• Sat, 17 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مصروفیات سے انکار نہیں مگر بچوں کی دینی تعلیم و تربیت سے غفلت نہ ہو!

Updated: October 17, 2026, 4:33 PM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai

آدمی جن لوگوں کے درمیان رہتا ہے ، فکر و نظر اور عملی زندگی میں ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔اگر اس کو نیک ، شریف ، با اخلاق لوگوں کا ماحول میسر آجاتا ہے تو اس کی فطری صلاحیت پروان چڑھتی ہے۔

While a mother’s role in the upbringing of children is undoubtedly very important, the father’s role is no less significant. Image: INN
بچوں کی تربیت میں ماں کا کردار بے شک بہت اہم ہے مگر والد کا کردار بھی کم اہم نہیں۔ تصویر: آئی این این

انسان کی فطرت میں بنیادی طورپر خیر کا غلبہ ہے  اسی لئے ہر شخص سچائی ، انصاف ، دیانتداری ، مروت اور شرم و حیا کو قابل تعریف سمجھتا ہے اور اس کے مقابلہ میں جھوٹ ، ظلم ، خیانت ، بے مروتی اور بے حیائی کو ناپسند کرتا ہے۔ یہاں تک کہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص جھوٹ بولتا ہے ؛ لیکن اگر کوئی اس کو جھوٹا کہہ دے تو اس کو تکلیف پہنچتی ہے اوربعض اوقات اپنے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انسان بے حیائی کا کام کرتا ہے؛ لیکن اپنے عمل پر پردہ رکھنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔  یہ دراصل فطرت کی آواز ہے؛ اسی لئے اللہ کے رسول  ﷺ نے فرمایا کہ ہر بچہ اپنی فطرت کے اعتبار سے اسلام پر پیدا ہوتا ہے، یعنی خدا کی فرمانبرداری کے مزاج پر پیدا کیا جاتا ہے؛ لیکن اس کے والدین اس کو یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں۔ (مسند احمد ، حدیث نمبر : ۷۱۸۱) لیکن خارجی حالات کی وجہ سے بہت سی دفعہ انسان اپنی اصل فطرت سے ہٹ جاتا ہے، اس کا رجحان گناہ کی طرف بڑھنے لگتا ہے، ظلم و ناانصافی، بے حیائی و بے شرمی، کبر وغرور اور دوسروں کی تحقیر سے اس کے قلب کو تسکین ملتی ہے، یہ انسان کی اصل فطرت نہیں۔ یہ انحراف  خارجی عوامل یعنی باہر کی دنیا کے اسباب کی بناء پر پیدا ہوتا  ہے !

جو خارجی عوامل انسان پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں، وہ بنیادی طورپر دو ہیں: ایک: ماحول، دوسرے : تعلیم۔ تعلیم کا مطلب تو واضح ہے، ماحول کے اصل معنی گرد و پیش کے ہیں،  مطلب یہ ہے کہ آدمی جن لوگوں کے درمیان رہتا ہے ، فکر و نظر اور عملی زندگی میں ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ اگر اس کو نیک، شریف اور  با اخلاق لوگوں کا ماحول مل جاتا ہے تو اس کی فطری صلاحیت پروان چڑھتی ہے اور اس کی خوبیاں دو چند ہوجاتی ہیں ۔ اگر اس کو غلط ماحول ملے تو اس کے اندر جو خوبیاں تھیں وہ بھی بتدریج ختم ہوجاتی ہیں ۔

یہ بھی پڑھئے: علم کو سمجھئے کہ کیا ہے!

مدینہ تشریف لانے کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے تمام مسلمانوں پر یہ بات واجب قرار دی گئی کہ وہ اپنے اپنے علاقہ کو چھوڑ کر مدینہ میں آکر مقیم ہوجائیں؛ چنانچہ جزیرۃ العرب کے طول و عرض سے صحابہ ہجرت کرکے مدینہ منورہ میں آباد ہوگئے، ہجرت کرنے والوں کی تعداد چند سو تھی؛ لیکن فتح مکہ کے موقع سے جو لوگ آپؐ کے ہم رکاب تھے ، ان کی تعداد دس ہزار تھی۔ ظاہر ہے کہ فتح مکہ کی مہم میں ایسا نہیں ہوا تھا کہ مدینہ بالکل خالی ہوجائے،  بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کے علاوہ بہت سے جوان بھی مدینہ میں موجود رہے ہوں گے تاکہ مدینہ کا تحفظ خطرہ میں نہ پڑجائے۔ ان میں بیشتر لوگ ہجرت کرکے مدینہ آئے تھے۔ ہجرت کے حکم کا بنیادی سبب یہی تھا کہ لوگوں کو ایک معیاری دینی ماحول ملے اور وہ، لوگوں کو دیکھ کر دین کو سیکھ سکیں اور اسلامی اخلاق کا نمونہ بن سکیں۔ یہ ماحول ہی کا اثر تھا کہ جو لوگ ظلم و جور  اور شراب  وغیرہ کے لئے مشہور تھے، انہوںنے ایک ایسی بلند پایہ سوسائٹی کا نقشہ چھوڑا کہ انبیاء کرام کے سوا زمین کے سینے پر اور آسمان کے سائے میں اس کی کوئی مثال نہیں مل سکتی، یہ آپؐ کی بافیض صحبت اور ماحول کا اثر تھا ۔

آپؐ نے مختلف طریقوں پر ماحول سازی کا حکم دیا ہے۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ فرض نمازوں کے علاوہ دوسری نمازیں گھروں میں پڑھو ، یہ افضل طریقہ ہے۔ ( بخاری، کتاب الاعتصام، باب مایکرہ من کثرۃ السوال، حدیث نمبر: ۷۲۹۰) حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے آپؐ کا ارشاد منقول ہے کہ گھروں میں نماز پڑھا کرو، اس کو قبرستان نہ بناؤ۔ (مسلم ، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا، باب استحباب صلاۃ النافلۃ فی بیتہ ، حدیث نمبر: ۷۷۷)  غور کیجئے کہ مسجد سے زیادہ پاکیزہ جگہ کون سی ہوسکتی ہے اور نماز جیسی عبادت کے لئے کون سا مقام ہے جو اس سے زیادہ موزوں ہو؛ اس کے باوجود  آپؐ نے سنن و نوافل کو گھر میں پڑھنے کا حکم دیا۔ بظاہر اس کی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ اس کی وجہ سے گھر کا ماحول دینی بنے گا۔ بچے جب اپنے بڑوں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہیں تو اکثر وہ ان کی نقل کرنے لگتے ہیں اور نماز کی اہمیت ان کے تحت الشعور میں بیٹھ جاتی ہے ۔

اسی طرح آپؐ نے گھر میں قرآن مجید کی تلاوت کرنے کی خاص طورپر ترغیب دی ہے۔  حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا : اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ ؛ بلکہ اس میں تلاوت کیا کرو، خاص کر سورۂ بقرہ کی ، کہ جس گھر میں سورۂ بقرہ پڑھی جاتی ہے، شیطان وہاں سے بھاگ جاتا ہے۔(مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین و قصرہا، باب استحباب صلاۃ النافلۃ فی بیتہ،  حدیث نمبر: ۷۸۰ ) گھر میں تلاوت ِقرآن ایک ایسا عمل ہے جو ماحول بنانے میں بہت مؤثر ہوتا ہے، گھر کے بچوں کے ذہن میں بھی یہ بات راسخ ہوجاتی ہے کہ ہمیں قرآن مجید کی تلاوت کرنی چاہئے، اسی طرح آپؐ نے گھر میں اللہ کے ذکر کی بھی فضیلت بیان کی ہے، آپؐ نے ارشاد فرمایا:  جس گھر میں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے ، اورجس گھر میں اللہ کا ذکر نہیں ہوتا ہے ، ان کی مثال زندہ اور مردہ شخص کی ہے۔ (مسلم ، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا ، باب استحباب صلاۃ النافلہ فی بیتہ الخ ، حدیث نمبر : ۷۷۹۲)

یہ بھی پڑھئے: جانتے ہیں حضرت ذوالکفل علیہ السلام کون تھے؟

ماحول کا اثر یوں تو ہر سن و سال کے لوگوں پر پڑتا ہے؛ لیکن بچوں پر اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے،  انسان کے جسم میں سب سے پہلے دماغ کی نشوو نما ہوتی ہے اور دماغ کی ترقی کا مرحلہ تیز رفتاری کے ساتھ طے پاتا ہے، اسی لئے بچوں میں کسی بات کے اخذ کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہوتی ہے، وہ بولنے والوں سے الفاظ سیکھتا ہے، چلنے والوں سے چلنے کا انداز سیکھتا ہے، اپنے بڑوں سے اُٹھنے بیٹھنے اور کھانے پینے کے طریقے سیکھتا ہے، گانے سن کر گنگناتا ہے، گالیاں سن کر گالیاں ہی اس کی زبان پر چڑھ جاتی ہیں اور اگر اچھی باتیں سنے تو ان کو دُوہراتا ہے، ماں باپ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتا ہے تو رُکوع و سجدے کی نقل کرتا ہے، مسجد جاتے ہوئے دیکھتا ہے تو مسجد جانے کی ضد کرتا ہے، لڑکے اپنے والد کے سر پر ٹوپی دیکھ کر ٹوپی پہننا چاہتے ہیں اور لڑکیاں اپنی ماں کے سر پر اسکارف  دیکھ کر اسکارف  پہننا چاہتی ہیں، غرض کہ اس کا ذہن تیزی سے ماحول میں پیش آنے والی چیزوں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے ۔

موجودہ حالات کچھ ایسے ہیں کہ بچہ صبح سات بجے اسکول جانے کی تیاری کرتا ہے اور شام پانچ بجے یا اس کے بعد گھر واپس آتا ہے ، جانے سے پہلے کا وقت سونے اورتیاری کرنے میں گزرجاتا ہے ، واپسی کے بعد بھی مغرب تک کا وقت کھیل کود وغیرہ میں ، گویا ان کا پورا دن اسکول کے ماحول میں گزرتا ہے، مغرب کے تین ساڑھے تین گھنٹے کے بعد بچے سوجاتے ہیں؛ کیوں کہ ان کے عمر کے لحاظ سے انہیں آٹھ گھنٹہ سونا چاہئے، اس تین چار گھنٹے میں انہیں اسکول کا ہوم ورک بھی کرنا ہے اور کھانا پینا بھی ہے؛ اس لئے بہت کم وقت ایسا بچتا ہے، جس میں وہ اپنے والدین اور بھائی بہنوں کے ساتھ بیٹھیں، کچھ وقت مغرب کے بعد اور کچھ وقت  فجر کے بعد ، عمومی صورت حال یہ ہے کہ والد آفس اور کاروبار سے اتنی دیر سے آتے ہیں کہ بچے نیند کی آغوش میں جاچکے ہوتے ہیں، ماں کا وقت کھانا پکانے، ملازمت اور دیگر مصروفیات میں گزر جاتا  ہے اسلئے بچوں کے لئے ماں باپ کے پاس کوئی وقت نہیں ہوتا ۔

یہ بھی پڑھئے: یاد رہے، زبان سے نکلنے والے ہر لفظ کی نگرانی ہوتی ہے

اسکولوں کا یہ حال ہے کہ وہ غیرمسلم اداروں کے تحت چلتے ہیں چنانچہ کہیں ہندو  اور کہیں عیسائی مذاہب کے عقائد بچوں کو متاثر کرتے  ہیں۔ ان حالات میں ماں باپ کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں دینی ماحول بنائیں، چھٹی کے اوقات اور بچوں کی تعطیل کے ایام  بچوں کے ساتھ گزاریں، ان اوقات میں انہیں ضروری دینی باتیں سکھائیں اور سمجھائیں، نماز اور تلاوت ِقرآن کا ماحول بنائیں، آپسی گفتگو میں تہذیب و شائستگی اور باہمی ادب و احترام کا لحاظ رکھیں، زبان کی حفاظت کریں اور کوئی ایسا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں جس میں بچوں سے تربیت کی باتیں کہی جاسکتی ہوں۔ موجودہ حالات میں اگر ہم نے بچوں کو دین و اخلاق سے ہم آہنگ ماحول فراہم نہیں کیا تو آئندہ نسل کیلئے بڑا خطرہ ہے؛ کیوںکہ ہمارا تعلیمی نظام بھی دین و اخلاق سے بیگانہ ہے اور تعلیم گاہ کا ماحول بھی اخلاقی بگاڑ کا شکار ہے ، ایسے میں اگر والدین نے بچوں کو مناسب ماحول فراہم نہیں کیا تو یہ بچوں کے ساتھ یقیناً بڑا ظلم ہے اور ان کے والدین وسرپرست عند اللہ جواب دہ ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK