تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غیر رسمی سطح پر قرض دینے والے نیٹ ورکس کی ترقی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس سے خاندانوں پر زیادہ شرحِ سود والے قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا ہے اور وہ مالی طور پر مزید کمزور ہوگئے ہیں۔
EPAPER
Updated: February 17, 2026, 10:17 PM IST | Buenos Aires
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غیر رسمی سطح پر قرض دینے والے نیٹ ورکس کی ترقی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس سے خاندانوں پر زیادہ شرحِ سود والے قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا ہے اور وہ مالی طور پر مزید کمزور ہوگئے ہیں۔
لاطینی ملک ارجنٹائنا میں معاشی دباؤ اور شدید مہنگائی کے باعث شہری خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، شہری بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے کریڈٹ کارڈز کا استعمال کر رہے ہیں یا اپنا ذاتی سامان فروخت کررہے ہیں۔ ارجنٹائنی حکومت کی جانب سے معیشت کی بحالی کے دعوے کئے جارہے ہیں لیکن عام شہریوں کی مشکلات میں کمی نہیں آئی ہے۔
مقامی تحقیقی گروپس کے حالیہ اعدادوشمار کے مطابق، ملک کی تقریباً نصف آبادی روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے کے لئے اپنی بچت پر انحصار کر رہی ہے، بینکوں یا رشتہ داروں سے ادھار لے رہی ہے یا اپنے اثاثے بیچ رہی ہے۔ ایک دیگر سروے میں پایا گیا کہ ۶۳ فیصد شہریوں نے گزر بسر کے لئے اپنی خدمات اور سرگرمیوں میں کٹوتی کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پاکستان: ۱۴؍کرکٹ لیجنڈز کا عمران خان کی صحت پر خط، گواسکر اور کپل دیو بھی شامل
ماہرینِ اقتصادیات اور ماہرینِ عمرانیات نے خبردار کیا کہ جو ادھار کبھی کبھار لیا جاتا تھا، اب وہ مستقل ڈھانچے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اب گھر یا گاڑی جیسی طویل مدتی سرمایہ کاری کے بجائے اشیائے خورونوش اور یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی کے لئے قرض لیا جارہا ہے۔ سپر مارکیٹ سے خریداری کے لئے کریڈٹ کارڈ کا استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، تقریباً نصف خریداروں نے ایشیائے خوردونوش کی خریداری کیلئے کریڈٹ کارڈ کا سہارا لیا۔
ان حالات کے درمیان، قرضوں کی عدم ادائیگی کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ تقریباً ۱۱ فیصد ذاتی قرضے اس وقت ادا نہیں کئے گئے ہیں۔ یہ ۲۰۱۰ء میں ارجنٹائنی مرکزی بینک کی جانب سے ڈیٹا ٹریکنگ شروع کرنے کے بعد سے بلند ترین سطح ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غیر رسمی سطح پر قرض دینے والے نیٹ ورکس کی ترقی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس سے خاندانوں پر زیادہ شرحِ سود والے قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا ہے اور وہ مالی طور پر مزید کمزور ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران مذاکرات میں بالواسطہ طور پر شامل ہوں گے
زمینی حقیقت، حکومت کے دعوؤں کے برعکس
صدر ہاویئر مائیلی کی انتظامیہ کا موقف ہے کہ اس کے زیر اہتمام کفایت شعاری کے پروگرام نے معیشت کو مستحکم کیا ہے، ۲۰۲۳ء کے آخر میں ہونے والی ریکارڈ مہنگائی کو نمایاں طور پر کم کیا ہے اور مالیاتی توازن بحال کیا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ۲۰۲۶ء اور ۲۰۲۷ء میں ۴ فیصد معاشی ترقی کی پیش گوئی کی ہے۔
تاہم، ناقدین کا ماننا ہے کہ یہ بحالی غیر مساوی رہی ہے۔ ان کے مطابق، بینکنگ اور زراعت جیسے شعبوں میں ترقی دیکھنے ملی لیکن مینوفیکچرنگ اور تجارت کو شدید مندی کا سامنا ہے اور طلب میں کمی کے باعث فیکٹریاں اور چھوٹے کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ آزاد خوردہ فروشوں نے اشیائے خورونوش کی کھپت میں ۵ء۱۲ فیصد کمی کی اطلاع دی ہے۔ سرکاری مہنگائی کی شرح سست ہونے کے باوجو اجرتوں میں اضافہ، بجلی اور ایندھن جیسے اہم شعبوں میں قیمتوں کے اضافے سے پیچھے رہا ہے۔ ماہرین نے سوال کیا کہ آیا قیمتوں کے اضافے کا حساب لگانے کے لئے استعمال ہونے والا `انفلیشن باسکٹ` موجودہ اخراجات کے رجحانات کی صحیح عکاسی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: رفح کراسنگ: اسرائیلی پابندیاں، ۲۰؍ ہزار سے زائد فلسطینی مریض امداد کے منتظر
محققین کا کہنا ہے کہ معاشی دباؤ نے سماجی عدم مساوات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ معاشرے کے کچھ حصوں میں جائیداد اور گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ دیگر گھرانوں کے خوراک اور ادویات جیسی ضروری اشیاء پر اخراجات میں کمی آئی ہے۔ انتظامیہ گھریلو قرضوں کو یکجا کرنے اور ادائیگی کی کم شرحیں پیش کرنے کی پالیسیوں پر غور کررہی ہے، لیکن تجزیہ کاروں کا اصرار ہے کہ جب تک اجرتیں زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے مطابق نہیں ہوگی، بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لئے ادھار لینے کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔