• Sat, 17 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سیاحت (آؤٹنگ) کیوں اہم ہے، تفریح کے علاوہ اس میں دینی فائدہ کیا ہے؟

Updated: October 17, 2026, 4:49 PM IST | Dr. Ahmed Arooj Mudassir | Mumbai

سیاحت انسان کے ذہن پر اپنا اثر ڈالتی ہے۔ وہاں کوئی نوٹیفکیشن نہیں ہوتا جو اچانک ہماری توجہ کھینچ لے، کوئی ٹریفک کا شور نہیں ہوتا جو مسلسل اعصاب کو متوجہ رکھے اور نہ ہر لمحہ کسی نئی خبر کا انتظار۔ آدمی کچھ دیر صرف موجود رہتا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

انسان عجیب مخلوق ہے۔ اسے ایک جگہ سکون بھی چاہئے اور کبھی کبھی اسی جگہ سے نکل جانا بھی۔ گھر کی چار دیواری اسے تحفظ دیتی ہے، مگر مسلسل وہیں رہتے رہتے طبیعت پر ایک انجانی سی گرانی اترنے لگتی ہے۔ وہی کمرہ، وہی راستہ، وہی دفتر، وہی بازار، وہی چہرے اور دن بھر کے وہی معمولات۔ بظاہر زندگی چل رہی ہوتی ہے، مگر اندر کہیں ایک تھکن جمع ہوتی رہتی ہے۔ اس تھکن کا تعلق ہمیشہ جسم سے نہیں ہوتا۔ کبھی جسم بالکل ٹھیک ہوتا ہے اور ذہن تھکا ہوا ہوتا ہے۔

شاید اسی لئے انسان کے مزاج میں سفر کی خواہش ابتداء ہی سے رکھی گئی ہے۔ کسی نئے مقام کو دیکھنے کی خواہش، نامعلوم راستے پر چلنے کا شوق، پہاڑوں کی طرف اٹھتی ہوئی نگاہ، دریا کے کنارے بیٹھنے کی رغبت یا سبز کھیتوں کے درمیان چند لمحے گزارنے کی خواہش محض تفریح کا تقاضا نہیں۔ اس کے اندر انسان کی ایک فطری ضرورت بھی چھپی ہوئی ہے۔ آدمی کبھی کبھی اپنے روزمرہ کے ماحول سے باہر نکل کر ہی اپنے آپ کو زیادہ صاف طور پر دیکھ پاتا ہے۔

آج اس ضرورت کو سمجھنا شاید پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوگیا ہے۔ ہمارے پاس سہولتیں بے شمار ہیں، لیکن ذہنی سکون کیلئے وقت کم ہوتا جارہا ہے۔ صبح آنکھ کھلنے سے پہلے ہی موبائل ہماری توجہ کا مطالبہ کرنے لگتا ہے۔ پیغامات، خبریں، کاروباری معاملات، سوشل میڈیا، فون کالز اور مختلف النوع اطلاعات ذہن کو مسلسل مصروف رکھتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب آدمی گھر سے باہر جاتا تو دنیا سے کچھ دیر کیلئے کٹ جاتا تھا؛ اب دنیا جیب میں پڑی رہتی ہے اور آدمی جہاں جائے، اس کے ساتھ چلتی ہے۔اس مسلسل مصروفیت کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ ہم خاموشی سے گھبرانے لگے ہیں۔ چند منٹ تنہائی میں بیٹھنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔ کھانے کی میز پر بھی موبائل، سفر میں بھی موبائل، انتظار میں بھی موبائل حتیٰ کہ بعض اوقات قدرت کے خوبصورت ترین مناظر کے سامنے کھڑے ہوکر بھی ہماری توجہ منظر سے زیادہ اس بات پر ہوتی ہے کہ اسے کس زاویے سے تصویر میں محفوظ کیا جائے۔ یوں  جس منظر کو دیکھنے ہم گھر سے نکلے تھے، اسے دیکھنے کے بجائے اس کی تصویر بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مصروفیات سے انکار نہیں مگر بچوں کی دینی تعلیم و تربیت سے غفلت نہ ہو!

ہم میں سے اکثر لوگ اپنی پریشانیوں کے بہت قریب کھڑے ہوتے ہیں۔ اتنے قریب کہ انہیں پورا منظر دکھائی نہیں دیتا۔ معمولی ناکامی بڑی تباہی معلوم ہوتی ہے، کسی تعلق کی ایک تلخی پورے تعلق پر حاوی ہوجاتی ہے اور کاروبار کا ایک نقصان مستقبل کی پوری تصویر دھندلا دیتا ہے۔ پھر انسان کسی بلند مقام پر کھڑا ہوکر نیچے پھیلی ہوئی بستی کو دیکھتا ہے۔ گھر کتنے چھوٹے دکھائی دیتے ہیں، سڑکیں کتنی باریک، گاڑیاں کتنی معمولی۔ تب اسے احساس ہوتا ہے کہ جس دنیا کو وہ ہر وقت بہت بڑا سمجھ رہا تھا، وہ اس وسیع کائنات کا کتنا چھوٹا سا حصہ ہے۔یہی مشاہدہ قرآن مجید بھی انسان کو سکھاتا ہے، البتہ کہیں زیادہ گہرائی کے ساتھ۔ 

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

’’کہو کہ زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اُس نے کس طرح خلق کی ابتدا کی ہے، پھر اللہ بارِ دیگر بھی زندگی بخشے گا۔ یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ (سورۃ العنکبوت: ۲۰)

یہ آیت میرے نزدیک سفر کے پورے تصور کو ایک بلند معنی عطا کرتی ہے۔ قرآن صرف یہ نہیں کہتا کہ زمین میں گھومو اور لطف اٹھاؤ، بلکہ چلنے کے بعد ’’دیکھنے‘‘ کی بات کرتا ہے۔ یہاں دیکھنا صرف آنکھ کا کام نہیں۔ آنکھ منظر دیکھتی ہے، مگر دل اس کے معنی تلاش کرتا ہے اور عقل اس سے نتیجہ اخذ کرتی ہے۔

قرآن مجید سفر کو صرف قدرت کے حسن کے مشاہدے تک محدود نہیں رکھتا بلکہ تاریخ سے سبق لینے کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے:

’’پھر کیا یہ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اِن کو اُن لوگوں کا انجام نظر آتا جو اِن سے پہلے گزر چکے ہیں؟ وہ اِن سے تعداد میں زیادہ تھے، اِن سے بڑھ کر طاقتور تھے، اور زمین میں اِن سے زیادہ شاندار آثار چھوڑ گئے ہیں۔ جو کچھ کمائی اُنہوں نے کی تھی، آخر وہ اُن کے کس کام آئی؟‘‘ (سورۃ غافر:۸۲)

قدیم آثار کے سامنے کھڑے ہوکر قرآن کی یہ آیت دل میں اترتی ہے۔ کبھی جن لوگوں نے ان عمارتوں کو تعمیر کیا ہوگا، انہیں بھی اپنے زمانے کی طاقت پر یقین رہا ہوگا۔ ان کے بازار آباد ہوں گے، ان کے گھروں میں چراغ جلتے ہوں گے، ان کے بچے کھیلتے ہوں گے، ان کے منصوبے ہوں گے۔ پھر وقت گزرا اور سب کچھ تاریخ بن گیا۔

ایسے مقامات انسان کو مایوس نہیں، متوازن کرنے کیلئے ہوتے ہیں۔ دنیا کی نعمتیں استعمال کیجئے، ترقی کیجئے، اپنے بچوں کیلئے بہتر زندگی بنائیے مگر یہ نہ بھولئے کہ انسان مسافر ہے۔ نہ دولت ہمیشہ رہتی ہے، نہ طاقت، نہ عہدہ، نہ شہرت۔ جو چیز رہ جاتی ہے وہ کردار، عمل اور وہ اثر ہے جو انسان دوسروں کی زندگی میں چھوڑ جاتا ہے۔ یہی مقام ہے جہاں سیاحت عبادت کے مفہوم سے قریب آتی ہے۔ سفر کی نیت اگر صرف تفریح ہو تو انسان چند خوبصورت مناظر دیکھ کر واپس آتا ہے لیکن اگر اسی سفر میں اللہ تعالیٰ کی قدرت، اپنی کم مائیگی، نعمتوں کی قدر، تاریخ کے انجام اور مخلوق کے ساتھ حسنِ سلوک کا شعور پیدا ہوجائے تو سفر کی معنویت بدل جاتی ہے۔

نماز کا وقت کسی کھلے میدان میں آجائے، اذان پہاڑوں کے درمیان سنائی دے، فجر کے بعد آسمان پر پھیلتی ہوئی روشنی دیکھی جائے یا رات کے وقت بے شمار ستاروں کو دیکھ کر دل میں اللہ کی عظمت کا احساس پیدا ہو۔ یہ سب سفر کو محض تفریح سے آگے لے جاتے ہیں۔ عبادت صرف مسجد کی چار دیواری تک محدود نہیں؛ اللہ کی مخلوق میں غور کرنا بھی قرآن کی ایک دعوت ہے، بشرطیکہ نگاہ کے ساتھ دل بھی بیدار ہو۔البتہ اس بیداری کا ایک تقاضا ذمہ داری بھی ہے۔ جس پہاڑ نے ہمیں سکون دیا، اس کے دامن میں پلاسٹک پھینک دینا کیسی سیاحت ہے؟ جس دریا کا صاف پانی ہمیں خوش کرتا ہے، اسی میں گندگی ڈال دینا کس شعور کی علامت ہے؟ تاریخی عمارت پر اپنا نام لکھ کر اسے خراب کردینا یادگار نہیں، بدذوقی ہے۔ انسان کو صرف دنیا دیکھنے نہیں، دنیا کے ساتھ اپنا برتاؤ بہتر کرنے کے لئے بھی سفر پر نکلنا چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے: جانتے ہیں حضرت ذوالکفل علیہ السلام کون تھے؟

میرے خیال میں اچھی سیاحت وہ ہے جس سے واپسی پر آدمی کے پاس خریدی ہوئی چیزیں کم اور محسوس کی ہوئی چیزیں زیادہ ہوں۔ کوئی منظر، کوئی گفتگو، کسی بزرگ کی بات، کسی بچے کی ہنسی، کسی کسان کی محنت، کسی پہاڑ کی خاموشی یا کسی قدیم عمارت کا سبق۔ ایسی چیزیں سامان میں نہیں آتیں، مگر انسان کے اندر جگہ بنا لیتی ہیں ۔ اور شاید یہی سفر کا سب سے قیمتی حصہ ہے۔

ہم گھر سے نکلتے ہیں یہ سمجھ کر کہ ہمیں دنیا دیکھنی ہے، مگر کئی مرتبہ دنیا ہمیں خود ہماری طرف واپس لے آتی ہے۔ راستے میں آدمی اپنے مزاج کو دیکھتا ہے، اپنی بے صبری کو پہچانتا ہے، اپنی نعمتوں کو یاد کرتا ہے اور کبھی اپنی ترجیحات پر بھی نظر ثانی کرتا ہے۔شاید اسی لئے مجھے سیاحت محض تفریح نہیں لگتی۔ یہ زندگی کی رفتار میں ایک ضروری وقفہ ہے۔ ایک ایسا وقفہ جس میں جسم چلتا ہے، آنکھیں دیکھتی ہیں، ذہن کچھ دیر خاموش ہوتا ہے اور دل کو سوچنے کا موقع ملتا ہے۔

 پہاڑ سے وہ صرف تصویر نہیں لایا ہوتا؛ تھوڑا سا حوصلہ بھی ساتھ لے آیا ہوتا ہے۔ دریا سے شاید اسے کوئی نصیحت نہ ملی ہو، مگر بہتے پانی کو دیکھ کر اسے اپنے اندر رکے بہت سے احساسات کا پتہ چل گیا ہوتا ہے۔ کھیت سے اسے صرف سبز رنگ نہیں ملا ہوتا، رزق کی قدر بھی یاد آگئی ہوتی ہے  اور کسی قدیم شہر سے لوٹتے ہوئے شاید اسے پہلی مرتبہ شدت سے احساس ہوا ہو کہ جس دنیا کو ہم ہمیشہ کا سمجھ کر سنوارتے رہتے ہیں، ہم خود بھی اس میں ہمیشہ کے لئے نہیں آئے۔

تب سفر ختم نہیں ہوتا۔ وہ آدمی کے اندر چلتا رہتا ہے۔ اور شاید پُرسکون زندگی کی تلاش بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ سکون کسی ایک خوبصورت مقام پر ہمیشہ کے لئے بیٹھ جانے کا نام نہیں۔ سکون یہ سیکھنے کا نام ہے کہ شور کے درمیان بھی دل کو کہاں ٹھہرانا ہے، مصروفیت کے درمیان کس چیز کے لئے وقت نکالنا ہے، نعمتوں کو کس نگاہ سے دیکھنا ہے اور زندگی کے سفر میں اپنے رب کو کس طرح یاد رکھنا ہے۔

اسی لئے کبھی وقت نکالئے۔ بہت دور جانے کی ضرورت نہیں۔ شہر سے باہر کوئی راستہ پکڑ لیجئے، کسی درخت کے سائے میں بیٹھ جائیے، پہاڑوں کو دیکھئے، دریا کی آواز سنیے، کھیتوں کی طرف نگاہ کیجئے۔ کچھ دیر موبائل خاموش کردیجئے۔ اور جو کچھ دیکھیں، اسے صرف خوبصورت کہہ کر آگے نہ بڑھ جائیں۔ ذرا ٹھہریئے اور سوچئے بھی، ممکن ہے جس سفر پر آپ ذہنی تھکن اتارنے نکلے ہوں، وہی سفر آپ کو اپنے رب کی چند ایسی نشانیاں دکھا دے جن کے سامنے آپ کی پریشانیاں کچھ دیر کے لئے خاموش ہوجائیں۔سیاحت اس لئے کیجئے کہ جسم کو حرکت ملے، ذہن کو مہلت ملے، اپنوں کو وقت ملے اور نگاہ کو وسعت ملے۔ اور اگر اس سفر میں دل نے اپنے خالق کی کوئی نشانی پہچان لی، کسی نعمت پر بے اختیار شکر ادا ہوگیا، کسی انسان کے لئے دل میں نرمی پیدا ہوگئی اور واپسی پر زندگی پہلے سے کچھ زیادہ قیمتی محسوس ہونے لگی، تو سمجھ لیجیے، یہ سفر صرف سفر نہیں تھا’’ صحت بھی تھی، سکون بھی تھا، تفکر بھی تھا، اور شاید عبادت بھی۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK