ملکی سطح پر احتجاج، عالمی سطح پر بدنامی

Updated: January 26, 2020, 12:13 PM IST | Aasim Jalal | Mumbai

شہریت ایکٹ کے خلاف مظاہروں میں کمی آئی ہے نہ حکومت کے موقف میں تبدیلی، جواں ہمت مظاہرین بضد ہیں کہ تب تک پیچھے نہیں ہٹیں گے جب تک حکومت اسے واپس نہیں لیتی اور این پی آر نیز این آر سی سے توبہ کا اعلان نہیں کردیتی دوسری طرف وزیر داخلہ آمرانہ انداز میں ’ڈنکے کی چوٹ پر‘ اعلان کررہے ہیں

ملکی سطح پر احتجاج، عالمی سطح پر بدنامی
شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کیخلاف احتجاج جاری ہے

 شہریت ترمیمی ایکٹ کے  خلاف ملک  بھر میں  جاری  مظاہروں کی جانب مودی سرکار  بھلے ہی تو جہ دینے کو تیار نہ ہو مگر بین الاقوامی برادری  ضروراس کی طرف متوجہ ہو گئی  ہے۔ ڈیڑھ ماہ سے جاری یہ مظاہرے  تاریخی اہمیت کے حامل ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں  ایسے مظاہرے اس سے قبل کبھی نہیں ہوئے تھےت، تو یہ قطعی غلط نہ ہوگا۔ عالم یہ ہے کہ ملک کی شاید ہی کوئی ریاست اور علاقہ ایسا ہو، جہاں اس کے خلاف مظاہرے نہ ہو رہے ہوں۔ اتر پردیش میں وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے انسانیت کی تمام حدیں پار کر دیں۔ مظاہروں کو آہنی ہاتھوں سے کچلنے کی کوشش کی گئی۔ مظاہرین پر اندھادھند گولیاں  برسائی گئیں اور قتل کرنے کیلئے برسائی گئیں۔ ۲۳؍ سے  زائد افراد  جاں بحق ہوئے،  ہزاروں کو  جیلوں میں ڈال دیا گیا اور پھر ’’انتقام ‘‘کے نام پرسرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کرکے لاکھوں روپے کی ادائیگی  کے نوٹس دیئے گئے۔ بس اتنے ہی پر اکتفا نہیں کیاگیا بلکہ جن لوگوں  نے اپنےجمہوری حق کیلئے آواز بلند کرنے کی جرأت کی تھی، ان  تمام کے پوسٹر چوراہوں پر اس طرح چسپاں کئےگئے جیسے وہ عادی مجرم ہوں  ۔ 
 خوف کا  ایسا  ماحول بنایاگیا ،جس سے یہ محسوس ہونے لگا کہ اب اترپردیش میں کوئی  چوں  کرنے کی بھی جرأت  نہ کرپائے گا۔ مگر لوگوں کو خوفزدہ کرنے  کے ہتھ کنڈے کامیاب نہیں ہوئے۔ اتر پردیش چند ایک دنوں  ہی میں خوف کے  اس سائے سے نہ صرف باہر آیا بلکہ  پہلے سے زیادہ عزم اور حوصلے کے ساتھ یہاں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ مظاہروں کی کمان اب خواتین نے سنبھال لی ہے جن  میں وہ لوگ بھی شامل ہورہے ہیں جو محض مظاہرے میں شرکت کرنے کی بنا پر یا شہریت ترمیمی ایکٹ  کے خلاف آواز بلند کرنے کی پاداش میں ایک ایک مہینے تک جیل میں رہ کر  آئے ہیں۔شکست تسلیم نہ کرنے کے جس جذبے  کے تحت دہلی کے شاہین باغ میں مظاہرے کا آغاز ہواتھا، وہ جذبہ   اب  ملک کے ہر شہر اور ہر قصبے میں نظر آرہا ہے۔
  شہریت ترمیمی ایکٹ کے ذریعہ حکومت جو حاصل کرنا چاہتی ہے وہ حاصل کرپائے گی یا نہیں  یہ بحث تو بعد کی ہے ، فوری طور پر اس قانون کی منظوری کا سب سے بڑا فائدہ  عوام کو یہ ہوا ہے کہ اس  نےان کے دلوں  سے  اس خوف کو ختم کردیا ہے جس خوف کی وجہ سے گزشتہ ۶؍ برسوں سے لوگ گھٹن محسوس کر رہے تھے۔ 
 مظاہروں کے اس سلسلے  نے ایک نئی صبح کی امید مزیدمستحکم کر دی ہے۔  وزیر داخلہ کبھی یہ  اعلان کرتے ہیں کہ ان کی حکومت ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گی تو کبھی آمرانہ طرز تخاطب کا استعمال کرتے ہوئے کہتے ہیں جن کو احتجاج کرنا ہو کریں، شہریت ترمیمی ایکٹ  واپس نہیں لیا جائے گا۔ ان کے بیانات ہی اس بات کا مظہر ہیں کہ حکومت ان مظاہروں سے پریشان ہے۔ حکومت کی سب سے بڑی ناکامی یہی ہے کہ پارلیمنٹ سے پاس کئے گئے کسی قانون کی حمایت میں   ریلیاں کرنی پڑ رہی ہیں اور مرکزی وزراء کو  ان سے خطاب کرنا پڑرہا ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ شہریت ترمیمی ایکٹ حکومت کے گلے میں ’سانپ کے منہ میں چھچھوندر‘   کے مصداق پھنس گیا ہے۔اسے واپس لینے کی صورت میں وہ ان سخت گیر ووٹروں  کے سامنے نکو نہیں بننا چاہتی جن کے ووٹ ہی اس کی بنیاد ہیں جبکہ نہ لینے کی وجہ سے مظاہرے حکومت کو جس بے چینی میں مبتلا کئے ہوئے ہیں  وہ وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں کو جو اس کا سامنا کررہے ہیں۔  پہلے طلاق ثلاثہ  پھر جموںکشمیر کی تقسیم اور اس کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ ،اس کے بعد بابری مسجد  کے مقدمے  کے فیصلے کے وقت وطن عزیز میں جس خاموشی اور برداشت کا مظاہرہ کیاگیا اس نے حکومت کو شاید اس خام خیالی میں مبتلا کردیاتھا کہ  اس نے ایسے حالات پیدا کردیئے ہیں کہ گاندھی، نہرو اور آزاد کی اس سرزمین کے واسی حکومت کے کسی بھی فیصلے پر چوں  کرنے کی جرأت نہیں کرپائیں گے۔     
  ملک بھر میں ہونے والے یہ مظاہرے اور خاص طور سے ’’شاہین باغ ‘‘کے طرز پر جگہ جگہ خواتین کے ستیہ گرہ اس لحاظ سے بھی غیرمعمولی کامیابی سے ہمکنار ہوچکے ہیں کہ انہوں  نے پوری دنیا کی توجہ اس قانون اور مودی سرکار کے مستقبل کے منصوبوں کی جانب مبذول کرادی ہے۔  وہ بین الاقوامی میڈیا جس نے ۲۰۱۴ء میں وزیراعظم مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ان سے غیر معمولی امیدیں باندھ لی تھیںاور جو یہ سوچ رہاتھا کہ ۲۰۰۲ء  کے گجرات فسادات کے اپنے پس منظر کو بھلا کر وزیراعظم مودی ہندوستان کو آگے لے جانے کی سنجیدہ کوشش کریں گے، اب ان سے ناامید ہوتا نظرآرہاہے۔
  ۲۰۱۹ء کے پارلیمانی الیکشن سے قبل ٹائم میگزین کا ’’ڈیوائیڈر اِن چیف‘‘ کے سرورق  والے شمارے سے لے کر’ دی اکنامسٹ‘ کے تازہ شمارے تک منظر نامہ تیزی سے تبدیل ہوا ہے۔ مودی کی حمایت میں  جن  بین الاقوامی میڈیا کے مضامین پرحکومت اوراس کے حامی بغلیں  بجاتے نہیں تھکتے تھے وہی میڈیا ہاؤس اب  انہیں  ناقابل اعتبار نظر آنے لگے ہیں۔ ’دی اکنامسٹ‘ نے ہندوستانی جمہوریت کے تعلق سے جن تشویشات کااظہار کیا ہے وہ بے جا نہیں ہیں۔’’عدم تحمل کا شکار ہندوستان‘‘ کے عنوان سے شائع سرورق کے ساتھ دی اکنامسٹ  کا تازہ شمارہ   اوراس کے بعد  امریکی سرمایہ کار جارج سوروس کا انتباہ  حکومت ہند کیلئے آئینہ کے مترادف ہے۔ اپنے پہلے دور اقتدار میں مودی نے عالمی لیڈر کے طور پر اپنی جو شبیہ بنائی تھی، وہ تو تار تار ہوہی چکی ہے،  ہندوستان کی بھی عالمی سطح پر شدید بدنامی ہورہی ہے اور گاندھی اور آزاد کا یہ دیس ایک ایسا دیس بن کر ابھرا ہے جہاں اختلاف رائے کی کوئی گنجائش نہیں بچی۔  مودی کی دوسری میعاد میں جس میں وزارت داخلہ امیت شاہ کو سونپی گئی ہے، ہندوستان کی شبیہ جس طرح داغدار ہورہی ہے وہ لمحہ ٔ فکریہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK