Updated: May 12, 2026, 6:13 PM IST
| Mumbai
میرا نائر نے اپنی نئی فلم ’’امری‘‘ کی پہلی جھلک جاری کر دی ہے، جو معروف مصور امریتا شیر گل کی زندگی اور فن سے متاثر ہے۔ فلم میں انجلی شیوا رمن امریتا شیر گل کا مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں جبکہ ایملی واٹسن، جے دیپ اہلاوت، جم ساربھ اور انجان واسن بھی اہم کرداروں میں شامل ہیں۔ فلم ہنگری، فرانس اور ہندوستان کے پس منظر میں امریتا شیر گل کی فنکارانہ اور ذاتی جدوجہد کو پیش کرے گی۔
میرا نائر نے اپنی آنے والی فلم ’’امری‘‘ کی پہلی جھلک جاری کرتے ہوئے جدید ہندوستانی مصوری کی عظیم شخصیت امریتا شیر گل کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ یہ فلم امریتا شیر گل کی زندگی، ان کے فن، ان کی شناخت کی تلاش اور ایک عورت اور فنکار کے طور پر ان کی جدوجہد کو بڑی اسکرین پر پیش کرے گی۔ فلم میں انجلی شیوا رمن مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں، جبکہ بین الاقوامی اور ہندوستانی اداکاروں کی ایک مضبوط کاسٹ بھی شامل ہے۔ ایملی واٹسن امریتا کی والدہ میری اینٹونیٹ گوٹسمین کا کردار ادا کریں گی، جبکہ جے دیپ اہلاوت ان کے والد عمراؤ سنگھ شیر گل کے روپ میں نظر آئیں گے۔ اس کے علاوہ جم ساربھ اور انجنا واسن اور دیگر فنکار بھی فلم کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’میں نے پیار کیا‘‘ میں سلمان خان سے زیادہ معاوضہ ملا تھا: بھاگیہ شری
فلم کے سازوں کے مطابق ’’امری‘‘ کی کہانی ۲۰؍ ویں صدی کے اوائل میں ہنگری، فرانس اور ہندوستان کے مختلف مقامات پر سفر کرتی ہے، جہاں امریتا شیر گل کی شخصیت اور فنکارانہ وژن نے شکل اختیار کی۔ میرا نائر نے ڈیڈ لائن کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ امریتا شیر گل کا فن برسوں سے ان کے سنیما کو متاثر کرتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’گزشتہ کئی دہائیوں میں میں نے جو بھی فلم بنائی، اس میں کہیں نہ کہیں امریتا شیر گل کے فن کی جھلک موجود ہے۔ اس نے مجھے دیکھنے کا ایک نیا زاویہ دیا۔‘‘ نائر کے مطابق، امریتا شیر گل نے یورپی فنی تربیت کو ہندوستانی روح کے ساتھ اس انداز میں جوڑا جو اس سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔
فلم میں امریتا شیر گل کے اس سفر کو بھی دکھایا جائے گا جب وہ پیرس کی معروف اکیڈمی Académie des Beaux-Arts میں داخلہ لینے والی کم عمر ترین طالبات میں شامل ہوئیں۔ یورپ میں تعلیم حاصل کرنے کے باوجود، امریتا نے اپنی مصوری میں ہندوستانی عوام، دیہات، عورتوں اور روزمرہ زندگی کو مرکزی موضوع بنایا، جس نے انہیں جدید ہندوستانی آرٹ کی سب سے منفرد آوازوں میں شامل کر دیا۔ فلم سازوں کے مطابق، ’’امری‘‘ صرف ایک بایوپک نہیں بلکہ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جو اپنی شناخت، اپنی آزادی اور اپنی بصری زبان تخلیق کرنے کے لیے سماجی روایات سے ٹکراتی ہے۔فلم کی شوٹنگ ہندوستان اور یورپ کے مختلف مقامات پر مکمل کی جا چکی ہے اور پروڈکشن کا مرحلہ حال ہی میں ختم ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اجے دیوگن کی ’’درشیم ۳‘‘ کا ہندی ورژن ملیالم فلم سے مختلف ہوگا: ابھیشیک پاٹھک
اس کے ساتھ ہی فلم سازوں نے اعلان کیا ہے کہ ۲۰۲۷ء میں دنیا بھر میں امریتا شیر گل کے فن پاروں کی بڑی نمائشیں بھی منعقد کی جائیں گی۔ یہ نمائشیں پیرس سے شروع ہو کر لاس اینجلس، دوحہ اور نئی دہلی تک جائیں گی، جبکہ نئی دہلی میں ایک مستقل نمائش قائم کرنے کا بھی منصوبہ بنایا گیا ہے۔ میرا نائر نے فلم کی کہانی کلارا روئیر کے ساتھ مل کر تحریر کی ہے جبکہ اس پروجیکٹ کے پروڈکشن میں کئی بین الاقوامی ادارے اور آرٹ پلیٹ فارمز شامل ہیں۔ فلمی حلقوں میں ’’امری‘‘ کو پہلے ہی ایک اہم بین الاقوامی آرٹ ڈرامہ پروجیکٹ قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ یہ ہندوستان کی ایک ایسی فنکار شخصیت کو نئی نسل کے سامنے متعارف کرائے گی جسے عالمی سطح پر غیر معمولی مقام حاصل ہے۔