Updated: May 12, 2026, 8:08 PM IST
| Indore
مسلم فریق نے اے ایس آئی پر ”جانبدارانہ“ رپورٹ تیار کرنے کا الزام لگایا۔ ویلفیئر سوسائٹی کی جانب سے داخل کئے گئے اعتراضات کے مطابق، سروے میں بار بار ”بھوج شالہ مندر“ کی اصطلاح استعمال کی گئی، حالانکہ ایسے کسی مندر کے وجود کا کوئی حتمی تاریخی ثبوت موجود نہیں ہے۔
کمال مولا مسجد۔ تصویر: ایکس
بھوج شالہ-کمال مولا مسجد کمپلیکس سے جڑے تنازع میں مسلم فریق نے پیر کے دن مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے اندور بنچ کے سامنے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کی تحقیقاتی رپورٹ پر سوالات اٹھائے۔ مولانا کمال الدین ویلفیئر سوسائٹی کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے سینئر ایڈووکیٹ سلمان خورشید نے جسٹس وجے کمار شکلا اور جسٹس آلوک اوستھی کی بنچ کے سامنے دلیل دی کہ اس بات کا کوئی براہِ راست ثبوت نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ مسجد سے پہلے متنازع جگہ پر کوئی مندر موجود تھا۔ واضح رہے کہ ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ بھوج شالہ اصل میں دیوی سرسوتی کا مندر تھا، جبکہ مسلم فریق کا موقف ہے کہ یہاں ہمیشہ سے کمال مولا مسجد قائم رہی ہے۔
خورشید نے دلیل دی کہ ہندو گروپس کی جانب سے دائر کردہ پٹیشنز میں بنیادی طور پر اے ایس آئی کے ۲۰۰۳ء کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا تھا جو وہاں عبادت کے امور کو کنٹرول کرتا ہے، پٹیشنز میں ملکیت یا ٹائٹل کا مطالبہ نہیں کیا گیا تھا۔ خورشید نے مزید کہا کہ ”یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ ٹائٹل (ملکیت) قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور محض آرٹیکل ۲۵ کے تحت حقوق کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے۔“
یہ بھی پڑھئے: اقلیتی اداروں کو ’آرٹی ای‘ کے تحت لانے کی عرضداشت
ایودھیا فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے خورشید نے دلیل دی کہ رام جنم بھومی کیس میں ’رام للا وراجمان‘ ایک قانونی فریق تھے، جبکہ بھوج شالہ معاملے میں کسی بھی قانونی دیوتا (juristic deity) کو فریق نہیں بنایا گیا ہے۔ انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ اے ایس آئی کی رپورٹ، کتبے اور تاریخی مواد ایسا کوئی ”براہِ راست اور مخصوص ثبوت“ فراہم نہیں کرتے کہ مسجد کی تعمیر کیلئے کسی مندر کو منہدم کیا گیا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ ”زیادہ سے زیادہ یہ صرف نتائج اور ماضی کی من مانی تشریحات ہیں۔“
مسلم فریق نے اے ایس آئی پر ”جانبدارانہ“ رپورٹ تیار کرنے کا الزام بھی لگایا۔ ویلفیئر سوسائٹی کی جانب سے داخل کئے گئے اعتراضات کے مطابق، سروے میں بار بار ”بھوج شالہ مندر“ کی اصطلاح استعمال کی گئی، حالانکہ ایسے کسی مندر کے وجود کا کوئی حتمی تاریخی ثبوت موجود نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یوپی میں مدارس کی ’ای او ڈبلیو‘ جانچ کیخلاف سماعت ملتوی، دوبارہ نوٹس جاری
خورشید نے ہائی کورٹ کے حکم پر ۲۰۲۴ء میں کئے گئے اے ایس آئی سروے کے دوران کھدائی کے عمل پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تمام فریقین کو کھدائی کی مسلسل ویڈیو گرافی فراہم نہیں کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فراہم کردہ زیادہ تر کلپس ۴۵ سیکنڈ سے بھی کم دورانیے کے تھے۔
خورشید نے کھدائی کے دوران ملنے والے فن پاروں پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض فن پارے غیر معمولی طور پر صاف ستھری دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ وہ مبینہ طور پر صدیوں سے دفن تھیں۔ کھدائی میں ملی اشیاء کے قریب پلاسٹک کی بوتلوں اور جدید اشیاء کو دکھانے والی تصاویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خورشید نے توجہ دلائی کہ ”پلاسٹک ۱۳ ویں یا ۱۴ ویں صدی میں ایجاد نہیں ہوا تھا۔“
یہ بھی پڑھئے: اسکول میں’ لب پہ آتی ہے دُعا‘ پڑھانے پر ایف آئی آر، ۳؍ ٹیچر معطل
خورشید نے یہ الزام بھی لگایا کہ سروے کے دوران برآمد ہونے والے گوتم بدھ کے مجسمے کو اے ایس آئی رپورٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ کچھ ستون اور فن پارے باہر سے لا کر کمپلیکس کے اندر رکھے گئے ہو۔ مسلم فریق نے مزید دلیل دی کہ کتبوں پر درج ”سرسوتی سدن“ اور تعلیمی مراکز کے تذکرے سے لازمی طور پر کسی مندر کا وجود ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ ایسے حوالے تعلیمی یا ثقافتی اداروں کی نشاندہی بھی کرسکتے ہیں۔
اس کیس کی سماعت منگل کو بھی جاری رہے گی۔