بےمقصدزندگی بے روح جسم جیسی ہے یا اُس قافلہ جیسی جس کی کوئی منزل نہ ہو

Updated: October 09, 2020, 12:33 PM IST | Zainab Wasah

گزشتہ ہفتے (صفحہ ۱۰؍پر) شائع ہونے والے مضمون ’’نیک اعمال ہی آخرت کی کرنسی ہیں، ہماری تمام تگ و دَو اسی کیلئے ہونی چاہئے‘‘ کا دوسرا اور آخری حصہ

Mosque - Pic : INN
مسجد ۔ تصویر : آئی این این

 قرآن  میں اللہ تعالیٰ ہم سے سوال کرتا ہے: ’’سو کیا تم نے یہ خیال کر لیا تھا کہ ہم نے تمہیں بے کار (و بے مقصد) پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے؟ پس اللہ جو بادشاہِ حقیقی ہے بلند و  برتر ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، بزرگی اور عزت والے عرش کا (وہی) مالک ہے۔‘‘  (المومنون: ۱۱۵۔۱۱۶)
 یاد رہنا چاہئے کہ بے مقصدزندگی  اس  جسم کی مانند ہے جس میں روح نہ ہو یا اس قافلہ جیسی جس کی کوئی منزل نہ ہو۔ لیکن اللہ نے تو ہمیں بھٹکنے کے لئے پیدا نہیں کیا۔ ہماری زندگیاں ایک خوبصورت معنی خیزمقصد کی حامل ہیں جو ایک مرتبہ واضح ہوگئی تو بہت  ساری الجھنیں دور ہوجاتی ہیں۔
  اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں بارہا ذکر کرتا ہے کہ اس کی کوئی بھی مخلوق بے مقصد پیدا نہیں کی گئی: 
 ’’اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل تماشے کے طور پر (بے کار) نہیں بنایا، اگر ہم کوئی کھیل تماشا اختیار کرنا چاہتے  تو اسے اپنی ہی طرف سے اختیار کر لیتے اگر ہم (ایسا) کرنے والے ہوتے۔‘‘ (الانبیاء: ۱۶۔۱۷) یہی مضمون  سورہ حجر :۸۵۔۸۶، سورۂ یونس:۵؍ اور سورہ دخان:۳۸۔۳۹؍ میں بھی بیان ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ ہمارے ارد گرد جو کچھ ہے سب ایک نہایت گہرا اور پاکیزہ مقصد کا حامل ہے: ’’اور ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور اس (مخلوقات) کو جو ان کے درمیان ہے پیدا نہیں کیا مگر حکمت اور مقررہ مدّت (کے تعیّن) کے ساتھ، اور جنہوں نے کفر کیا ہے انہیں جس چیز سے ڈرایا گیا اسی سے رُوگردانی کرنے والے ہیں۔‘‘  (الاحقاف:۳)
 پس، وہ مقصد کیا ہے اور انسانی زندگی پر کیسے اثرات چھوڑتا ہے؟
  اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ’’ جس نے موت اور زندگی کو (اِس لئے) پیدا فرمایا کہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے لحاظ سے بہتر ہے، اور وہ غالب ہے بڑا بخشنے والا ہے۔‘‘  (الملک:  ۲) ہم اس دنیا میں اسلئے آئے ہیں تاکہ  آزمائے جائیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ اس دنیا میں آنے سے پہلے ہم نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ وہی ہمارا رب ہے۔ لہٰذا اللہ ہمیں آزما کر دیکھتے ہیں کہ ہم کس حد تک اپنے رب کے وفادار ہیں؟ پھر ہماری وفاداری کے بدلے میں بطور انعام ہمیں جنت ملے گی۔ یہ دراصل ایک سودا ہے:  دنیا کی فانی زندگی اللہ کی مرضی کے مطابق، پھر آخرت کی ہمیشگی کی زندگی ہماری مرضی کے مطابق۔
 اب امتحان میں کامیابی کی کیا صورت ہے؟
  انفرادی سطح پر کامیابی اللہ کی عبادت سے حاصل ہوگی۔ اللہ کا ارشاد ہے: ’’اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں۔‘‘ (الذاریات:۵۶) مگر اللہ کی عبادت کس چیز کو کہتے ہیں؟
 حقیقت یہ ہے کہ مسلمان کا ہر کام عبادت ہے، بشرطیکہ وہ اللہ کی خوشنودی کے لئے اور اس کے پسندیدہ طریقے کے مطابق ہو۔ بلاشبہ جو روحانی عبادات اللہ نے ہم پر فرض کی ہیں وہ نہایت اہم پیغامات اور یاددہانیوں کی حامل ہیں اور ان کی ادائیگی ہم پر لازم ہے۔ البتہ اس کے علاوہ اگر ایک مسلمان دیانتداری کے ساتھ اللہ کے احکام پر چلتے ہوئے اپنا کاروبار کررہا ہو، اور نیت یہ ہو کہ وہ اپنے لئے اور اپنے گھر والوں کیلئے رزق حلال کما رہا ہے، تو اس کا کمانا عبادت ہے۔ اگر وہ پڑھائی کررہا ہو اس نیت سے کہ آگے جا کر وہ اس کے اور دوسروں کے کام آئے اور اس سلسلے میں وہ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی سے بھی بچا رہے تو وہ اللہ کی عبادت کررہا ہے۔ اگر وہ اپنے گھر میں ہو اور اپنے گھر والوں کے حقوق کی ادائیگی کررہا ہو تو وہ اللہ کی عبادت کررہا ہے۔  البتہ چونکہ ہم پر پہلا اور آخری حق اللہ کا ہے، لہٰذا اگر ہمیں کبھی ایسی صورت ِ حال پیش آئے جس میں ایک طرف اللہ کی خوشنودی ہو اور دوسری طرف اس کی ناراضگی، تو ہم ہمیشہ اللہ کی خوشنودی پر ہی چلیں گے۔
  دوسری طرف اجتماعی سطح پر ہمارے بارے میں یہ فرمایا گیا: ’’اب دنیا میں وہ بہتر گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لئے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ (آل عمران:۱۱۰)
 بحیثیت امت ہمارا فرض ہے کہ ہم حق کو قائم کریں اور باطل کو مٹائیں۔ اس کی ابتداء ہم سب سے پہلےاپنی ذات سے کرتے ہیں، پھر اپنے گھر کی طرف بڑھتے ہیں اور اس کے بعد جہاں تک ہمارا دائرۂ اثر جاسکے۔ ایک مسلمان کی زندگی دنیائے فانی کی اشیاء کے ساتھ بندھی نہیں ہوتی ہے بلکہ وہ اپنے رب کی محبت میں اور جنت پانے کے لئے جیتا ہے۔ پھر جب اس دنیا میں اپنی مدت پوری کرکے وہ آخرت کی طرف منتقل ہوجائے گا تو وہ جنت میں بیٹھ کر اپنی پچھلی زندگی کو اس کی تمام راحت اور غم سمیت یاد کرکے کہے گا:
 ’’وہ کہیں گے: بیشک ہم اس سے پہلے اپنے گھروں میں (عذابِ الٰہی سے) ڈرتے رہتے تھے، پس اﷲ نے ہم پر احسان فرما دیا اور ہمیں نارِ جہنّم کے عذاب سے بچا لیا، بیشک ہم پہلے سے ہی اُس کی عبادت کیا کرتے تھے، بیشک وہ احسان فرمانے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے۔‘‘
 (الطور: ۲۶؍تا۲۸)
 انسان کو اللہ تعالیٰ کا درست تصور حاصل ہوجائے تو اس کو بے حد سکون اور اطمینان ملتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی کھویا  ہوا جگری دوست دوبارہ مل گیا ہو۔ مختلف مذاہب کے الگ تصورِ خدا رہے جو فرق رکھنے کے باوجود کچھ باتوں میں مماثلت بھی رکھتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن نے خدا کے بارے میں کس طرح کا تصور پیش کیا ہے؟
 قرآن ہمارا تعارف اللہ تعالیٰ سے کرواتا ہے، ایک ایسی ذات جو اپنی ہر مخلوق سے گہری دلچسپی رکھتی ہے۔ وہ محض ہمارا خالق نہیں ہے بلکہ وہ ہماری پرورش بھی کرتا ہے اور ہمیں ہدایت بھی دیتا ہے: ’’کس نے (ہر چیز کو) پیدا کیا پھر اسے (جملہ تقاضوں کی تکمیل کے ساتھ) درست توازن دیا، اور جس نے (ہر ہر چیز کے لئے) قانون مقرر کیا پھر (اسے اپنے اپنے نظام کے مطابق رہنے اور چلنے کا) راستہ بتایا۔‘‘  (الاعلیٰ:۲۔۳) جب اس نے اپنی مخلوق کو اس دنیا میں بھیجا تب انہیں مختلف صلاحیتوں اور قابلیتوں سے نواز کر بھیجا۔ البتہ اس کے  ساتھ ان کو تسلی بھی دی کہ وہ انہیں کبھی بے یار و مددگار  بھٹکنے  کے لئے نہیں چھوڑے گا بلکہ وہ ان کی رہنمائی کے لئے اپنے پیغمبروں اور کتابوں کو بھیجتا رہے گا تاکہ وہ انہیں سکھائیں کہ جو قوتیں اور صلاحیتیں ان کے پاس ہیں انہیں کس طرح استعمال کیا جائے: ’’ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت پہنچے تو جو بھی میری ہدایت کی پیروی کرے گا، نہ ان پر کوئی خوف (طاری) ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘ (البقرہ:۳۸)  وہ چاہتا ہے کہ ہم دنیا اور آخرت  میں سکون اور سلامتی کے ساتھ رہیں: ’’اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔‘‘  (یونس:۲۵)
 چاہے ہمارے انفرادی درجہ کے معاملات ہوں یا اجتماعی، اللہ تعالیٰ سب میں دلچسپی رکھتے ہیں اور پوری محبت کے ساتھ اپنے بندوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ پس قرآن میں ہم اللہ تعالیٰ  کو تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق مسائل کو اللہ کی قدرت کاملہ سے حل ہوتا ہوا دیکھتے ہیں جیسے حکومت، عدالت، صلح اور جنگ، میراث (النساء: ۱۱۔۱۲)، رضاعی رشتے، محفل کے آداب (المجادلہ: ۸۔۱۱) ، معاشی معاملات کے اصول اور شوہر اور بیوی کی آپس کی محبت  قائم رکھنے کے طریقے (النساء: ۱۹)، قرآن  پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا کوئی بے لوث دوست، کوئی شفیق استاد یا ایک مشفق والد ہم سے مخاطب ہے۔ 
 قرآن میں ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو متحد رہنے پر ابھارتا ہے اور تفرقہ میں پڑنے سے منع کرتا ہے (آل عمران:۱۰۳)۔ اس کو یہ فکر رہتی ہے کہ کہیں اس کے بندوں میں ظلم اور فحاشی نہ پھیل جائے۔ وہ ہمارے ازلی دشمن شیطان سے ہمیں متنبہ کرتا ہے اور اس سے، اس کے ساتھیوں سے اور ان کی چالوں سے بچنے کی تاکید کرتا ہے۔ اللہ ہم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کے واقعات بھی ہمیں سناتا ہے تاکہ ہمارے دل مضبوط ہوں اور ہماری ہمت افزائی ہو۔ بعض اوقات وہ پیار بھرے انداز میں ٹوکتا اور بعض اوقات سرزنش بھی کرتا ہے: ’’ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے اس (بہتان) کو سنا تھا تو مومن مرد اور مومن عورتیں اپنوں کے بارے میں نیک گمان کر لیتے اور (یہ) کہہ دیتے کہ یہ صریح بہتان ہے۔‘‘ (النور:۱۲) وہ ہماری کوتاہیوں کا تجزیہ کرتا ہے اور جہاں ضرورت ہو ہماری اصلاح کرتا ہے۔ (آل عمران:۱۵۲)۔ قرآن کریم ایسے ربّ جلیل سے ہمارا تعارف کرواتا ہے جو ہر چیزپر قدرت رکھتا ہے اور جس کے لئے کچھ ناممکن نہیں۔ زمین اور آسمان کے خزانے اس کے ہاتھ میں ہیں ۔ مگر سب سے زیادہ طاقتور ہونے کے ساتھ وہ سب سے زیادہ حکمت اور دانائی والا بھی ہے۔ (النساء: ۱۵۸) ہم دنیا میں اپنے اردگرد مستقل تبدیلیاں ہوتے دیکھتے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں کبھی خوف اور پریشانی بھی لاحق ہوجاتی ہے لیکن قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اول تو ہر چیز اس کی اجازت سے ہی ہوتی ہے اور دوم یہ کہ حالات کبھی ایک جیسے نہیں رہتے: ’’اور یہ دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں، اور یہ (گردشِ ا یام) اس لئے ہے کہ اللہ اہلِ ایمان کی پہچان کرا دے۔‘‘  (آل عمران:۱۴۰)
 قرآن مجید میں  اللہ اپنے بندوں کو ترغیب دلاتا ہے کہ وہ ہمیشہ حق کے لئے کھڑے ہوں اور باطل کا کبھی ساتھ نہ دیں۔ پھر جب اس کے بندے واقعی حق اور باطل کی کشمکش میں اترتے ہیں تو وہ اپنے بندوں کو حوصلہ دلاتا ہے کہ وہ ان کے ساتھ ہے۔ (طٰہٰ:۴۶)
 قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ کی ذات سب سے عظیم ہے مگر اس کی کوئی بھی مخلوق چاہے کتنی ہی چھوٹی اور غیرمعروف ہو، کبھی اس کی نظر سے اوجھل نہیں رہتی۔ وہ ہمیشہ ہر ایک کی بات کو سننے کے لئے موجود ہوتا ہے: ’’بیشک میرا رب قریب ہے دعائیں قبول فرمانے والا ہے۔‘‘ (ہود:۶۱)
 یہ ہے وہ تصور خدا جو انسان کو اپنے رب کی محبت اور اس پر فخر دلاتا ہے۔ ایسا تصور ِ خدا مسلمان کو وہ ہمت اور عزم دیتا ہے کہ وہ اپنے رب کے لئے سینہ تان کر کھڑا ہو ، اس کی  خاطر قربانیاں دے اور پورے اعتماد کے ساتھ کہے: ’’اور ہمیں کیا ہوا ہے کہ خدا پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں)  داخل کرے گا ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK