• Sat, 17 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جانتے ہیں حضرت ذوالکفل علیہ السلام کون تھے؟

Updated: October 17, 2026, 4:27 PM IST | Hafiz Imaduddin Ibne Kasir | Mumbai

حضرت ذوالکفل علیہ السلام کا شمار قرآن مجید میں ذکر کیے گئے برگزیدہ اور صابر بندوں میں ہوتا ہے۔ آپؑ کے نام کی وجہ تسمیہ، آپؑ کی ذمہ داریوں، عدل و انصاف کے قیام اور شیطان کے وسوسوں کے مقابلے میں ثابت قدمی سے متعلق متعدد روایات بیان کی جاتی ہیں۔ قرآن مجید کی سورۂ انبیاء اور سورۂ صٓ میں آپؑ کا ذکر موجود ہے۔ آئیے، حضرت ذوالکفل علیہ السلام سے منسوب واقعات اور آپؑ کی زندگی سے ملنے والے سبق کے بارے میں جانتے ہیں۔

There are shrines attributed to Hazrat Dhul-Kifl in several locations, including Syria and Iraq. Photo: INN
شام اور عراق سمیت کئی مقامات پر حضرت ذوالکفل سے منسوب مزارات ہیں۔ تصویر: آئی این این

 کچھ اہل علم کا خیال ہے کہ حضرت ذوالکِفل علیہ السلام، ایوب علیہ السلام کے بیٹے تھے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید والفرقان الحمید میں حضرت ایوبؑ کا ذکر کرنے  کے بعد فرمایا: 

’’اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل (علیہم السلام کو بھی یاد فرمائیں)، یہ سب صابر لوگ تھے، اور ہم نے انہیں اپنے (دامنِ) رحمت میں داخل فرمایا۔ بیشک وہ نیکو کاروں میں سے تھے۔‘‘ (سورہ الانبیاء: ۸۵۔۸۶)

’’اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا ذکر کیجئے جو بڑی قوت والے اور نظر والے تھے، بے شک ہم نے اُن کو آخرت کے گھر کی یاد کی خاص (خصلت) کی وجہ سے چن لیا تھا، اور بے شک وہ ہمارے حضور بڑے منتخب و برگزیدہ (اور) پسندیدہ بندوں میں سے تھے، اور آپ اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل (علیہم السلام) کا (بھی) ذکر کیجئے، اور وہ سارے کے سارے  بہترین لوگ تھے۔‘‘ (سورہ صٓ: ۴۵؍تا ۴۸)

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بڑے جلیل  القدر انبیاء کے ساتھ اور تعریفی کلمات کے ساتھ آپ کا ذکر فرمایا ہے جس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ اللہ کے نبی ہی تھے اور یہی بات مشہور ہے، لیکن کچھ حضرات نے یہ بھی کہا ہے کہ آپ اللہ کے نبی نہیں بلکہ ایک نیک اور عادل حکمراں تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: علم کو سمجھئے کہ کیا ہے!

ذو الکفل نام کیوں؟ ( وجہ تسمیہ)

آپ نے یہ ذمہ داری اٹھائی کہ اپنی قوم کی رہنمائی کریں گے اور ان میں عدل و انصاف قائم کریں گے ، پھر آپ نے ایسا ہی کیا اسی لئے آپ ذوالکفل (یعنی ذمہ داری اٹھانے والا) کے نام سے مشہور ہوگئے۔

مجاہدؒ نے بیان کیا ہے کہ جب حضرت یسعؑ بہت بوڑھے ہوگئے تو انہوں نے اپنا ایک نائب مقرر کرنے کا ارادہ فرمایا تاکہ وہ اپنی زندگی میں ہی دیکھ لیں کہ وہ حکومتی معاملات کیسے سنبھالتا ہے۔ چنانچہ آپ نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ جو شخص میری طرف سے تین ذمہ داریاں قبول کرے گا میں اسے اپنا خلیفہ مقرر کردوں گا ، اور وہ یہ ہیں کہ دن کو روزہ رکھے، رات کو قیام کرے اور غصہ نہ کرے۔  یہ سن کر سب لوگ خاموش رہے، اتنے میں ایک آدمی کھڑا ہوکر بولا :  ’’میں یہ ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔‘‘ انہوں نے اپنی بات دہرائی کہ کیا تم دن کو روزہ ، رات کو قیام کرو گے اور غصے سے اجتناب کرو گے؟ اس نے کہا: ’’جی ہاں۔‘‘ پھر اگلے روز بھی انہوں نے اسی طرح لوگوں کو جمع کرکے وہی سوال پوچھا تو سب خاموش رہے مگر اس بار بھی صرف وہی شخص کھڑا ہوا اور اس نے ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا۔

جب ابلیس نے ذوالکفل کا پیچھا کیا

ابلیس نے اسے گمراہ کرنے کے لئے شیطانوں کو بھیجا لیکن کوئی بھی شیطان اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکا تو ابلیس خود نکلا۔ وہ ایک بوڑھے فقیر کی صورت میں اس وقت آپ کے پاس آیا جب آپ دوپہر کے وقت آرام کے لئے لیٹ چکے تھے۔ آپ دن رات میں صرف اسی وقت ایک مرتبہ سویا کرتے تھے۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا تو آپ کے پوچھنے پر جواب دیا کہ میں ایک مظلوم بوڑھا انسان ہوں۔ آپ نے دروازہ کھول دیا ۔ وہ آپ کے پاس بیٹھا اور اپنی کہانی سنانے لگا۔ اس نے کہا کہ میری قوم میں جھگڑا ہوگیا اور انہوں نے اس اور اس طرح مجھ پر ظلم کیا، وہ بلاوجہ بات کو طول دیتا چلا گیا، حتیٰ کہ آرام کا وقت گزر گیا اور شام ہوگئی۔

آپ نے اسے کہا کہ میں جب فیصلے کی مجلس میں بیٹھوں گا تو تمہیں تمہارا حق دلاؤں گا۔ اس کے بعد وہ بوڑھا (یعنی ابلیس) لوٹ گیا۔ آپ مجلس میں آکر بیٹھے اور اس بوڑھے کو تلاش کرنے لگے لیکن وہ کہیں نظر نہ آیا۔ اگلے روز بھی آپ نے لوگوں کے مقدمات سنے اور ان کے فیصلے کئے، آپ اس کا انتظار کرتے رہے لیکن وہ بوڑھا پھر نہ آیا۔ جب آپ واپس آگئے اور آرام کے لئے لیٹنے لگے تو اس نے آکر دروازہ کھٹکھٹایا ، آپ پوچھا، کون ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ میں وہی مظلوم بوڑھا انسان ہوں۔ آپ نے اسے کہا: میں نے تجھے کہا نہیں تھا کہ جب میں فیصلے کی مجلس میں بیٹھوں گا تب آنا۔ اس نے کہا وہ بہت خبیث لوگ ہیں، جب انہیں علم ہوا کہ آپ فیصلے کی مجلس میں بیٹھے تو انہوں نے مجھے کہا ہم تجھے تیرا حق دے دیتے ہیں لیکن جب آپ مجلس سے اٹھے تو انہوں نے انکار کردیا۔ آپ نے کہا کہ اب واپس چلا جا اور جب میں مجلس بیٹھوں گا تب آنا۔ یوں آپ اس روز بھی آرام سے محروم رہ گئے۔

یہ بھی پڑھئے: یاد رہے، زبان سے نکلنے والے ہر لفظ کی نگرانی ہوتی ہے

جب آپ فیصلے کی مجلس میں گئے تو اس کا انتظار کرنے لگے لیکن وہ پھر نہ آیا۔ آپ پر نیند کا شدید غلبہ ہوا اور اس پر قابو پانا مشکل ہوگیا۔ آپ نے گھر والوں سے کہا کہ اب کسی کو بھی میرے قریب نہ آنے دینا، مجھے بہت نیند آرہی ہے۔ اسی وقت وہ بوڑھا آگیا۔ دروازے پر موجود آدمی نے اسے روکا اور پیچھے ہٹنے کے لئے کہا ۔ اس نے کہا  کہ میں کل بھی ان کے پاس آیا تھا اور اپنا معاملہ ان کے سامنے پیش کیا تھا۔ اس آدمی نے کہا ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! ہمیں تو یہی حکم ہے کہ کسی کو بھی آپ کے قریب نہ آنے دیں۔

جب اس نے محسوس کیا کہ وہ اس طرح گھر میں داخل نہیں ہوسکتا تو ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ اسےایک کھڑکی نظر آئی، وہ اسی میں سے اندر داخل ہوگیا اور آپ کا دروازہ کھٹکھٹانے لگا ۔ آپ نے بیدار ہوکر دروازے پر موجود آدمی سے کہا کہ میں نے تمہیں کہا نہیں تھاکہ کسی کو اندر نہ آنے دینا؟ اس نے کہا: یہ میری طرف سے اندر نہیں آیا ، آپ خود دیکھ لیں کہ یہ کہاں سے اندر آیا ہے؟ آپ اٹھے اور دیکھا کہ دروازہ تو اسی طرح بند ہے جیسے آپ نے بند کیا تھا تو سمجھ گئے اور کہا کہ تو اللہ کا دشمن (شیطان) تو نہیں؟ اس نے کہا : ہاں، دراصل آپ نے میری تمام کوششیں ناکام بنا دی تھیں اس لئے میں نے آپ کو غصہ دلانے کی کوشش کی۔

بس اسی لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام ذوالکفل رکھ دیا کیونکہ آپ نے ایک ذمہ داری اٹھائی اور اسے نبھا کر دکھا دیا۔ (کتاب: قصص الانبیاء)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK