Updated: June 23, 2026, 10:02 PM IST
| Mumbai
برطانیہ میں مسلم مخالف اور تارکینِ وطن مخالف جذبات ایک بار پھر قومی بحث کا مرکز بن گئے ہیں۔ اسکاٹ لینڈ کے شہر ایڈنبرا میں ایک ۳۶؍ سالہ شخص کے مبینہ نفرت انگیز حملے، بیلفاسٹ میں تارکینِ وطن مخالف فسادات، اور امیگریشن کے خلاف سخت بیانات نے ملک میں سماجی تناؤ کے بڑھتے ہوئے رجحان کو اجاگر کیا ہے۔
برطانیہ میں نسل پرستی، اسلاموفوبیا اور تارکینِ وطن مخالف جذبات کے حوالے سے تشویش ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جب اسکاٹ لینڈ کے دارالحکومت ایڈنبرا میں ۱۹؍ جون کو ہونے والے ایک مبینہ نفرت انگیز حملے میں پانچ افراد زخمی ہو گئے، جن میں کئی مسلمان شامل تھے۔ پولیس کے مطابق ۳۶؍ سالہ سفید فام اسکاٹش مشتبہ شخص نے مختلف مقامات پر سلسلہ وار حملے کیے، جن میں ۲۲؍ سے ۳۹؍ سال کی عمر کے پانچ افراد زخمی ہوئے۔ بعض زخمی افراد کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ مسجد سے باہر نکلنے کے فوراً بعد نشانہ بنے۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور نے مبینہ طور پر مسلم مخالف نعرے لگائے اور حملوں کے دوران چاقو یا کلہاڑی نما ہتھیار استعمال کیا۔ بعض گواہوں نے دعویٰ کیا کہ اسے مسلمانوں کے خلاف توہین آمیز جملے کہتے ہوئے سنا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: پاکستان میں آبی بحران: سندھ طاس معاہدے پر وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ہندوستان کو جنگ کی دھمکی دی
انسداد دہشت گردی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ واقعے کی تحقیقات ممکنہ مسلم مخالف نفرت انگیز جرم کے طور پر کی جا رہی ہیں۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب برطانیہ میں امیگریشن، مذہبی شناخت اور سماجی ہم آہنگی سے متعلق مباحثے پہلے ہی شدت اختیار کر چکے ہیں۔ مبصرین کے مطابق موجودہ سیاسی ماحول بعض حوالوں سے ۱۹۶۰ء کی دہائی میں کنزرویٹو سیاست دان اینوک پاول کی متنازع ’’ریورز آف بلڈ‘‘ تقریر کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کی یاد دلاتا ہے۔ ایڈنبرا کا واقعہ شمالی آئرلینڈ کے شہر بیلفاسٹ میں حالیہ فسادات کے چند روز بعد پیش آیا۔ یہ فسادات ایک مقامی شخص پر مبینہ چاقو حملے کے بعد شروع ہوئے، جس میں ایک سوڈانی شہری پر قتل کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ واقعے کے بعد تارکینِ وطن مخالف مظاہرے پرتشدد فسادات میں تبدیل ہو گئے۔ نقاب پوش افراد نے متعدد گاڑیوں اور گھروں کو نذرِ آتش کیا جبکہ بعض علاقوں میں نسلی اقلیتوں اور تارکینِ وطن خاندانوں کو براہِ راست نشانہ بنانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ متعدد خاندانوں کو حفاظتی وجوہات کی بنا پر اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنا پڑی۔
اسی عرصے میں برطانیہ میں ایک اور مقدمہ بھی شدید بحث کا موضوع بنا رہا، جس میں ہندوستانی نژاد سکھ شہری وکرم ڈگوا کو جنوبی انگلینڈ میں ایک نوجوان کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ اس مقدمے سے متعلق وائرل ویڈیوز اور سوشل میڈیا مباحث نے امیگریشن اور جرائم کے موضوع پر پہلے سے موجود تقسیم کو مزید نمایاں کیا۔ دریں اثنا، امیگریشن مخالف سیاسی بیانیے نے بھی توجہ حاصل کی ہے۔ ریسٹور برٹین پارٹی کے لیڈر اور گریٹ یارموتھ سے رکنِ پارلیمان روپرٹ لو مسلسل سخت امیگریشن پالیسیوں کی وکالت کر رہے ہیں۔ انہوں نے متعدد مواقع پر بڑے پیمانے پر ملک بدری کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’لاکھوں لوگوں کو جانا چاہیے۔‘‘ ان کا مؤقف ہے کہ برطانیہ کو غیر قانونی تارکینِ وطن کے لیے ایک ’’مخالف ماحول‘‘ بنانا چاہیے اور قومی شناخت و ثقافت کو امیگریشن سے متعلق معاشی دلائل پر فوقیت دینی چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: لبنان: اسرائیلی حملے میں معروف ماہر ماحولیات مونا خلیل کا انتقال
ایک حالیہ سوشل میڈیا پوسٹ میں روپرٹ لو نے پاکستانی اور ہندوستانی تارکینِ وطن سے متعلق متنازع بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان افراد کو برطانیہ میں روزگار کے لیے لانے کے خلاف ہیں، جو ان کے بقول مقامی بے روزگار برطانوی شہری انجام دے سکتے ہیں۔ ان بیانات پر شدید تنقید ہوئی اور ناقدین نے انہیں نسل پرستانہ قرار دیا جبکہ ان کے حامیوں نے اسے امیگریشن سے متعلق حقیقی عوامی خدشات کا اظہار قرار دیا۔ امیگریشن مخالف حلقوں کی جانب سے حالیہ برسوں میں ’’گرومنگ گینگ‘‘ اسکینڈلز کو بھی بار بار سیاسی بحث کا حصہ بنایا گیا ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات کو عمومی طور پر مخصوص نسلی یا مذہبی برادریوں سے جوڑ کر پیش کیا جاتا ہے، جس سے معاشرتی کشیدگی بڑھتی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خصوصاً ایکس پر ان مباحث کو مزید تقویت ملی ہے۔
اعدادوشمار کیا کہتے ہیں؟
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں خالص ہجرت ۲۰۲۳ء میں تقریباً ۹۴۴۰۰۰؍ تک پہنچ گئی تھی، جس کے بعد اس میں کمی کا رجحان دیکھا گیا۔ تاہم امیگریشن اب بھی ملکی سیاست کے اہم ترین موضوعات میں شامل ہے۔ بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی ہجرت نے رہائش، صحت، تعلیم اور روزگار جیسے شعبوں پر دباؤ بڑھایا ہے جبکہ دوسرے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مہنگائی، رہائشی بحران اور معاشی مشکلات کو صرف تارکینِ وطن سے جوڑنا حقائق کا مکمل عکس نہیں۔
یاد رہے کہ برطانیہ میں نسلی کشیدگی اور امتیازی سلوک کی تاریخ ایک صدی سے زیادہ پر محیط ہے۔ ۱۹۱۹ء میں بندرگاہی شہروں میں سیاہ فام اور ایشیائی بحری کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ ۱۹۵۸ء کے نوٹنگ ہل فسادات اور ناٹنگھم میں ہونے والی بدامنی نے نسلی تناؤ کو نمایاں کیا۔ ۱۹۷۰ء کی دہائی میں انتہائی دائیں بازو کی تنظیموں کے عروج کے دوران جنوبی ایشیائی برادریوں پر حملوں میں اضافہ ہوا۔ ۱۹۸۰ء کی دہائی میں برکسٹن، ٹوکسٹیتھ اور براڈ واٹر فارم کے فسادات نے پولیس اور اقلیتی برادریوں کے تعلقات پر سوالات اٹھائے جبکہ ۱۹۹۳ء میں سیاہ فام نوجوان اسٹیفن لارنس کے قتل کی تحقیقات نے میٹروپولیٹن پولیس میں ادارہ جاتی نسل پرستی کے الزامات کو نمایاں کیا۔
یہ بھی پڑھئے: الجزیرہ نے غزہ میں اسرائیلی حملے میں کیمرہ مین کی شہادت کے بعد عالمی برادری سے احتساب کا مطالبہ کیا
حالیہ برسوں میں بھی امیگریشن اور شناخت کے موضوعات پر کشیدگی برقرار رہی ہے۔ ۲۰۲۴ء میں ساؤتھ پورٹ میں چاقو حملے کے بعد جھوٹی آن لائن معلومات نے بڑے پیمانے پر فسادات کو جنم دیا، جن میں مساجد، پناہ گزینوں کی رہائش گاہوں اور اقلیتی برادریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان واقعات کے دوران ۱۸۰۰؍ سے زائد افراد گرفتار ہوئے جبکہ سینکڑوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ واضح رہے کہ ۲۰۲۵ء میں بھی پناہ گزینوں کے ہوٹلوں کے باہر احتجاجی مظاہروں، مسلمانوں اور سکھوں پر حملوں، اور مختلف امیگریشن مخالف ریلیوں نے ملک میں بڑھتی ہوئی تقسیم کو اجاگر کیا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ اس وقت امیگریشن، قومی شناخت اور سماجی ہم آہنگی کے حوالے سے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ ناقدین کے مطابق بعض سیاسی جماعتیں اور شخصیات سماجی تقسیم کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہیں، جبکہ ان کے حامیوں کا اصرار ہے کہ وہ صرف عوامی خدشات کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ بہرحال، برطانوی معاشرے کے وسیع حلقے اب بھی اقلیتوں اور تارکینِ وطن کے خلاف تشدد اور نفرت انگیز جرائم کی مذمت کرتے ہیں، جبکہ ملک میں ایک جامع، متوازن اور سیاسی طور پر قابلِ قبول امیگریشن پالیسی کی تلاش بدستور جاری ہے۔