• Sat, 17 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

زندگی کوئی خواب یا اتفاق نہیں ہمارے روزمرہ کے اعمال کا نتیجہ ہے

Updated: October 17, 2026, 4:53 PM IST | Ali Hameed | Mumbai

کائنات کا نظام ہو یا انسانی زندگی کا سفر، اس کا بنیادی اصول ہمیشہ سے ’’عمل‘‘ رہا ہے۔ علامہ اقبال کا یہ مصرعہ: ’’عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی‘‘ اس حقیقت کا سب سے بڑا ترجمان ہے۔ انسان کو اس دنیا میں جو عقل، شعور اور صلاحیتیں عطا کی گئی ہیں، ان کا مقصد صرف بیٹھ جانا نہیں بلکہ عملی میدان میں اترنا ہے۔

When a person adopts laziness, lethargy, and shortcuts, they begin to descend toward decline rather than progress. Image: INN
جب انسان کاہلی، سستی اور شارٹ کٹ کے راستے اختیار کرتا ہے، تو وہ ترقی کی بجائے پستی کی طرف جانا شروع ہو جاتا ہے۔ تصویر: آئی این این

کائنات کا نظام ہو یا انسانی زندگی کا سفر، اس کا بنیادی اصول ہمیشہ سے ’’عمل‘‘ رہا ہے۔ علامہ اقبال کا یہ مصرعہ: ’’عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی‘‘ اس حقیقت کا سب سے بڑا ترجمان ہے۔ انسان کو اس دنیا میں جو عقل، شعور اور صلاحیتیں عطا کی گئی ہیں، ان کا مقصد صرف بیٹھ جانا نہیں بلکہ عملی میدان میں اترنا ہے۔ انسان اپنی ذات اور اپنی محنت سے ہی اپنی دنیا اور آخرت کو سنوارتا یا بگاڑتا ہے۔

عمل اور کائنات کا اصول: اگر ہم اپنے اردگرد نگاہ دوڑائیں تو  معلوم ہوگا کہ قدرت کبھی بھی بغیر عمل کے کسی کو کچھ عطا نہیں کرتی۔ سورج کا وقت پر نکلنا، ہواؤں کا چلنا، اور زمین کا محنت کرنے والے کسان کو اناج دینا، یہ سب اس بات کی گواہی ہیں کہ اس کائنات میں سکون اور کامیابی کا دارومدار صرف اور صرف مسلسل جدوجہد پر ہے۔ جو انسان یا قومیں ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جاتی ہیں اور صرف قسمت کے بھروسے جینے کی عادت ڈال لیتی ہیں، وقت انہیں پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جتنے بھی بڑے اور کامیاب لوگ گزرے ہیں، انہوں نے اپنی محنت اور پختہ ارادے سے نام پیدا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سیاحت (آؤٹنگ) کیوں اہم ہے، تفریح کے علاوہ اس میں دینی فائدہ کیا ہے؟

معاشرتی سستی اور قسمت کا غلط تصور: ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ بن چکا ہے کہ ہم ہر ناکامی کا ذمہ دار حالات یا قسمت کو ٹھہراتے ہیں۔ ہم یہ تو چاہتے ہیں کہ ہمیں تمام سہولتیں اور کامیابیاں مل جائیں، لیکن اس کے لئے جو پسینہ بہانا پڑتا ہے، اس سے کتراتے ہیں۔ جب انسان کاہلی، سستی اور شارٹ کٹ کے راستے اختیار کرتا ہے، تو وہ ترقی کی بجائے پستی کی طرف جانا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ سوچ کہ ’’جو قسمت میں ہوگا وہی ملے گا‘‘ انسان کو اندر سے کمزور کر دیتی ہے، کیونکہ خدا بھی اسی کی حالت بدلتا ہے جو خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔

عمل سے معاشرے کی تعمیر : زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی کا واحد راستہ فرض شناسی اور محنت ہے۔ ایک طالب علم کا کام دل لگا کر پڑھنا ہو، ایک استاد کا فرض ایمانداری سے علم بانٹنا ہو، یا ایک مزدور کا حلال رزق کمانا ہو،  جب ہر فرد اپنی ذمہ داری کو اچھے طریقے سے نبھاتا ہے، تو پورا معاشرہ خوشحال ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جب لوگ اپنے فرائض سے منہ موڑ لیتے ہیں اور بے عملی کا شکار ہو جاتے ہیں، تو معاشرہ مسائل اور محرومیوں کا ایک ایسا ’’جہنم‘‘ بن جاتا ہے جہاں جینا دوبھر ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مصروفیات سے انکار نہیں مگر بچوں کی دینی تعلیم و تربیت سے غفلت نہ ہو!

مختصر یہ کہ زندگی کوئی خواب یا اتفاق نہیں ہے، بلکہ یہ ہمارے روزمرہ کے اعمال کا نتیجہ ہے۔ قسمت آسمان سے بنی بنائی نہیں گرتی بلکہ انسان اپنے عمل سے اپنی تقدیر خود لکھتا ہے۔ اگر ہمارے اعمال اچھے ہوں گے، ہمارے ارادے بلند ہوں گے اور ہم محنت سے نہیں گھبرائیں گے، تو ہماری یہی دنیا ایک جنت بن سکتی ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم کاہلی کو ترک کریں اور عمل کی دنیا میں قدم رکھیں، کیونکہ روشن مستقبل کی سب سے بڑی ضمانت صرف اور صرف ہمارا اپنا عمل ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK