا ہے، مگر کیوں؟ اس لئے کہ عہدِ جدید کے انسان کی زندگی پر سیاست نے اپنا تسلط اس طرح قائم کیا ہے کہ اب اُس کے سیاہ و سفید کا اختیار نمایاں حد تک اسی کے ہاتھ میں ہے۔ چنانچہ اب اس عہد کے انسان کا نوشتۂ تقدیر اسی کے ہاتھوں اور اُسی کے الفاظ یا احکامات کے ساتھ سامنے آئیگا۔ یہ دراصل سیاسی اشرافیہ کے صدیوں کے خوابوں کی تعبیر ہے کہ وہ آج اس منزل پر ہے، لیکن سنجیدگی سے غور کیا جائے تو اس حقیقت کو سمجھنا مشکل نہیں کہ یہی انسانی تہذیب و اقدار کی شکست کا وہ مرحلہ ہے کہ جس کا اس سے قبل کی انسانی زندگی میں کوئی ثبوت نہیں ملتا، مگر یہ ایک الگ موضوع ہے، ہم فی الحال اپنے مسئلے کی طرف لوٹتے ہیں۔
ان سب باتوں کے ساتھ ہمیں اس حقیقت کو بھی ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ کسی بھی سماج میں قیامِ امن کا مسئلہ ادیب کی قوتِ کار سے باہر کی چیز ہے۔ ادیب اس کے لئے آواز ضرور اُٹھاتا ہے، لیکن جیسا کہ عرض کیا، معاشرے میں بدامنی اور انتشار کو ختم کرکے امن کو ممکن بنانا سیاسی مقتدرہ کا کام ہے، اس لئے کہ اس کام کی انجام دہی کے لئے جس قوتِ نافذہ کی ضرورت ہے وہ ادیب کے ہاتھ میں نہیں، پارلیمان کے اراکین اور انتظامیہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اس لئے یہ کام ان شعبوں کے افراد اور اداروں کی فکری و عملی ہم آہنگی کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ قانون کی عمل داری کا معاملہ ہے جو اُسی وقت ممکن ہے جب قانون نہ صرف موجود ہو، بلکہ اسے قوتِ نافذہ بھی حاصل ہو۔
جہاں تک بدامنی کا معاملہ ہے تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ یہ آج صرف ہمارا نہیں، عالمی سطح کا مسئلہ ہے، بلکہ سیاست اور صحافت سے وابستہ بعض افراد نے تو واضح لفظوں میں کہا ہے کہ یہ آج کی انسانی دنیا کا کسی بھی تخصیص کے بغیر، سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ دنیا کا کوئی خطہ، کوئی علاقہ، کوئی ملک اور کوئی سماج و معاشرہ آج ایسا نہیں جو اس مسئلے سے کسی نہ کسی سطح پر متأثر نہ ہو۔ کہیں کم اور کہیں زیادہ، کہیں ایک اور کہیں دوسری شکل میں افراد اور سماج اس کا شکار ہے یا اس سے نبرد آزما ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: فرشتوں کا تجسس

یہ ٹھیک ہے کہ ادیب سیاسی مقتدرہ کا حصہ نہیں ہوتا، اس لئے وہ قوتِ نافذہ کا حامل نہیں ہے اور نہ ہی اس کو استعمال کرنے کا مکلف ہے، لیکن اس حقیقت کی نفی بھی نہیں کی جاسکتی کہ افرادِ قوم کی ذہن سازی میں ادیب کا ایک اہم اور مؤثر کردار بہرحال ہوسکتا ہے۔ یہ کردار وہ عملاً دو سطحوں پر ادا کرتا ہے۔ نظریاتی اور ذہنی سطح پر اپنی تحریروں کے ذریعے۔ جیسا کہ سب بڑے ادیب ایسے حالات میں اپنے اپنے معاشروں میں ادا کرتے آئے ہیں اور وجودی سطح پر اُس طرح جیسے سارتر، ایذرا پاؤنڈ، سولزے نتسن اور نجیب محفوظ وغیرہ۔ ہم نے اپنے اپنے ادوار اور ممالک میں سامنے آکر اپنی سیاسی اشرافیہ اور اہلِ اقتدار کی پالیسی سے عملاً اختلاف کرتے ہوئے کیا، اور جیسا کہ نوم چومسکی اور ارون دھتی رائے جیسے لوگ اپنے اپنے سماج میں آج بھی کررہے ہیں۔ اس کے لئے ادیب کو دو چیزیں درکار ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اپنے اس نوع کے اقدام کی اخلاقی قیمت چکانے پر ذہنی طور سے آمادہ ہو اور دوسرے یہ کہ اپنے معاشرے میں نفوذ کی استعداد رکھتا ہو۔ نفوذ کی استعداد اُسے تبھی بہم ہوسکتی ہے جب اس نے اپنے ادبی اظہار میں ذاتی مفاد اور مصلحت کا راستہ اختیار نہ کیا ہو بلکہ اُس کے فکری، تخلیقی اور عملی اقدام کی بنیاد اُس کی روح کی پکار اور ضمیر کی آواز پر ہو۔ ہمارا عہد اور اُس کا ادب اپنے ادیب سے آج اسی کردار کا متقاضی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK