قرآن کی تصویر، قرآن کی زبانی

Updated: May 21, 2021, 8:07 PM IST | Prof Sayed Abdul Khair Kashfi

انسانوں نے اس کتابِ عظیم کے بارے میں ہر دور میں جو کچھ کہا ہے وہ اسی لئے مختلف ہے۔ ہم زمان و مکان کے دائرے میں رہ کر سوچ سکتے ہیں۔ اسی لئے قرآن کی تفسیر، اس کی تعلیمات اور اس کے مطالعے کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے کہ ہم قرآن کی صفات اور خصوصیات کو اس کی اپنی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

قرآنِ حکیم، کتابِ عجائب الغرائب ہے۔ یہ ایک ایسی دنیا ہے جس کے اسرار و رُموز ہردور میں انسانوں کے سامنے نئے انداز سے اُبھرتے آئے ہیں اور یوں ہی اُبھرتے رہیں گے۔ ہمارے علم کی سطح جیسے جیسے بلند ہوتی جاتی ہے، کائنات پر ہمارا عمل ِ تسخیر جس درجہ وسیع تر ہوتا جاتا ہے، قرآن اپنے معارف کو اسی نسبت سے آشکار کرتا جاتا ہے۔ انسانوں نے اس کتابِ عظیم کے بارے میں ہر دور میں جو کچھ کہا ہے وہ اسی لئے مختلف ہے۔ ہم زمان و مکان کے دائرہ میں رہ کر سوچ سکتے ہیں۔ اسی لئے قرآن کی تفسیر، اس کی تعلیمات اور اس کے مطالعے کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے کہ ہم قرآن کی صفات و خصوصیات کو اس کی اپنی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں۔یہ کوشش ہماری تمام ذاتی کوششوں کی نسبت حقائق سے قریب تر ہوگی۔ ’’قرآن اپنی تفسیر آپ ہے‘‘ اس جملے کو پھیلایئے تو ایک طرف  یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ قرآن کی تعلیمات نہایت واضح ہیں، اور دوسری طرف اپنی تفسیر آپ ہونے کا یہ مفہوم بھی واضح ہوجائے گا کہ قرآن کی نوعیت، اس کے دائرہ اور احاطے کی وسعت، اس کے مختلف پہلوئوں اور گوشوں کا تعارف، اسی کتاب کے وسیلے اور مدد سے ممکن ہے۔
زیر نظر مطالعے میں کوشش یہ کی گئی ہے کہ اس کتاب کی اہم صفات جس ترتیب سے اس میں آئی ہیں اسی ترتیب سے پیش کی جائیں:
    کتاب: قرآنِ کریم کے آغاز ہی میں ہمیں اس کا یہ تعارف ملتا ہے:
’’ اس کتاب میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ یہ متقیوں کے لئے رہنما ہے۔‘‘(البقرہ ۲:۲)
کتاب کے لفظ کے ساتھ ہی پہلا تصور جو ہمارے ذہنوں میں اُبھرتا ہے وہ ایک مرتب چیز کا ہے، منتشر اوراق کو کتاب نہیں کہا جاسکتا۔ قرآن نے کئی مقامات پر اپنے آپ کو ’کتاب‘ کہا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحیِ ربّانی کی روشنی میں مرتب فرمایا اور ایک مرتب و منظم شکل میں انسانیت کو عطا فرماکر تکمیل ِ فریضۂ نبوت و رسالت فرمائی۔
قرآنِ کریم کی سورتوں اور آیتوں پر ہی غور کیجئے  تو اس کی ترتیب ِ محکم واضح ہوجائے گی۔ رہی بات تکرار کی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اہم احکام کی وضاحت مختلف صورتِ حال (Situations) کے تحت کی گئی ہے، یا اہمیت کو اُبھارنے کے لئے بعض احکام کو دُہرایا گیا ہے یا تصریف ِ آیات کا مقصد خالص نفسیاتی اور تعلیمی ہے کہ مختلف انداز یا ایک ہی انداز سے ایک بات کو وقفے وقفے سے یوں دُہرایا جائے تاکہ وہ بات کے مرحلے سے گزر کر ’مسلک ِ حیات‘ کا اشارہ اور قرینہ بن سکے۔
’کتاب‘ کے اس عام اور مروجہ مفہوم سے آگے بڑھئے تو عربی زبان کی رُو سے کتاب کے اور بھی کئی معانی سامنے آتے ہیں۔ کتاب مجموعۂ قوانین کو بھی کہا جاسکتا ہے، بلکہ وہ کتاب جو احکام و قوانین کا مجموعہ ہو ، اسے ہی الکتاب کہنا زیب دیتا ہے۔ اس معانی کو قرآنی آیات کی روشنی میں پرکھا جاسکتا ہے، مثلاً کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کا مطلب یہی ہوا کہ تم پر روزے فرض کئے گئے۔ قرآن کے باب میں کتاب کے انہی معانی کی وضاحت سورئہ نساء کی اس آیت سے ہوتی ہے:
’’(اے رسولؐ) ہم نے تم پر یہ کتاب حق کے ساتھ نازل کی ہے تاکہ تم اللہ کی ہدایات کے مطابق لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو۔‘‘
(النساء ۴:۱۰۵)
 شبہ سے بالاتر: کتاب کے معنوں کی اس وضاحت کے بعد ہم قرآنِ حکیم میں قرآن کے پہلے تعارف کی طرف لوَٹتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ یہ ایسی کتاب ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں، اور جو متقیوں کے لئے ہدایت ہے۔ اس کتاب میں شک و شبہ اس لئے نہیں کہ یہ خدائے علیم و خبیر کی نازل کی ہوئی ہے۔ قرآن نے تنزیل کے لفظ سے یہ بات واضح کردی ہے کہ وحی ایک خارجی شے ہے اور نبیؐ کے ذہن کی پیداوار نہیں۔ چودہ صدیاں اس حقیقت پر گواہی دے رہی ہیں کہ اس کتاب میں کل شک تھا، نہ آج شک ہے (اور نہ کل ہوگا)۔ آج علوم کی تیزرفتاری کا عالم یہ ہے کہ بعض کتابیں چھپنے کے دوران ہی پرانی ہوجاتی ہیں لیکن وحی الٰہی کے حقائق اتنے محکم ہیں کہ چودہ صدیوں نے انہیں اور اُبھار دیا ہے۔
ھُدیٰ: اِس کتابِ محکم نے اپنے تعارف میں اپنے آپ کو  ھُدیٰ کہا ہے۔ ہم نے اس کا ترجمہ ’رہنما‘ لکھا ہے۔ یہ ترجمہ مولانا فتح محمد جالندھری اور دوسرے مترجمین کے یہاں بھی ملتا ہے اور اس لفظ کے لغوی معنوں پر دلالت کرتا ہے۔ ھُدٰی کے معنی ہیں راستہ دکھانے کیلئے آگے آگے چلنا۔ زندگی کی تاریک راہوں کو ہمارے لئے قرآن نے اسی طرح روشن کیا ہے۔ اس لفظ کے بنیادی معنوں میں رہنمائی کے ساتھ ساتھ روشنی کا مفہوم بھی موجود ہے۔ وہ چیز جو روشن ہو (اور جس کی روشنی میں دوسری اشیاء بھی صاف نظر آئیں)   ھُدٰی ہے جیسے دن۔قرآن کی اس روشنی کا نتیجہ ہے کہ اس کے بتائے ہوئے حقائق کے بارے میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا لیکن قرآن کی یہ رہنمائی، یہ ہدایت اور روشنی، متقی لوگوں کیلئے ہے۔
لفظ متقی کا ترجمہ ’ڈرنے والے‘ مکمل نہیں۔ تقویٰ قرآن کی ایک نہایت جامع اصطلاح ہے اور اُردو میں اسے قبولِ عام حاصل ہے، اسی لئے کسی دوسرے لفظ کے سہارے کی ضرورت نہیں۔ قرآن میں اکثر مقامات پر تقویٰ کے ساتھ اللہ کا ذکر ضرور ہے۔ اس سے قرآنی تقویٰ کی وضاحت خود بخود ہوجاتی ہے۔ متقی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی حفاظت اور نگہداشت کے متمنی ہیں، جو ہر اس چیز سے احتیاط اور اجتناب برتتے ہیں جو احکامِ الٰہی کے مطابق نہ ہو۔ متقی اپنی زندگی کا ہرلمحہ اللہ کے احکام کے مطابق بسر کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کوشش میں اسوئہ حسنہ کو نمونے کے طور پر اپنے سامنے رکھتا ہے۔ متقی احکامِ الٰہی سے پیوست رہتا ہے اور فاجر (متقی کی ضد) وہ ہے جو راستے سے علاحدہ  ہوجائے۔
    فرقان: یہ کتاب جس میں کوئی شک و شبہ نہیں اور جو متقیوں کی رہنمائی کرتی ہے، ان حقائق کا مجموعہ ہے جو اس سے پہلے دوسری آسمانی کتابوں میں پیش کئے گئے تھے، اور جن کو    وقت گزر جانے کے ساتھ ان مذاہب کے متبعین نے مسخ کر دیا تھا، یا چھپا دیا تھا۔ اس کتاب کے ذریعے وہی حقائق واضح طور پر انسانوں کے سامنے آگئے۔ یہ وہ مجموعۂ قوانین ہے جس نے تمام چھپی ہوئی حقیقتوں کو اس طرح بیان کر دیا کہ حق و باطل الگ الگ ہوگئے۔ یہ وہ حقائق ہیں جن کا احاطہ انسان کی عقل نہیں کرسکتی تھی۔ قرآن نے اپنے حقائق کو بینا ّت کہا ہے:
’’ وہ رمضان ہی کا مہینہ ہے جس میں (اوّل اوّل) قرآن نازل ہوا، جو لوگوں کا رہنما ہے اور جس میں ہدایت ہے، بیّنات (کھلی ہوئی نشانیاں ) ہیں اور فرقان ہے۔‘‘(البقرہ ۲:۱۸۵)
’مبین‘ اور ’بینّات‘ کے بیان کردہ مفہوم سے بینات کی وضاحت اس کے مروجہ ترجمے، یعنی ’ہدایت کی کھلی ہوئی نشانیاں‘ کی نسبت زیادہ بہتر طور پر ہوجاتی ہے۔ ’فرقان‘ کے لفظ میں بھی مبین کے معنی کسی حد تک موجود ہیں۔ فرقان الگ الگ کردینے والے کو کہتے ہیں۔ یہ وہ کتاب ہے جس نے حق و باطل کو ہمیشہ کے لئے الگ الگ کر دیا۔ اس کے لئے ضروری تھا کہ یہ کتاب’مبین‘ بھی ہوتی۔ اللہ کی وحی ہر دور میں فرقان رہی ہے۔ حضرت موسٰی کے عہد میں ایک طرف فرعون، قارون اور ہامان کی مشترکہ قوتیں باطل کے آستانے پر انسانیت کے سر کو جھکانا چاہتی تھیں، اور دوسری طرف موسٰی کے ذریعے خدا حق کو آشکار کر رہا تھا۔ قرآنِ کریم نے توریت کو بھی فرقان کہا ہے۔ اسی بناپر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وحی الٰہی ہر زمانے میں فرقان رہی ہے۔
    مبین و مصدق: قرآنِ حکیم نے صحف ِ اولیٰ کی بنیادی تعلیمات کو اپنے دامن میں ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا ہے۔ قرآن کی اس خصوصیت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے اسے کتابِ مبین اور مصدق قرار دیا ہے۔ یہ کتاب تورات اور دوسرے صحف کی مصدق ہے:
’’اس (جبریلؑ) نے تو یہ کتاب اللہ کے حکم سے تمہارے دل پر نازل کی ہے، جو پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔‘‘ (البقرہ ۲:۹۷) 
اللہ نے ہمیشہ انسانوں کو فسانہ و فسوں کی بھول بھلیوں سے بچانے کے لئے اپنے انبیاءؑ کے ذریعے وحی کی صورت میں حقائق کے تحفوں سے سرفراز فرمایا ہے۔ انسانوں نے ان حقائق کو   فسانہ و فسوں کے رنگ میں ڈھالنے کی کوشش کی لیکن قرآنِ حکیم نے ان کوششوں کے سلسلے کو ہمیشہ کے لئے ناکام و نامراد بنا دیا اور وہ اس طرح کہ قرآن کے دامن میں صحف ِ اولیٰ کے حقائق بھی جگمگا رہے ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ مرتب ہوتا ہے کہ وہ حقائق جن میں کوئی شک و شبہ نہیں اور جو رہنمائی کرتے ہیں وہ اَبدی ہیں…  وقت اور زمانے سے بلندتر!
مصدّق کے معنی ہیں تصدیق کرنے والا اور سچ کر دکھانے والا۔ سچ کر دکھانے کے لئے قوت ایک بنیادی عنصر کا درجہ رکھتی ہے۔ قرآن نے تعلیماتِ الٰہی اور انسانی زندگی کی بنیادی اقدار کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کے وسیلے سے سچ کر دکھایا۔
قرآن اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے، وہ کتابیں جن میں انسانوں کی مختلف جماعتوں اور اَدوار کے لئے اللہ تعالیٰ کی وحی موجود تھی۔ وحی الٰہی کا مقصد انسانوں کی رہنمائی ہے۔ رہنمائی کا تعلق اعمال سے ہے۔ تمام صحف ِ سماوی اور قرآن میں اچھے اعمال کے لئے بشارت دی گئی ہے اور بُرے اعمال کے نتیجے سے ڈرایا گیا ہے (یہ کام نبی اکرمؐ کے وسیلے سے ہوا، اسی پر حضوؐر کو بشیر و نذیر کہا گیا)۔
    بُشرٰی: قرآن کو اللہ تعالیٰ نے بُشْرٰی یعنی خوش خبری اور بشارت کا نام بھی دیا ہے۔ چنانچہ کہا: ’’اور خوش خبری سنا رہا ہے ایمان والوں کو۔‘‘ (البقرہ ۲:۹۷) قرآن ہمیں بشارت دیتا ہے کہ اچھے اعمال کا نتیجہ دونوں جہانوں کی سرفرازی ہے، ہمیشگی کی زندگی اور جنّت ہے۔ یہ بشارت ہمارے لئے مہمیز اور قوتِ محرکہ کا کام دیتی ہے۔ قرآن کی آیاتِ کریمہ مبشرات ہیں۔ ایسی ہوائیں جو رحمت اور بشارت کے بادلوں کو اپنے دامن میں لئے ہوئے آتی ہیں۔
   نُزولِ بالحق: وہ کتاب جس میں شک و شبہ نہ ہو، جو ایسے حقائق سے عبارت ہو جو ظن و گمان کی اس دنیا میں کبھی نہیں بدلتے، جو دوسری کتابوں کی مصدق ہو، جو حق و باطل کو الگ الگ کرتی ہو، اس کے بارے میں اس کے بھیجنے والے کا یہ کہنا ان خصوصیات کو سمیٹ لینے کے لئے ہے کہ:
’’ اللہ نے یہ کتاب حق کے ساتھ نازل فرمائی ہے۔‘‘(البقرہ ۲:۱۷۶)
حق کے ساتھ نازل کرنے کا منطقی اور لازمی تعلق مصدق کے ساتھ ہے۔ اُسی کتاب کو    ہم حق کہہ سکتے ہیں جس کی تمام تعلیمات وقت کی گردشوں پر غالب آئیں اور جس کے دامن میں وہ ربانی تعلیمات محفوظ ہوں جو ابتدائے کائنات اور آغازِ وحی سے زمانۂ نزولِ قرآن تک انسانی زندگی کی شیرازہ بندی کرتی رہی تھیں:
’’اس نے (اے محمدؐ) آپؐ پر سچی کتاب نازل کی جو پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اسی نے توریت اور انجیل نازل کی۔‘‘ 
(آل عمران ۳:۳)
حق کے سلسلے میں جو کچھ عرض کیا گیا ہے اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حق میں دوعناصر ہیں: (۱) صحت اور (۲) پائیداری، ثبات و دوامِ۔  صحت اور ثبات کے عناصر جس چیز میں ہوں گے، اسے ایک محسوس شکل عطا کردیں گے۔
قرآنی تعلیمات محسوس و مشہود شکل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے رفقاء کی زندگی میں یوں اُبھریں کہ ۱۴۰۰؍ سال گزرنے کے بعد نقشِ پا کی شوخی آج بھی یہ کہہ رہی ہے کہ کوئی ابھی ابھی یہاں سے گزرا ہے۔
 جب حقیقتیں محسوس طور پر سامنے آتی ہیں تو ان کے نتائج بھی ہم مرتب شکل میں دیکھ سکتے ہیں۔ قرآن اس لئے بھی حق ہے کہ اس کی تعلیمات میں صحت و دوام ہے، اور اس لئے بھی کہ اس کی تعلیمات کے یہ پہلو انسانی زندگی میں نتائج کے طور پر مرتب ہوچکے ہیں۔ حق کی لازمی پہچان یہ ہے کہ وہ باطل کے ساتھ سمجھوتا نہیں کرسکتا۔ حق کا مقابل لفظ ’ظن‘ ہے جس طرح اسلام و کفر۔ حق کے سلسلے میں قرآن نے یہ بات بھی واضح کردی ہے کہ نَزَّلَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ ، یعنی  حق (وحی الٰہی) ایک خارجی شے ہے، محض نبیؐ کے ذہن کی پیداوار نہیں۔ خدا اسے نازل کرتا ہے، آدمی کا علم اسے منکشف نہیں کرتا۔ حق کا استحکام و ثبات اسے محفوظ رکھتا ہے۔ اسی لئے اللہ نے اپنی کتاب کو ذکریٰ اور تذکرہ کہا ہے:
’’ (اے محمدؐ) ہم تم کو یہ آیات اور حکمت بھری نصیحتیں (ذکرالحکیم) سناتے ہیں۔‘‘ 
(آل عمران ۳:۵۸)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK