عوامی تعلیم و صحت سے سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا

Updated: April 25, 2021, 1:30 AM IST | Mumbai

گجرات کا ترقیاتی ماڈل سب کے سامنے ہے مگر زمینی حقائق بھی کسی سے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ترقیاتی ماڈل سے ترقی نہیں ہوتی، عوامی اخراجات سے ہوتی ہے جن میں اولین ضرورت تعلیم اور صحت ہے

Before the parliamentary elections, two of the country`s leading economists had to fight on a public platform.Picture:Midday
پارلیمانی الیکشن ۲۰۱۴ء سے پہلے ملک کے دومشہور ماہرین معاشیات عوامی پلیٹ فارم پر لڑ پڑے تھے۔ تصویر مڈڈے

پارلیمانی الیکشن ۲۰۱۴ء سے پہلے ملک کے دومشہور ماہرین معاشیات عوامی پلیٹ فارم پر لڑ پڑے تھے۔ چونکہ وہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں اس لئے اُن کا انداز گفتگو شائستہ تھا مگر اُن کے درمیان پایا جانے والا اختلاف رائے معمولی نہیں تھا۔ موضوع تھا گجرات ماڈل۔ جگدیش بھگوتی،نریندر مودی کے ہمنوا تھے جبکہ امرتیہ سین کا نقطۂ نظر اس کے برخلاف تھا۔ اجمالاً کہا جاسکتا ہے کہ بھگوتی (اور مودی) کا نقطۂ نظر معاشی ترقی کو اولیت دینا تھا نہ کہ عوامی فلاح کو۔ امرتیہ سین کا کہنا تھا کہ عوامی فلاح کو بنیاد نہیں بنایا جائیگا اور عوام کیلئے خرچ نہیں کیا جائیگا تو معاشی ترقی بھی ممکن نہیں ہوگی۔
 گفتگو میں امرتیہ سین نے کھلے تجارتی ماحول کی مخالفت نہیں کی۔ ان کو تشویش اس بات پر تھی کہ حکومت نے جو کیا وہ ٹھیک نہیں ہے۔ بھگوتی نے عوامی فلاح کیلئے ہونے والے اخراجات کی مخالفت نہیں کی مگر اُن کا اصرار اس بات پر تھا کہ حکومت کو کیا نہیں کرنا چاہئے۔ ان دونوں صاحبان نے جو بحث کی اُسے مضبوط دلیلوں پر استوار رکھا۔ گفتگومنطقی تھی جذباتی نہیں، لیکن امرتیہ سین کے پاس ایک سوال ایسا تھا جس کا جواب سوائے خاموشی کے کچھ اور نہیں تھا۔ وہ یہ کہ ’’کیا آپ کسی ایسے ملک کا نام بتا سکتے ہیں جس نے عوام کی تعلیم اور صحت پر خرچ کئے بغیر ترقی کرلی؟‘‘ اس کا جواب نفی میں ہے۔ روئے زمین پر کوئی ایسا ملک نہیں ہے جس نے تعلیم اور صحت پر خرچ کئے بغیر قابل ذکر ترقی کی ہو۔ عوامی مفاد کے وہ اخراجات جو سرکار کرتی ہے انہی سے ملکی معیشت ترقی پاتی ہے۔ معاملہ اس کے برخلاف نہیں ہے۔ کسی ملک کی آبادی بہت تعلیم یافتہ نہ ہو اور اچھی صحت کی حامل نہ ہو تو اس ملک کی ترقی کا سارا بوجھ صنعتکار تنہا نہیں اُٹھا سکتے۔ ملک اور اس کی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ان دو شعبوں یعنی تعلیم اور صحت کی پیش رفت کو یقینی بنانا۔ گجرات ماڈل کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ حکومت صنعتکاروں کو ہر ممکن تعاون دے، انہیں سبسیڈی اور مراعات دے، تجارت اور کاروبار کو متعدد بندھنوں سے آزاد کرے (ایز آف ڈوئنگ بزنس)، ورکرس یونین سے نجات دلائے اور وائبرنٹ گجرات میلوں کا انعقاد کرے۔ گجرات ماڈل کی منطق کے مطابق، اگر یہ سب ایک عرصے تک جاری رہا تو اس کے فوائد سے عوام مستفید ہوں گے کیونکہ وہ تجارت و معیشت ہی ہے جس سےمعیشت مضبوط اور مستحکم ہوتی ہے۔
 سین ماڈل کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ صحتمند اور تعلیم یافتہ آبادی اپنے آپ میں قابل قدر بھی ہوتی ہے او رمعاشی ترقی کو مہمیز بھی کرتی ہے۔ اس سے معاشی خوشحالی بھی آتی ہے۔ اگر حکومت کے پاس بہت زیادہ وسائل نہ ہوں تب بھی وہ اپنے عوام کو تعلیم یافتہ اور اچھی صحت کا حامل بناسکتی ہے۔ اس کی مثال کیوبا کی ہے۔ دُنیا کے کسی  ترقی یافتہ ملک کے عوام کے پاس تیسری دُنیا کے عوام جیسی تعلیم اور صحت نہیں ہے۔ اسی باعث حکومت کو ملک میں بہت مضبوط نظام ِ تعلیم قائم کرنا چاہئے اور اتنا ہی مضبوط نظام ِ صحت۔ اس کیلئے حکومت کو اپنے وسائل کو نہایت مؤثر طریقے سے بروئے کار لانا چاہئے۔ 
 امرتیہ سین منریگا اور حق ِغذا جیسی اسکیموں کی حمایت کرتے ہیں۔ مودی نے منریگا کی مخالفت کی تھی اور اسے ’’ناکامی کی یادگار‘‘ قرار دیا تھا۔ اس ہفتے کانگریس پارٹی نے کہا کہ بی جے پی کے اقتدار کے ۲۵؍ سال اور مودی کے اقتدار کے ۱۲؍ سال میں گجرات نے ایک بھی نیا سرکاری اسپتال قائم نہیں کیا۔ بی جے پی نے اس دعوے کی تردید نہیں کی کیونکہ یہ ایسی حقیقت ہے کہ جھٹلانا چاہتے بھی تو بی جے پی کے لوگ کیسے جھٹلا پاتے؟ بے شک وائبرنٹ گجرات کے نام سے چوٹی کانفرنسیں کی جاتی ہیں مگر یہ بات دریافت طلب ہے کہ ان کانفرنسوں کا کیا فائدہ ہوا؟ اس میں شک نہیں کہ مٹھی بھر گجراتی مالامال ہوگئے۔ ان کی آمدنی ۲۰۲۰ء میں بھی تین گنا بڑھی جبکہ اس سال کے دوران ملک کے بہت سے لوگوں کی آمدنی متاثر ہوئی۔ گجراتیوں میں بھی سب کو معاشی ترقی کا فائدہ نہیں ملا (سوائے مٹھی بھر لوگوں کے)۔ گجرات ماڈل کے سائے میں جو صنعتیں قائم ہوئیں انہوں نے زیادہ لوگوں کو ملازمتیں نہیں دیں۔ یہی وجہ تھی کہ گجرات کی ایک ممتاز برادری (پاٹی دار) ملازمتوں میں ریزرویشن کیلئے سڑکوں پر اُتری۔
 گجرات ماڈل کے لئے گجرات کی آبادی کو جو قربانیاں دینی پڑیں وہ معمولی نہیں ہیں۔ اسی لئے گجرات، ہیومن انڈیکس پر بہت پیچھے تھا جس کے پیش نظر ۲۰۱۲ء میں مودی نے وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ ان کی ریاست میں تغذیہ کی کمی اسلئے  ہے کہ گجرات کی لڑکیاں ’’فیشن زدہ‘‘ ہیں اور دودھ پینا نہیں چاہتیں۔ 
 اِس توہین اور لاعلمی کی قیمت اب پورے ملک کو چکانی پڑ رہی ہے۔ امرتیہ سین ماڈل صرف سرکاری اخراجات سے متعلق نہیں ہے بلکہ اس بات سے بھی ہے کہ حکومت کی توجہ کا مرکز کیا ہو۔ بنیادی  کاموں پر توجہ نہ ہونے ہی کا نتیجہ ہے کہ اس وقت ہمارے ملک میں وباء سے مقابلے کی صلاحیت بہت کم ہے۔ ہمارے پا س نہ تو اسپتالوں میں بستر ہیں نہ آکسیجن۔ گجرات ماڈل کے تحت سمجھا گیا تھا کہ پرائیویٹ سیکٹر صحت عامہ کی بھی فکر کرے گا مگر دُنیا ایسا نہیں سوچتی اور ایسا نہیں کرتی۔
 محولہ بالا گفتگو میں حصہ لینے والے بھگوتی کو غلط کہنا ضروری نہیں کیونکہ وہ غلط ہی تھے۔ صحت عامہ سے بے توجہی  کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ وبائی اُمور میں حکومت کی مداخلت اتنی کمزور ہے کہ اگر اُسی کو سب کچھ کرنا ہو تو عوامی صحت کی حفاظت کے معاملے میں اس کی جانب سے بڑی مایوسی ہو۔ بنگال ریلیوں کو روکنے کے بعد مودی عوامی نگاہوں سے دور دور رہے کیونکہ اروند کیجریوال کئی ایسی باتیں منظر عام پر لے آئے جو پروٹوکول کیخلاف تو نہیں تھیں مگر حکومت کیلئے پریشان کن تھیں۔ تعجب ہے کہ اس بحران میں ہم راہِ فرار اختیار کررہے ہیں کیونکہ عوامی فلاح کے بنیادی تقاضے پورے نہیں ہورہے ہیں۔ اسی لئے بھگوتی اور سین کے مباحثے پر ازسرنو غوروخوض اور تبادلۂ خیال کی ضرورت ہے۔n

education Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK