• Fri, 16 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یاد رہے، زبان سے نکلنے والے ہر لفظ کی نگرانی ہوتی ہے

Updated: October 16, 2026, 5:08 PM IST | Mohammed Javed Qasmi | Mumbai

رب العالمین نے یہ تنبیہ قرآن کریم کی سورہ قؔ میں فرمائی ہے ۔ اس لئے قوت ِ گویائی جیسی عظیم نعمت کا استعمال سنبھل کر کیا جانا چاہئے۔

Along with bestowing upon human beings the great gift of the power of speech, Allah the Almighty has also taught the principles and etiquette for its proper use. Image: INN
اللہ تعالیٰ نے انسان کو قوتِ گویائی جیسی عظیم نعمت عطا کرنے کے ساتھ اس کے صحیح استعمال کے اصول اور آداب بھی سکھائے ہیں۔ تصویر: آئی این این

قوتِ گویائی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے۔انسان کو یہ نعمت اس لئے دی گئی ہے تاکہ وہ اپنے احساسات و جذبات، خیالات و افکار اور اپنے  مافی الضمیر کا اظہار دوسروں سے کرسکے، اپنے دکھ درد کو بیان کر سکے اور اچھے اور مثبت پیغامات  لوگوں تک پہنچا سکے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو قوتِ گویائی جیسی عظیم نعمت عطا کرنے کے ساتھ اس کے صحیح استعمال کے اصول اور آداب بھی سکھائے ہیں کہ گفتگو کس طرح اور کس قدر کی جائے، اور مخاطب سے بات کرتے وقت آواز کیسی رکھی جائے۔ اسلام نے جس طرح  دوسری نعمتوں کے سلسلے میں اعتدال کی تعلیم دی ہے ،اسی طرح گفتگو کے معاملے میں بھی میانہ روی اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔ دورانِ گفتگو آواز نہ اتنی پست ہو کہ مخاطب کو سمجھنے میں دشواری ہو اور نہ اتنی بلند کہ آس پاس موجود لوگوں کیلئے باعث ِ تکلیف بن جائے۔ قرآنِ کریم اس بات کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:

’’اور اپنی آواز آہستہ رکھو، بے شک سب سے بری آواز گدھوں کی آواز ہے۔‘‘ (لقمان: ۱۹)

یہ بھی پڑھئے: یاد رہے، مستقل مزاجی کا فقدان بھی ایک غیر شرعی عمل ہے

اس سے واضح ہوا کہ بلا ضرورت چیخنا چلانا، شور مچانا اور اپنی آواز سے دوسروں کو تکلیف پہنچانا ناپسندیدہ طرز عمل ہے۔ اس لئے ان لوگوں کو اس قرآنی ہدایت سے سبق لینا چاہئے جو دینی و دنیاوی جلسوں میں بلا ضرورت اتنی بلند آواز میں اسپیکر استعمال کرتے ہیں کہ ان کی آواز آس پاس کے لوگوں کے لئے ِ زحمت بن جاتی ہے۔

گفتگو کا ایک اہم ادب یہ بھی ہے کہ مخاطب کی ذہنی و فکری صلاحیت اور صورتِ حال کو ملحوظ رکھتے ہوئے بات کی جائے۔ گفتگو خوش اسلوبی، نرمی اور متانت کے ساتھ ہو، جلد بازی سے گریز کیا جائے اور الفاظ کو اس طرح ادا کیا جائے کہ مخاطب بہ آسانی سمجھ سکے۔ موقع و محل کی مناسبت سے چہرے کے تاثرات اور مناسب اشارات بھی گفتگو کو مؤثر بناتے ہیں۔ نبی کریم  ﷺ کے طرزِ تکلم میں بھی یہی اعتدال، ٹھہراؤ اور وضاحت نمایاں تھی۔ آپ ؐ  ٹھہر ٹھہر کر اور واضح انداز میں گفتگو فرماتے تھے۔ ام المومنین حضرت عائشہؓ  آپؐ کے طرزِ تکلم کے بارے میں فرماتی ہیں کہ نبی کریم ؐاس طرح ٹھہر ٹھہر کر گفتگو فرماتے تھے کہ اگر کوئی آپؐ کے الفاظ کو گننا چاہتا تو گن سکتا تھا۔ (بخاری)

قرآنی اُصول یاد رکھا جائے

گفتگو کے سلسلے میں قرآنِ مجید نے ایک نہایت اہم اور بنیادی اصول بیان کیا ہے کہ بولتے وقت اس حقیقت کو پیش نظر رکھا جائے کہ انسان کی زبان سے ادا ہونے والا ہر لفظ محفوظ کیا جا رہا ہے ، اس کی نگرانی کی جارہی ہےاور اسے اپنے کلام کے بارے میں جواب دہ ہونا ہوگا۔چنانچہ دورانِ گفتگو  اس بات کا خیال رکھا جائے کہ کوئی غیر مناسب یا فضول لفظ زبان سے نہ نکلنے پائے۔ قرآنِ مجید اس حقیقت کی طرف ان الفاظ میں متوجہ کرتا ہے: 

’’انسان کوئی لفظ زبان سے نکال نہیں پاتا، مگر اس پر ایک نگراں مقرر ہوتا ہے، ہر وقت (لکھنے کے لئے) تیار۔‘‘ (قٓ:۱۸)

اس سے معلوم ہوا کہ انسان کو ضرورت کے مطابق اتنا ہی بولنا چاہئے جتنا ضروری ہو۔ شارعِ اسلام حضرت محمدؐ کی مبارک عادت تھی کہ آپؐ بقدرِ ضرورت گفتگو فرماتے اور غیر ضروری کلام  سے گریز کرتے تھے۔ اس تناظر میں اگر بسیار گوئی کی عادت کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حد سے زیادہ اور بے مقصد گفتگو انسان کیلئے دنیا و آخرت، دونوں اعتبار سے نقصان دہ ہوسکتی ہے۔ دنیاوی  اعتبار سے اس کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ بسیار گو شخص رفتہ رفتہ اپنا وقار کھو بیٹھتا ہے۔ لوگ اسے سنجیدہ اور با وزن انسان نہیں سمجھتے کیونکہ جو شخص ہر موقع پر زیادہ بولنے کا عادی ہو، اس کی بات کی اہمیت رفتہ رفتہ کم ہوجاتی ہے۔ زیادہ بولنے والا شخص اکثر غور و فکر کے بغیر گفتگو کرتا ہے۔ جو کچھ ذہن میں آتا ہے، اسے فوراً زبان پر لے آتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کبھی کبھار اس کی زبان سے ایسی بات نکل جاتی ہے جس پر بعد میں اسے ندامت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑتاہے ۔ نیز ایسا شخص اپنی بات دوسروں تک پہنچانے میں تو غیر معمولی دلچسپی لیتا ہے لیکن دوسروں کی بات سننے اور سمجھنے پر کم توجہ دیتا ہے۔اس لئے وہ غور و فکر، مشاہدے اور دوسروں سے سیکھنے کے مواقع بھی کھودیتا ہے۔ اسی طرح بے جا گفتگو دوسروں کی دل آزاری کا سبب بھی بن سکتی ہے جس کے نتیجے میں باہمی تعلقات متاثر  ہوتے ہیں، اور انسان اپنے عزیزوں، دوستوں اور رشتہ داروں  سےبھی دور ہوتا چلا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بصیرت اور آگاہی: حقیقت اور فریب کے بگاڑ کے دور میں انسان کو سب سے زیادہ اسی صفت کی ضرورت ہے

مبالغہ آرائی اور دروغ گوئی کا خطرہ

دراصل بسیار گو، زیادہ بول کر لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرنا چاہتا ہے، کبھی وہ اپنی صلاحیت و لیاقت کا اظہار کرتا ہے، کبھی اپنی معلومات کا مظاہرہ اور کبھی دولت و ثروت یا اپنے مقام و مرتبے کو نمایاں کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کوشش میں وہ  مبالغہ آرائی، بلکہ بعض اوقات لاشعوری طور پر دروغ گوئی سے بھی کام لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپؐ  نے بے فائدہ  اور غیر ضروری گفتگو سے منع فرمایا ہے۔  ایک حدیث میں آپؐ  نے فرمایا :جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہئے کہ وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے ۔(بخاری)

بلاشبہ قوتِ گویائی  اللہ رب العزت کی عطا کردہ عظیم ترین نعمت ہے۔ ذرا تصور کیجئے کہ اگر اللہ تعالیٰ انسان کو اس نعمت سے محروم کر دیتے تو زندگی کس قدر مشکل اور دشوار ہوجاتی۔ انسانوں میں جو لوگ اس نعمت سے محروم ہیں، وہ اس کی قدر و قیمت سے بخوبی واقف ہیں۔ اس لئے اس نعمت کی قدر یہی ہے کہ اسے خیر اور بھلائی کیلئے استعمال کیا جائے، ضرورت کے وقت بقدرِ ضرورت گفتگوکی جائے، غیر ضروری اور بے فائدہ کلام  سے  اجتناب کیا جائے، مخاطب کے احترام کو ملحوظ رکھا جائےاور زبان سے نکلنے والے ہر لفظ کو ذمہ داری کے ساتھ ادا کیا جائے۔ یہ بھی خیال رہے کہ بسیار گوئی جیسی بری عادت سے خود کو محفوظ رکھا جائے اور زبان کو بے لگام چھوڑنے کے بجائے اسے شعور، حکمت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ یوں یہ عظیم نعمت انسان کیلئے دنیا میں عزت و وقار اور آخرت میں نجات و کامیابی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

بسیار گوئی کا اخروی نقصان 

غیر ضروری گفتگو کرنا اور زیادہ بولنا ایک سنگین عمل ہے کیونکہ زیادہ بولنے کی وجہ سے زبان پھسلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور انسان کی زبان سے ایسی بات نکل سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بن جائے ۔اس لئے زبان کی حفاظت دراصل انسان کے دین اور آخرت کی حفاظت کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK