پیداواری اضافہ اور مہنگائی

Updated: January 07, 2022, 9:12 AM IST | Mumbai

ملک میں پیداوار اب سے بیس سال، پچاس سال یا سو سال کے مقابلے میں بڑھی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس مختصر یا طویل دورانیہ میں آبادی بھی بڑھی ہے مگر اشیاء کی افراط بتاتی ہے کہ آبادی میں اضافے کے باوجود پیداوار، انسانی و حیوانی زندگی کی ضرورت سے زیادہ ہی ہے، کم نہیں ہے

Production in the country has increased over twenty years, fifty years or a hundred years from now.
ملک میں پیداوار اب سے بیس سال، پچاس سال یا سو سال کے مقابلے میں بڑھی ہے۔

ملک میں پیداوار اب سے بیس سال، پچاس سال یا سو سال کے مقابلے میں بڑھی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس مختصر یا طویل دورانیہ میں آبادی بھی بڑھی ہے مگر اشیاء کی افراط بتاتی ہے کہ آبادی میں اضافے کے باوجود پیداوار، انسانی و حیوانی زندگی کی ضرورت سے زیادہ ہی ہے، کم نہیں ہے۔ اس پیداواری اضافے کا ایک بڑا سبب وہ سائنسی طریقے ہیں جن کی وجہ سے فوڈ انڈسٹری گویا جادو اُگل رہی ہے۔ آج کسی شے کیلئے آپ کو انتظار کرنا پڑتا ہے نہ زحمت اُٹھانی پڑتی ہے، موبائل اور انٹرنیٹ کے ذریعہ گھر بیٹھے ہر چیز آپ تک پہنچ جاتی ہے یا پہنچ سکتی ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ جتنی تعداد اور مقدار میں طلب کی جائے اُتنی تعداد اور مقدار میں حاصل ہوجاتی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اشیائے خوردنی کی کمی نہیں ہے۔ اس کے باوجود ان کی قیمتیں کبھی کم نہیں ہوتیں، بڑھتی ہی رہتی ہیں۔ پیداوار بڑھی اور آبادی بھی بڑھی، اس کے باوجود اشیاء کی فراوانی ہے البتہ قیمتیں کم نہیں ہوتیں۔ اس کے کئی اسباب ہیں۔ اشیاء کی حفاظت کا مکمل اور مؤثر نظم نہ ہونا (سرکاری گوداموں میں اناج کا اتلاف اکثر خبروں میں رہتا ہے)، نقل و حمل کے ذرائع کا ناقص ہونا (جس کے سبب اشیاء کے کچھ حصے کا اتلاف ہوتا ہے)، ذخیرہ اندوزی کا طاقتور رجحان (جس کے خلاف قوانین اور ضابطے موجود ہیں مگر غیر مؤثر ثابت ہوتے ہیں)، بڑے تجارتی گھرانوں کا اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ پیداوار کے بڑے حصے پر قابض ہوجانا (جو حالیہ برسو ںمیں محض چند کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے) اور منافع خوری کا رجحان جو عادت میں تبدیل ہوکر ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتا رہتا ہے۔ 
 گزشتہ چار سال کے اعدادوشمار پر نگاہ دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ افراط زر میں تسلسل کے ساتھ اضافہ ہوا یعنی مہنگائی بڑھی ہے۔ ۲۰۱۷ء میں افراط زر ۳ء۳۳؍ فیصد تھا، ۲۰۱۸ء میں ۳ء۹۵؍ فیصد ہوا، ۲۰۱۹ء میں معمولی سی تخفیف کے ساتھ ۳ء۷۲؍ فیصد ہوا اور ۲۰۲۰ء میں غیر معمولی طور پر بڑھ کر ۶ء۶۲؍ فیصد ہوگیا۔ صارفیت کے رجحان نے بھی پیداواری اضافے کو مہنگائی میں کمی کا سبب بننے سے روکا۔ وہ اس طرح کہ بالخصوص زرعی پیداوار کو الگ الگ پروڈکٹس میں تبدیل کرکے ان کی قدر بڑھائی چنانچہ جو اشیاء پیداوار کے بڑھنے کی وجہ سے سستی ہوسکتی تھیں، دیگر پروڈکٹس کی تیاری کیلئے اُن کی مانگ بڑھ گئی اور مہنگائی کم نہیں ہوسکی۔ آج آپ مارکیٹ کا جائزہ لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ کل تک جس دکان میں پچاس یا پچہتر اشیاء ذخیرہ کی جاتی تھیں اب وہاں دو سو تین سو اشیاء ہیں کیونکہ (مثال کے طور پر) بسکٹ کی درجنوں اقسام، اوٹ تیار کرنے والی درجنوں کمپنیاں، پھلوں کے رس، سبزیوں سے بننے والی اشیاء وغیرہ، آپ دیکھتے دیکھتے اور ہم لکھتے لکھتے تھک جائینگے اور اشیاء کی فہرست مکمل نہیں ہوسکے گی۔
 جب بڑی کمپنیاں مارکیٹ میں دھوم دھڑکے سے سرگرم نہیں تھیں، تب کسی شے کی اچھی پیداوار کے بعد اس کی قیمت کم ہوجاتی تھی مگر اب بڑی کمپنیاں قیمت کو یا تو پہلے جیسا رکھتی ہیں یا شے میں کسی قدر کا اضافہ کرکے قیمت بڑھا دیتی ہیں۔ قیمت کم کرنا اُن کے چارٹر آف پلان کا حصہ نہیں ہوتا۔ وہ قیمت کو اپنے اختیار میں رکھتی ہیں اور مارکیٹ کے اختیار میں نہیں جانے دیتیں۔ مہنگائی یا افراط زر کم ہوسکتا ہے اگر مذکورہ بالا محرکات کا مخلصانہ جائزہ لیا جائے اور ہر اُس رجحان کو عوامی مفاد میں روکا جائے جس سے قیمتیں بڑھتی ہیں۔ کیا کبھی ایسا ہوگا؟ یہ اہم سوال ہے۔  n

inflation Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK