صدارتی انتخابات اور ٹرمپ

Updated: September 16, 2020, 9:00 AM IST | Editorial

ڈونالڈ ٹرمپ دوسروں کو آزمائش میں مبتلا کرتے ہیں، خود نہیں ہوتے۔ اس کیلئے اگر اُنہیں جھوٹ بولنے کی ضرورت پیش آتی ہے

Donald Trump - Pic : INN
ڈونالڈ ٹرمپ ۔ تصویر : آئی این این

 ڈونالڈ ٹرمپ دوسروں کو آزمائش میں مبتلا کرتے ہیں، خود نہیں ہوتے۔ اس کیلئے اگر اُنہیں جھوٹ بولنے کی ضرورت پیش آتی ہے (جو کہ اکثر آتی ہے)تو جھوٹ بولتے ہیں، بار بار جھوٹ بولنا پڑے تو بار بار جھوٹ بولتے ہیں، جھگڑنا پڑے تو جھگڑتے ہیں، اپنوں کو دغا دینا پڑے تو دغا دیتے ہیں اور اگر بُرائی مول لینی پڑے تو یہ بھی کر گزرتے ہیں۔ اُن کی یہ تمام خوبیاں گزشتہ چار سال کے دوران پوری وضاحت و صراحت کے ساتھ منظر عام پر آئیں۔ اس دوران کسی بھی واقعہ پر وہ نہ تو خجل ہوئے نہ ہی اپنے طور طریقے بدلنے پر خود کو آمادہ کیا۔ اب جو صدارتی انتخاب کی رسہ کشی اور ہماہمی شروع ہوئی ہے تو اُن کی ’مقبولیت‘ کم ہوتی جارہی ہے ،اس کے باوجود اُن سے اُمید نہیں کی جاسکتی کہ وہ اس کا نوٹس لیں گے اور اپنے احتساب کی ضرورت محسوس کریں گے۔ 
 امریکی صدارتی انتخاب ایک پیچیدہ عمل ہوتا ہے جو کئی ماہ جاری رہتا ہے۔  اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ الیکشن جتنا قریب ہے اُتنا ہی دور بھی ہے۔ اس پیچیدہ عمل سے گزر کر جو اُمیدوار صدارت کیلئے منتخب کیا جائیگا وہ ۲۰؍ جنوری ۲۰۲۱ءکو اپنے عہدہ کا حلف لے گا۔ انتخابی سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں مگر چونکہ ابھی وقت ہے اس لئے کہا نہیں جاسکتا کہ صدارتی رسہ کشی کتنے نشیب و فراز سے گزرے گی۔ یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ آئندہ مہینوں میں ٹرمپ کی ’مقبولیت‘ میں مزید کمی آئے گی یا اس میں اضافہ ہوگا۔ مگر ایک بات طے ہے کہ اگر ٹرمپ کے ٹویٹ اور بغیر سوچے سمجھے کچھ بھی کہہ دینے کی عادت کا یہی حال رہا جو اب تک تھا تو مقبولیت یقینی طور پر کم ہوگی۔ 
 اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل امریکہ کورونا سے ہونے والی اموات سے حواس باختہ ہیں۔ اُنہیں محسوس ہورہا ہے کہ ٹرمپ کو اس وباء کے بارے میں بہت کچھ معلوم تھا مگر انہوں نے اپنے عوام سے اسے چھپایا۔ اہل امریکہ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ اُن کے صدر نے سیاہ فاموں کے احساسات اور جذبات کو سمجھنے کی بجائے اُن کے جائز اور جمہوری احتجاج کو طاقت کے استعمال کے ذریعہ دبانے کی کوشش کی۔ ضرورت تھی سیاہ فاموں کو اعتماد میں لینے کی مگر انہوں نے اس کی فکر نہیں کی۔ امریکی رائے دہندگان اس حقیقت کا بھی مشاہدہ کررہے ہیں کہ معیشت دگرگوں ہے اور بے روزگاری کا سایہ دراز ہوتا جارہا ہے۔ بے روزگاری بھتے کیلئے عرضی داخل کرنے والوں کی تعداد کم نہیں بلکہ ۴۰؍ ملین سے زیادہ ہے۔ امریکی شہریوں کو یہ احساس بھی یقیناً ہوگا کہ ٹرمپ کے اقتدار میں نسلی بنیادوں پر ظلم و جبر میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے امریکی سماج میںکافی بے چینی پائی جارہی ہے۔ مسلسل احتجاج سے بھی لوگ فکرمند ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ عوام میں کتنے ہیں جو سماج کو بانٹنے والی طاقتوں کے ہمنوا ہیں مگر ایک بڑا طبقہ بہرحال ایسا نظر آتا ہے جو اُن کے انتظامیہ کی جانبداری، ہٹ دھرمی اور اس کی وجہ سے سماجی تانے بانے کو لاحق خطرات کو شدت کےساتھ محسوس کررہا ہے۔ اس طبقے کے جتنے بھی لوگوں نے ۲۰۱۶ء میں ٹرمپ کو نوازا تھا، اُن کا ذہن بدل رہا ہے۔ ’’ملٹری ٹائمس‘‘ کے ایک جائزہ میں فوجیوں کی اچھی خاصی تعداد ٹرمپ سے بدظن ہے جبکہ ان میں کئی ایسے تھے جنہوں نے ۲۰۱۶ء میں اُن کی حمایت کی تھی۔ ان میں ۴۱؍ فیصد کا کہنا ہے کہ اگر آج الیکشن ہوئے تو وہ جو بڈن کو ووٹ دیں گے جبکہ ۳۷؍ فیصد ٹرمپ کے حق میں ہیں۔ نیشنل گیلپ سروے میں ۵۵؍ فیصد ٹرمپ سے نالاں دکھائی دیئے جبکہ ۴۲؍ فیصد ان کی کی کارگزاری سے مطمئن پائے گئے۔
 یہ اطلاعات شاہدہیں کہ ٹرمپ کے مقابلہ میں جو بڈن مقبولیت میں آگے ہیں مگر یہ، طویل انتخابی عمل کا ابتدائی دور ہے، اسلئے وثوق سے کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ البتہ یہ اُمید ضرور کی جاسکتی ہے کہ یہی رجحان آگے بھی قائم رہے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK