کلامِ الٰہی سے ہدایت حاصل کرنے کے کچھ اصول و آداب ہیں۔ محض تبرک کے طور پر قرآنی الفاظ کی تلاوت کر لیتا اور معانی کی طرف دھیان نہ دینا صحابہ کرام اور اسلاف عظام کا طریقہ نہ تھا۔
EPAPER
Updated: October 04, 2025, 4:03 PM IST | Ehsanullah Fahad Falahi | Mumbai
کلامِ الٰہی سے ہدایت حاصل کرنے کے کچھ اصول و آداب ہیں۔ محض تبرک کے طور پر قرآنی الفاظ کی تلاوت کر لیتا اور معانی کی طرف دھیان نہ دینا صحابہ کرام اور اسلاف عظام کا طریقہ نہ تھا۔
قرآن مجید جہاں اپنی ادبی فصاحت و بلاغت میں ایک عظیم الشان معجزہ ہے، وہیں اپنے معنی و مفہوم کے اعتبار سے بھی دُنیا کی تمام کتابوں پر عظیم الشان فوقیت رکھتا ہے۔ لیکن یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ قرآن کا اعجاز قرآن کے مقاصد میں سے نہیں بلکہ اس کے لوازم میں سے ہے۔ قرآن کا مقصد دنیائے انسانیت کو صحیح راہ دکھانا ہے۔ یہ مسلمانوں کی بد نصیبی ہے کہ وہ کتاب اللہ کو کتاب ہدایت سمجھنے کے بجائے بحث و جدل، علمی ورزش اور اظہار قابلیت کا ذریعہ بنا چکے ہیں۔ قرآن پاک بنیادی طور پر نہ عقلیات کی کتاب ہے نہ سائنس کی وہ تو ہدایت کی کتاب ہے۔ قرآن پاک بالکل آغاز ہی میں اپنے مقصد اور نصب العین کی خود ہی وضاحت کرتا ہے:
’’یہ اللہ کی کتاب ہے اس میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے ان پرہیز گاروں کے لئے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ ‘‘ (البقرہ:۲۔ ۳ )
دوسری جگہ فرمایا:
’’تمہارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی آ گئی ہے اور ایک ایسی حق نما کتاب جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کو جو اس کی رضا کے طالب ہیں سلامتی کے طریقے بتاتا ہے اور اپنے اذن سے اُن کو اندھیروں سے نکال کر اجالے کی طرف لاتا ہے اور راہ راست کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے۔ ‘‘ (المائدہ:۱۵۔ ۱۶)
قرآن پاک سے ہدایت حاصل کرنے کے کچھ اصول و آداب ہیں۔ محض تبرک کے طور پر قرآنی الفاظ کی تلاوت کر لینا اور معانی کی طرف دھیان نہ دینا صحابہ کرام اور اسلاف عظام کا طریقہ نہ تھا۔ یہ غلط تصور تو اس وقت سے رائج ہوا جب لوگوں نے قرآن کو کتاب ہدایت ماننے کے بجائے اسے حصول برکت کی کتاب سمجھنا شروع کیا۔ علماء اور اسلاف نے قرآن سے صحیح استفادہ کے لئے کچھ اصول اور وسائل ناگزیر قرار دیئے ہیں جن کو نظر انداز کر کے فہم قرآن کی راہیں ہموار نہیں ہو سکتیں۔ شیخ الاسلام احمد بن عبد الحلیم بن تیمیہ (۶۶۱ - ۷۲۸ھ) نے فہم قرآن (قرآن کو سمجھنے) کے مندرجہ ذیل اصول بتائے ہیں :
(۱) شیخ الاسلام کے نزدیک فہم قرآن کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ قرآن کو قرآن کے ذریعہ سمجھا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے افہام و تفہیم کی خاطر اسرار و حکم کو گوناں گوں پیرایوں میں بیان کیا ہے۔ اس کیلئے قرآن میں ’’تصریف‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب گردش کرنا ہے۔ جب ایک طالب علم قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو اسے ایک ہی مضمون تکرار کے ساتھ مختلف سورتوں میں نظر آتا ہے۔ لیکن جب وہ اس پر غور کرتا ہے تو اس کے سامنے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن تکرارِ محض سے بالکل پاک ہے۔ اس میں ایک ہی مضمون کو تکرار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے تو وہ بعینہ ایک ہی پیش و عقب اور ایک ہی قسم کے لواحق و تضمنات کے ساتھ نہیں بلکہ ہر جگہ اس کے اطراف و جوانب اور اس کے تعلقات و روابط بدلے ہوئے ہیں۔ مقام کی مناسبت سے اس میں تبدیلیاں موجود ہیں۔ ایک مقام پر جو پہلو مخفی ہوتا ہے، دوسرے مقام پر واضح ہو جاتا ہے۔ ایک مقام پر اس کا رخ غیر معین ہوتا ہے، دوسرے مقام پر معین یا واضح ہو جاتا ہے۔ ایک لفظ ایک آیت میں بالکل مبہم نظر آتا ہے، دوسری آیت میں وہ لفظ پوری وضاحت کے ساتھ آتا ہے۔ اس طرح ایک جگہ ایک بات کی دلیل سمجھ میں نہیں آتی لیکن اس بات کو دوسری جگہ تفصیل سے بیان کر دیا گیا ہے۔ ابن تیمیہؒ کے اس اصول کی صداقت خود قرآن سے معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ اس کا اعلان ہے:
’’الف لام را (یہ وہ) کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم بنا دی گئی ہیں، پھر حکمت والے باخبر (رب) کی جانب سے وہ مفصل بیان کر دی گئی ہیں۔ ‘‘ (ہود:۱)
’’(اِس) کتاب کا جس کی آیات واضح طور پر بیان کر دی گئی ہیں علم و دانش رکھنے والی قوم کے لئے عربی (زبان میں ) قرآن (ہے)۔ ‘‘ (حم السجدہ:۳)
’’اور بیشک ہم ان کے پاس ایسی کتاب (قرآن) لائے جسے ہم نے (اپنے) علم (کی بنا) پر مفصّل (یعنی واضح) کیا، وہ ایمان والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔ ‘‘ (الاعراف:۵۲)
(۲) علامہ کے نزدیک فہم ِ قرآن کا دوسرا اصول یہ ہے کہ سنت نبویؐ اور احادیث نبویؐ کی مدد سے قرآن کا فہم کیا جائے کیونکہ قرآن حکیم نقشہ ٔ تعمیر ہے اور سنت ِرسول ؐ اس نقشہ کے مطابق تیار کی ہوئی عمارت۔ نقشہ کے ساتھ انجینئر بھیجنے کے اصول پر اس وقت سے عمل درآمد ہو رہا ہے جب سے ہدایت ِ الٰہی کی ابتدا ہوئی ہے۔ اس بنا پر حالات و زمانہ کے تقاضوں کی مناسبت سے عمارت کی تعمیر انجینئر کی بنائی ہوئی عمارت کو قطعاً نظر انداز کر کے اصل نقشہ کے مطابق نہیں ہو سکتی۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولؐ کو قرآن کا شارح قرار دیا ہے:
’’اور (اے نبی ٔ مکرّم!) ہم نے آپ کی طرف ذکر ِ عظیم (قرآن) نازل فرمایا ہے تاکہ آپ لوگوں کیلئے وہ (پیغام اور احکام) خوب واضح کر دیں جو ان کی طرف اتارے گئے ہیں اور تاکہ وہ غور و فکر کریں۔ ‘‘ (النحل:۴۴)
’’(اے رسولِ گرامی!) بیشک ہم نے آپ کی طرف حق پر مبنی کتاب نازل کی ہے تاکہ آپ لوگوں میں اس (حق) کے مطابق فیصلہ فرمائیں۔ ‘‘ (النساء:۱۰۵)
’’اور ہم نے آپ کی طرف کتاب نہیں اتاری مگر اس لئے کہ آپ ان پر وہ (اُمور) واضح کر دیں جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں اور (اس لئے کہ یہ کتاب) ہدایت اور رحمت ہے اس قوم کے لئے جو ایمان لے آئی ہے۔ ‘‘
(النحل:۶۴)
اسی وجہ سے اللہ کے رسول ؐنے ارشاد فرمایا کہ:
’’معلوم ہے مجھے قرآن بھی بخشا گیا ہے اور قرآن کے ساتھ اس کا مثل بھی۔ ‘‘
اور یہ مثیل ِ قرآن سنت ہے۔ مندرجہ بالا آیت کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ جو چیزیں قرآن میں نہ مل سکیں ان کو سنت میں تلاش کرو۔ جیسا کہ یمن روانہ کرتے وقت حضرت معاذؓ سے اللہ کے رسولؐ نے سوال فرمایا تھا ’’ کس چیز سے فیصلہ کرو گے؟‘‘ معاذؓ نے فرمایا: ’’ کتاب اللہ سے۔ ‘‘ فرمایا: ’’اگر اس میں نہ ملے؟‘‘ معاذؓ نے عرض کیا: ’’ سنت رسول ؐ سے۔ ‘‘ فرمایا:’’اگر سنت میں بھی نہ پایا؟‘‘ عرض کیا: ’’ اس صورت میں اپنے اجتہادِ رائے سے کام لوں گا۔ ‘‘ آپؐ نے یہ سن کر معاذؓ کے سینے پر اپنا دست مبارک رکھا اور فرمایا ’’خدا کا شکر ہے جس نے نبیؐ کے قاصد کو وہ توفیق بخشی جس سے اللہ کا رسولؐ راضی ہے۔ ‘‘
حضرت ابو بکر صدیقؓ کا طرز عمل منقول ہے کہ آپ کے سامنے کوئی قانونی معاملہ آتا تو پہلے قرآن کریم میں اس کا حل تلاش کرتے۔ اگر وہاں نہ ملتا تو سنت کی طرف رجوع کرتے۔ اگر سنت میں بھی نہ ملتا تو لوگوں سے دریافت کرتے کہ اس معاملے میں اللہ کے رسولؐ کے فیصلے کا کسی کو علم ہے۔ بسا اوقات صحابہؓ میں سے کچھ لوگ بتا دیتے کہ رسولؐ اللہ نے اس معاملہ میں یہ فیصلہ فرمایا ہے، تو صدیق اکبرؓ سنت کی سند ملنے پر خوش ہو کر فرماتے تھے کہ خدا کا شکر ہے کہ اس نے ایسے لوگوں کو باقی رکھا جن میں ہمارے نبیؐ کی سنتیں محفوظ ہیں۔ حضرت عمرؓ نے قرآن فہمی کے سلسلے میں سنت کی تشریحات کو بنیاد بناتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا: آئندہ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآنی مشتبہات میں تم سے جھگڑیں گے۔ ایسی صورت میں سنتوں کے ذریعے ان پر حجت قائم کرنا کیونکہ اصحاب سنن کتابُ اللہ کو خوب جانتے تھے۔ ‘‘ ائمہ قانون نے بھی قرآن فہمی اور قانون کے مرحلہ میں سنت کو خاص اہمیت دی ہے۔ امام ابو حنیفہؒ سے منقول ہے کہ ’’اگر سنتیں نہ ہوتیں تو ہم میں سے کوئی شخص قرآن کا فہم حاصل نہ کر سکتا تھا۔ ‘‘ مزید وضاحت اس قول سے ہوتی ہے کہ’’ لوگ اس وقت تک خیر و صلاح میں رہیں گے جب تک ان میں حدیث کے طالب موجود ہوں گے۔ اور جب وہ بغیر حدیث کے علم حاصل کریں گے تو بگاڑ اور فساد میں مبتلا ہو جائیں گے۔ ‘‘ امام شافعی نے تو وضاحت سے کہہ دیا کہ اللہ کے رسولؐنے جو حکم بھی دیا وہ قرآن ہی سے ماخوذ ہے۔
(۳) امام ابن تیمیہؒ کے نزدیک فہم قرآن کا تیسرا اصول یہ ہے کہ اگر کوئی چیز قرآن و سنت سے سمجھ میں نہ آسکے تو اس کو اقوال صحابہؓ سے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ محض قرائن و حالات کے مشاہدے کی وجہ سے وہ مطالب قرآن کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے اور مکمل فہم اور عمل صالح کے مالک تھے۔ امام ابو جعفر محمد بن جریر الطبریؒ نے بھی اپنے اسناد سے روایت کی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ ’’قسم ہے اس کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ کتابُ اللہ کی کوئی آیت نازل نہیں ہوئی جس کے بارے میں مجھے معلوم نہ ہو کہ کس کے حق میں نازل ہوئی اور کہاں نازل ہوئی۔ اگر میں کسی ایسے شخص کو جانتا جو مجھ سے زیادہ کتابُ اللہ کا علم رکھتا ہے اور اسکے پاس سواری سے پہنچا جا سکتا تو میں ضرور اس کے پاس جا پہنچتا۔ ‘‘ سلیمان بن مهران الاعمش کوفی ؒ نے اپنے استاد سے عبداللہ بن مسعودؓ کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ ’’ہم میں سے کوئی دس آیتوں سے زیادہ اس وقت تک نہیں پڑھتا تھا جب تک کہ ان آیتوں کے معانی کی معرفت نہ حاصل کرلے اور ان پر عمل میں بھی پختہ نہ ہو جائے۔ ‘‘
علامہ ابن تیمیہ ؒنے فہم قرآن کا چوتھا اصول تابعین کے اقوال سے استدلال بتایاہے۔ جب کوئی چیز قرآن میں نہ ملے اور اس کے بعد سنت میں نہ ملے اور نہ اقوالِ صحابہؓ میں، تو ایسی صورت میں اقوالِ تابعین کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ مثلاً مجاہد بن جبیرؒ، سعید بن جبیرؒ، عکرمہ مولیٰ ابن عباسؓ، عطا بن ابی رباحؒ، حسن بصریؒ، سعید بن المسيبؓ وغیرہ وہ تابعی علماء ہیں جو محدثین و مفسرین کے نزدیک معتبر اور ثقہ ہیں۔ مجاہدؒ علم تفسیر میں خدا کی نشانی تھے۔ محمد بن اسحاق نے اپنی اسناد سے روایت کیا ہے کہ مجاہد کہتے تھے کہ ’’میں نے مصحف ِقرآنی تین مرتبہ شروع سے آخر تک عبد اللہ بن عباسؓ کے سامنے پیش کیا۔ ہر آیت پر ان کو ٹھہراتا اور تفسیر پوچھتا تھا۔ ‘‘ ترمذی نے اپنی سند سے مجاہدؒ کا یہ قول نقل کیا ہے، ’’ قرآن میں کوئی آیت نہیں جس کی تفسیر میں کچھ نہ کچھ میں نے نہ سنا ہو۔ ‘‘ ابن جریرؒ نے ابن ابی ملیکہؒ سے روایت کیا ہے کہ میں نے مجاہدؒ کو دیکھا کہ اپنے کاغذ قلم لئے ابن عباسؓ کے پاس پہنچے اور تفسیر قرآن کے بارے میں سوال کرنا شروع کیا۔ ابن عباسؓ نے فرمایا لکھتے جاؤ۔ اس طرح مجاہد نے پوری تفسیر پوچھ لی۔ اس لئے سفیان ثوریؒ کہا کرتے تھے کہ جب مجاہد سے تفسیر ملے تو یہ تمہارے لئے کافی ہے۔ لیکن جب تابعین کے اقوال میں اختلاف ہو جائے تو اس صورت میں اس سے استدلال لازم نہیں۔ ایسی صورت میں قرآن و سنت کی زبان کو، عام لغت ِعرب کو یا اقوالِ صحابہؓ کو مد نظر رکھنا چاہئے لیکن جب تابعین کا کسی آیت کے بارے میں اجتماع ہو جائے تو وہ تمام لوگوں کیلئے حجت ہے۔
فہم قرآن کے سلسلے میں علامہ ابن تیمیہؒ کا پانچواں اصول یہ ہے کہ محض رائے سے من گھڑت تفسیر کرنا حرام ہے۔ ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ ’’جو شخص بغیر علم کے قرآن میں گفتگو کرتا ہے، اپنے لئے دوزخ میں ٹھکانہ بناتا ہے۔ ‘‘ سنن ترمذی میں حضرت جندبؓ روایت کرتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی قرآن میں اپنی رائے سے کہے اور اس کا کہنا صحیح ہو تو بھی وہ غلطی کا مرتکب ہے۔ رسولؐ اللہ کی انہی حدیثوں کی وجہ سے اہل علم کا کہنا ہے کہ رسولؐ اللہ کے ساتھی اور ان کے بعد کے سلف صالحین، بغیر علم کے قرآن کی کسی آیت کی تفسیر ہرگز نہ کرتے تھے۔ جو شخص بغیر علم کے قرآن کی تفسیر کرتا ہے اس کی مثال ایسے شخص کی ہے جو جہل کی حالت میں لوگوں کے فیصلے کرنے بیٹھ جائے اور غلط فیصلے کر کے جہنم کا ایندھن بن جائے۔ صحابہ کرامؓ اور سلف صالحین ایسی تفسیر سے گریز کرتے تھے جن کے بارے میں ان کو علم نہ ہو۔ حضرت شعبہؓ کی روایت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے فرمایا: کون زمین مجھے اٹھائے گی اور کون آسمان مجھ پر سایہ کرے گا اگر کتابُ اللہ میں ایسی بات کہوں جس کا مجھے علم نہیں۔