• Sat, 17 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

علم کو سمجھئے کہ کیا ہے!

Updated: October 17, 2026, 4:18 PM IST | Dr. Mufti Nadeem Ahmed Ansari | Mumbai

اللہ تبارک و تعالیٰ نے کائناتِ ہستی کی تخلیق کا مقصدِ اصلی اپنی معرفت اور بندوں کی رشد و ہدایت کو قرار دیا ہے، اور اس نورِ ہدایت کی ترسیل کے لئے علم کو سب سے بڑا ذریعہ بنایا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

اللہ تبارک و تعالیٰ نے کائناتِ ہستی کی تخلیق کا مقصدِ اصلی اپنی معرفت اور بندوں کی رشد و ہدایت کو قرار دیا ہے، اور اس نورِ ہدایت کی ترسیل کے لئے علم کو سب سے بڑا ذریعہ بنایا ہے۔ قرآن مجید کی پہلی وحی’’اِقْرَاء‘‘ سے لے کر احادیثِ مبارکہ کی تابناک روشنی تک، علم،  طلبِ علم اور اہلِ علم کا مقام ہر بلندی سے فروزاں ہے۔ انسانی زندگی کی کامیابی، بندگی کی معراج اور دنیا و آخرت کی فلاح کا انحصار اسی لامتناہی چشمۂ علم پر ہے، جس کے بغیر انسان تاریکیوں اور گمراہیوں کے بھنور میں بھٹکتا رہتا ہے۔

علم و عمل کا باہمی تعلق

  امام بخاریؒ نے باب قائم کیا ہے: الْعِلْمُ قَبْلَ الْقَوْلِ وَ الْعَمَلِ: یعنی علم قول و عمل سے مقدَّم ہے۔ جب آپ کسی چیز کا علم حاصل کریںگے تب اس کو اپنی تقریر میں کہہ سکیںگے، تو علم قول سے مقدم ہوا۔ اسی طرح کسی بات پر عمل اُس وقت ہوگا جب اُس سے واقف ہوںگے، تو علم عمل سے مقدم ہوا، جیسے نماز کاطریقہ ہی معلوم نہیں تو نماز کیسے پڑھیںگے، لہٰذا علم کو قول و عمل پر سبقت حاصل ہے۔ بعض لوگ سوچتے ہیں کہ اگر علم حاصل کیا اور اس پر عمل نہیں کیا تو اس پر بڑی وعیدیں آئی ہیں لہٰذا علم ہی حاصل مت کرو۔

یہ بھی پڑھئے: یاد رہے، زبان سے نکلنے والے ہر لفظ کی نگرانی ہوتی ہے

یاد رکھئے وعید کے ڈر سے علم حاصل نہ کرنا، درست نہیں۔ علم حاصل کرنا ایک اونچا مقام ہے، علم کا درجہ عمل کے مقابلے میں بڑا ہے، علم حاصل کرنے میں آدمی کو پسپائی اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ تقدمِ زمانی تو ہے ہی، تقدمِ رُتبی بھی ہے، اس لئے کہ عمل جوارح سے ہوتا ہے اور علم قلب سے تعلق رکھتا ہے، ظاہر ہے قلب کا عمل جوارح کے عمل سے بڑھا ہوا ہے۔

(دیکھیے تقریرِ بخاری)

قرآن و سنت میں علم کا مقام و مرتبہ 

  ارشادِ ربانی ہے:تم میں سے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جن کو علم عطا کیا گیا ہے اللہ ان کو درجوں میں بلند کرے گا، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔(المجادلۃ) ایک جگہ ارشاد فرمایا: کہو کہ کیا وہ جو جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے، سب برابر ہیں ؟ (مگر) نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔ (الزمر) حضرت انس بن مالکؓسے روایت ہے،  اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے، اور نااہل کو علم دینے والا سوروں کی گردن میں جواہر، موتی اور سونا پہنانے والے کی طرح ہے۔(ابن ماجہ) حضرت ابنِ عباسؓسے روایت ہے، اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ (ترمذی ) حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، سرکار دو عالمؐ نے فرمایا: جس نے علم سیکھنے کیلئے کوئی راستہ اختیار کیا، اللہ تعالیٰ اس کیلئے جنت کا ایک راستہ آسان کردیتے ہیں۔ (ترمذی ) حضرت انس بن مالکؓسے روایت ہے، سرکار مدنیؐ نے فرمایا: جو شخص علم کی تلاش میں نکلے وہ واپس آنے تک اللہ کے راستے میں ہے۔ (ترمذی) حضرت زِر بن حُبیشؓفرماتے ہیں، میں حضرت صفوان بن عَسَّالؓمُرادی کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے کہا:کیسے آئے؟ میں نے عرض کیا: علم حاصل کرنے۔ انہوں نے فرمایا: میں نے اللہ کے رسولؐ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے؛ جو شخص بھی علم کی طلب میں اپنے گھر سے نکلے، فرشتے اس کے عمل کو پسند کرنے کی وجہ سے اس کیلئے پر پھیلا لیتے ہیں۔ (ابن ماجہ ) حضرت ابوہریرہؓکہتے ہیں، میں نے سنا، اللہ کے رسولؐ ارشاد فرماتے تھے: دنیا ملعون ہے، اور جو کچھ دنیا میں ہے وہ بھی ملعون ہے، مگر اللہ تعالیٰ کا ذکر اور جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور عالم اور طالب ِعلم۔(ابن ماجہ)

یہ بھی پڑھئے: یاد رہے، مستقل مزاجی کا فقدان بھی ایک غیر شرعی عمل ہے

حسد دو لوگوں پر

حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے، اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: حسد دو ہی لوگوں میں جائز ہے؛ ایک وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا اور راہِ حق میں خرچ کرنے کی قدرت دی، اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے حکمت دی اور وہ اس کے ذریعے فیصلہ کرتا اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔ (بخاری) 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK