Inquilab Logo Happiest Places to Work

ورلڈ کپ ۲۶ء کے بعد ریٹائرمنٹ کا اشارہ، نُصیر مزراوی حفظِ قرآن، امامت کے خواہاں

Updated: June 22, 2026, 9:43 PM IST | Morocco

مانچسٹر یونائیٹڈ اور مراکش کے ۲۸؍ سالہ دفاعی کھلاڑی نُصیر مزراوی نے اشارہ دیا ہے کہ ۲۰۲۶ء کا فیفا ورلڈ کپ ان کے پیشہ ورانہ فٹبال کریئر کا آخری بڑا ٹورنامنٹ ہو سکتا ہے۔ مارچ ۲۰۲۶ء کے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ مستقبل میں قرآن مجید حفظ کرنا اور مسجد کے امام کے طور پر خدمات انجام دینا چاہتے ہیں۔ یہ بیان ورلڈ کپ کے دوران دوبارہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے۔

Noussair Mazraoui. Photo: X
نُصیر مزراوی۔ تصویر: ایکس

مراکش اور مانچسٹر یونائیٹڈ کے تجربہ کار دفاعی کھلاڑی نُصیر مزراوی ایک مرتبہ پھر خبروں کی زینت بن گئے ہیں، تاہم اس بار وجہ ان کی کارکردگی نہیں بلکہ مستقبل کے حوالے سے ان کے مستقبل کے عزائم ہیں۔ ۲۸؍ سالہ فٹبالر کا مارچ ۲۰۲۶ء میں دیا گیا ایک انٹرویو فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے دوران دوبارہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے، جس میں انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ وہ ورلڈ کپ کے بعد پیشہ ورانہ فٹبال کو خیرباد کہنے پر غور کر سکتے ہیں۔ مزراوی نے انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’میں ورلڈ کپ کے بعد ریٹائر ہونے کا فیصلہ کر سکتا ہوں، زندگی مختصر ہے، میں قرآن حفظ کرنا چاہتا ہوں اور ایک دن مسجد کا امام بننا چاہتا ہوں۔‘‘ ان کے اس بیان نے فٹبال حلقوں اور سوشل میڈیا پر وسیع بحث چھیڑ دی ہے۔ تاہم انہوں نے تاحال کسی باضابطہ ریٹائرمنٹ کا اعلان نہیں کیا اور مستقبل کے تمام امکانات کھلے رکھے ہیں۔

بعد ازاں ایک پوڈ کاسٹ گفتگو میں مزراوی نے اپنے روحانی سفر کے بارے میں مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے رمضان میں قرآن پڑھا، لیکن رمضان کے بعد اتنا زیادہ نہیں۔ یہیں سے میں نے اپنے سفر کا آغاز کیا۔ ورلڈ کپ کے بعد میں نے قرآن حفظ کرنے کا فیصلہ کیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ نماز کے دوران وہ صرف چند سورتیں پڑھتے تھے اور انہیں محسوس ہوا کہ انہیں قرآن سے زیادہ گہرا تعلق پیدا کرنا چاہیے، جس کے بعد انہوں نے حفظِ قرآن کا ارادہ کیا۔ اسلامی روایت میں مکمل قرآن مجید حفظ کرنا ایک طویل اور محنت طلب عمل سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح امامت صرف قرآن یاد کرنے تک محدود نہیں بلکہ دینی علوم، اخلاقی رہنمائی اور کمیونٹی کی قیادت کی ذمہ داریوں پر بھی مشتمل ہوتی ہے۔

نیدرلینڈز کے شہر لیڈرڈورپ میں مراکشی والدین کے ہاں پیدا ہونے والے مزراوی نے ایجیکس کی مشہور اکیڈمی سے فٹبال کی تربیت حاصل کی۔ بعد ازاں وہ یورپ کے بڑے کلبوں ایجیکس، بائرن میونخ اور مانچسٹر یونائیٹڈ کی نمائندگی کرتے رہے۔ ان کے مذہبی رجحان کی جھلک ماضی میں بھی کئی مرتبہ سامنے آ چکی ہے۔ ۲۰۱۹ء کے یوئیفا چیمپئنز لیگ سیمی فائنل کے دوران مزراوی اور ان کے ساتھی حکیم زیاش کی میچ کے دوران روزہ افطار کرنے کی تصاویر سوشل میڈیا پر خاصی وائرل ہوئی تھیں۔ ایک اور موقع پر انہوں نے اپنے عقیدے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’میرا مذہب میری زندگی میں پہلے نمبر پر ہے۔ یہ ان چیزوں سے نمٹنے میں میری بہت مدد کرتا ہے جو میرے مطابق نہیں ہوتیں، اور ان کامیابیوں کو بھی سنبھالنے میں مدد دیتا ہے جو میرے حصے میں آتی ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: بلجیم کے خلاف ڈرا کے بعد ایران کا لاس اینجلس کے نام شکریہ کا پیغام

ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں مزراوی مراکش کی قومی ٹیم کے اہم ستون کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ جون میں کندھے کی چوٹ سے متعلق خدشات کے باوجود وہ ٹیم میں شامل رہے اور ابتدائی گروپ میچوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے برازیل کے خلاف ۸۰؍ منٹ میدان میں گزارے جبکہ اسکاٹ لینڈ کے خلاف مکمل ۹۰؍ منٹ کھیلتے ہوئے اپنی ٹیم کی صفر ایک کی فتح اور کلین شیٹ میں اہم کردار ادا کیا۔ فٹبال کے علاوہ مزراوی نے مارچ ۲۰۲۶ء میں اسلامی فن ٹیک پلیٹ فارم وحید (Wahed) کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنر اور شیئر ہولڈر کے طور پر شمولیت اختیار کی۔ یہ ادارہ شریعت کے مطابق سرمایہ کاری اور مالیاتی خدمات فراہم کرتا ہے۔ اسی دوران ان کا نام فینٹسی فٹبال پلیٹ فارم Sorare کے تناظر میں بھی زیر بحث آیا، تاہم ان کے مذہبی منصوبوں یا ممکنہ ریٹائرمنٹ کا کسی مخصوص کرپٹو یا بلاک چین منصوبے سے براہ راست کوئی تعلق سامنے نہیں آیا۔ اگر مزراوی واقعی ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے بعد ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کرتے ہیں تو یہ جدید فٹبال کی غیر معمولی کہانیوں میں شمار ہوگا، کیونکہ وہ اپنے کریئر کے عروج پر کھیل کو خیرباد کہہ کر ایک روحانی راستہ اختیار کرنے والے چند بڑے عالمی فٹبالرز میں شامل ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK