تحقیق اور رُجحانات

Updated: January 10, 2021, 6:52 AM IST | Jameel Jalbi

چالیس سال پہلے تک ترتیب وتدوین متن کو وہ اہمیت حاصل نہیں تھی جو اب حاصل ہے

Research
ریسرچ

جیسے علوم سائنس میں تحقیق بنیادی اہمیت رکھتی ہے، اسی طرح ادب، شاعری اور تخلیق میں بھی تحقیق بنیادی اہمیت رکھتی ہے، اگر شاعر کو یہ معلوم ہے کہ اس کے اسلاف نے یہ کام کیسےکیا تھا تو وہ نہ صرف بہتر بلکہ زندہ رہنے والی شاعری کرسکے گا۔ جیسے عمارت بنانے سے پہلے عمارت کے پورے نقشے کی ضرورت ، اس کے مقصد، زمین جس پر وہ عمارت بنائی جارہی ہے، آب و ہوا، ماحول اور موجود سامان ِعمارت وغیرہ سے پوری طرح واقف ہونا ضروری ہے، اسی طرح تخلیق، تنقید اور علم و ادب کی ہر شاخ کو پورے طور پر پروان چڑھانے کے لئے تحقیق کا عمل ضروری ہے ۔ 
وہ ادیب، نقاد اور شاعر جو تحقیق سے دامن بچاتے ہیں، اسے بے ضرورت اور غیراہم سمجھتے ہیں یا بے خبری میں اپنی تخلیق و تحریر سے سرسری طور پر گزر جانا چاہتے ہیں ، علم و ادب کی دنیا میں ہرگز وہ کام نہیں کرسکتے جس کی وہ آرزو رکھتے ہیں۔ ہر بڑا شاعر، ناول نگار، افسانہ نویس، نقاد، فلسفی اور ہر بڑا سائنس داں تحقیق کے بغیر کوئی بڑا کام انجام نہیں دے سکتا۔ تحقیق جس استقلال، صبر، محنت اور توجہ کی طالب ہے، ہم اس سے اس لئے بھاگتے ہیں کہ ہمیں تو اب روٹی بھی پکی پکائی ہی اچھی لگتی ہے۔ تن آسانی تحقیق کی دشمن ہے، جو ہمارے خون میں اچھی طرح سرایت کرگئی ہے۔ ہماری زبان، ادب اور ثقافت و تاریخ کے لاتعداد مخطوطات جو بنیادی مآخد کا درجہ رکھتے ہیں، ملک سے باہر انگلستان کی انڈیا آفس لائبریری، برٹش میوزیم، آکسفورڈ اور فرانس وغیرہ میں پڑے ہوئے ہیں، جن تک رسائی اہل علم و ادب کے محدود مالی وسائل کی وجہ سے ممکن نہیں ہے۔ 
ایک وقت تھا جب مختلف مخطوطات کے بارے میں تعارفی تحقیقی مقالات لکھنے کا عام رواج تھا۔ یہ تعارف عام طور پر اسی مخطوطے تک محدود ہوتا تھا لیکن اب جدید رجحان یہ ہے کہ کسی قلمی کتاب کا تعارف کرانے کے لئے ضروری ہے کہ محقق ان سارے مخطوطات کی نشان دہی کرے جو مختلف کتب خانوں میں محفوظ ہیں اور یہ بھی بتائے کہ اس مخطوطے کا ذکر کن کن کتابوں میں کہاں کہاں آیا ہے ، مصنف کے بارے میں بھی معتبر ماخذ کے حوالے سے معلومات فراہم کرے۔ زبان کا مطالعہ کر کے ان اثرات کو بھی واضح کرے جو اس تصنیف میں ملتے ہیں۔ اس رجحان کے زیر اثر لسانیات و صوتیات کا علم بھی اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے ۔
چالیس سال پہلے تک ترتیب و تدوین متن کو وہ اہمیت حاصل نہیں تھی جو اب حاصل ہے۔ پہلے عام طور پر کسی ایک نسخے کو لے کر متن تیار کردیاجاتا تھا۔ اگر کوئی دوسرا نسخہ آسانی سے میسر آگیا تو پہلے نسخے کے مشکل مقامات کو اس کی مدد سے حل کرلیا اور اس کا حوالہ حواشی میں دے دیا لیکن اب تدوین متن سے پہلے مرتب کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس مخطوطے کے زیادہ سے زیادہ نسخے فراہم کرے اور پھر ان سب کی مدد سے مستند متن تیار کرے اور اختلافات و تعلیقات حواشی میں درج کردے ۔ یہ بہت محنت طلب کام ہے اور اسی لئے تدوین متن کی اہمیت روز بروز بڑھتی جارہی ہے ۔ 
اب یہ بات تسلیم کرلی گئی ہے کہ محقق کا بنیادی کام یہ ہے کہ وہ مختلف مصنفوں کی تصانیف کے ایسے مستند متن تیار کرے جو اغلاط و تحریف سے پاک ہوں، ساتھ ساتھ وہ اپنے ماخذ کی نشان دہی کرے اور حواشی بھی لکھے۔ مصنفوں اور ادب کے ادوار کے چھوٹے بڑے سب اور صحیح حالات مرتب کرے۔ علم کی ان شاخوں کو اپنی صلاحیت اور علم سے سیراب کرے جنہیں جدید اصطلاحوں میں کتابیات (Bibliography) تاریخ اور سلسلہ واقعات یعنی تقویم (Chronology) ابجدی اشاریہ (Concordance) اور لفظ شماری کہاجاتا ہے ۔ تاریخ ادب کی ان چھوٹی بڑی سب غلطیوں کی نشان دہی کرکے ان غلط فہمیوں کو دور کرے، جنہوں نے پڑھنے والوں کے ذہن میں جڑ پکڑ لی ہے ۔ 
 یہ بھی ضروری ہے کہ محقق دوسری زبانوں سے اپنی زبان میں مستند تراجم پیش کرے، ان پر نہ صرف حواشی لکھے بلکہ پڑھنے والوں کیلئے نئے ماخذ کی نشان دہی بھی کرے ۔ تحقیق و تدوین کے اصول و فن کے بارے میں کتابیں تصنیف کرے۔ مختلف کتابوں، مصنفوں اور واقعات کے زمانے اور سنین کا تعین کرے ۔ یہ وہ کام ہوگا جس پر نقاد صحیح تنقید کی بنیاد رکھے گا۔ ادبی تاریخ لکھنے کیلئے ان دونوں کے امتزاج کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ ادبی مورخ پر لازم ہے کہ اس میں تحقیق و تنقید کی یکساں صلاحیت ہو۔ جدید تحقیق میں معروضی انداز نظر اور کسی بات کو قبول کرنے سے پہلے اسے پوری طرح ٹھونک بجا کر دیکھنے کا صحت مند رجحان بھی بڑھ رہاہے۔ معتبر اور اصل مآخذ کی اہمیت بھی قائم ہورہی ہے لیکن جیسے طلوع آفتاب کے ساتھ دھوپ آہستہ آہستہ منڈیروں پر پھیلتی ہے اسی طرح یہ رجحان بھی اس طور پر نمایاں ہوا ہے کہ اہل تحقیق اس کی اہمیت کو تو دل سے مانتے ہیں لیکن جب خود کام کرتے ہیں تو سہل پسندی یا مزاج کی کاہلی کے باعث پوری طرح عمل نہیں کرپاتے۔ وقت کے ساتھ یہ رجحان بھی غالب آجائے گا اور وہ اس لئے کہ اصل تحقیق کا یہی صحیح اور واحد راستہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK