معاشی بحالی کی مدھم رفتار

Updated: March 26, 2021, 10:34 AM IST | Editorial

ملک کے مشہور اور ممتاز ماہر معاشیات ارون کمار نے جنوری میں کہا تھا کہ حکومت جس تیزی کے ساتھ دعوے کرتی ہے اُتنی تیزی سے تو معیشت آگے نہیں بڑھ رہی ہے۔

Indian Economy - Pic : INN
بھارتی معیشت ۔ تصویر : آئی این این

 ملک کے مشہور اور ممتاز ماہر معاشیات ارون کمار نے جنوری میں کہا تھا کہ حکومت جس تیزی کے ساتھ دعوے کرتی ہے اُتنی تیزی سے تو معیشت آگے نہیں بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ رواں مالی سال میں معیشت کے حجم میں ۲۵؍ فیصد کی تخفیف ہوگی کیونکہ جی ڈی پی میں جو کمی واقع ہوئی ہے اس نے بجٹ کے اندازوں کو بُری طرح لڑکھڑا دیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ سروس سیکٹر کے کئی بڑے شعبوں میں بحالی کی کیفیت پیدا نہیں ہوئی ہے۔ یہ باتیں انہوں نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے ذریعہ لئے گئے انٹرویو کے دوران کہی تھیں۔
 بڑی حد تک یہی کیفیت اب بھی ہے۔ اگر ارون کمار نے یہ انٹرویو دو ماہ پہلے نہ دیا ہوتا بلکہ آج دے رہے ہوتے تب بھی اُن کا مطمح نظر غالباً یہی ہوتا۔ یہ الگ بات کہ مرکزی وزراء اور افسران بڑی اُمیدیں جگا رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ معیشت تیزی سے پٹری پر لوَٹ رہی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حالات، ہمارے ان وزراء اور افسران کی اُمیدوں کے مطابق ہی بہتری کی سمت گامزن رہیں کیونکہ  اس میں ملک اور اس کے عوام کا فائدہ ہے مگر زمینی حالات اس کی نفی کرتے ہیں۔ 
 زمینی حقیقت یہ ہے کہ اپنی نوعیت کے سخت ترین لاک ڈاؤن کو عوام آج بھی بھگت رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن ہی کی وجہ سے پچھلے مالی سال کی آخری سہ ماہی میں جی ڈی میں ۲۴ء۴؍ فیصد کی گراوٹ آئی تھی۔ اپریل مئی (۲۰ء) میں تو سب کچھ بند تھا۔ معاشی سرگرمیاں بند، سرمایہ کاری مو قو ف، روزگار کے دروازے مقفل اور آمدنی بُری طرح متاثر۔ دوسری سہ ماہی میں بھی جی ڈی پی میں گراوٹ جاری رہی، یہ الگ بات کہ رفتار نسبتاً کم یا مدھم تھی۔
  تیسری سہ ماہی میں حالات کچھ بہتر ہوتے نظر آئے مگر جو گروتھ درج کی گئی وہ صفر اعشاریہ چار (۰ء۴) فیصد سے زیادہ نہیں تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ معاشی حالات پوری دُنیا کے خراب تھے چنانچہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے عالمی معاشی مندی کو ۱۹۳۰ء کی دہائی کے گریٹ ڈپریشن کے بعد سب سے بڑی مندی قرار دیا مگر دیگر ملکوں کے حالات اور ہمارے حالات میں فرق ہے۔ بہت سے ممالک کی آبادی کم اور وسائل زیادہ ہیں۔ہماری آبادی زیادہ ہے۔ وسائل کم نہیں ہیں مگر اتنے بھی نہیں ہیں کہ ہمارا شمار صف اول کے ملکوں میں ہوجائے۔ اس لئے ہمیں حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اُن سے فوری طور پر نمٹنے کی تیاری شروع کردینی چاہئے۔ مرکزی حکومت سے یہیں غلطی ہوئی۔ اس نے لاک ڈاؤن کے بعد پھر لاک ڈاؤن کے ذریعہ معیشت کے ہاتھ پاؤں باندھ دیئے۔ اگر ایک لاک ڈاؤن کے بعد دوسرے لاک ڈاؤن میں معاشی سرگرمیوں کو جاری کردیا گیا ہوتا، عوام میں اعتماد بڑھایا گیا ہوتا یعنی ان کا خوف کم کیا گیا ہوتا تو ممکن تھا کہ حالات اتنے خراب نہ ہوتے جتنے کے ہوئے۔ 
 فی الحال جبکہ دکانیں اور مارکیٹ کھلے ہیں، معاشی سرگرمیاں بظاہر جاری و ساری دکھائی دے رہی ہیں مگر تجارت پیشہ افراد اب بھی کاروبار سے مطمئن نہیں ہیں، خوش ہونا تو دور کی بات ہے۔حکومت کے دعوے اعدادوشمار کی بنیاد پر ہوتے ہیں ۔ اُن کی اپنی منطق اور طریق کار ہوتا ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ اعدادوشمار بہتر ہوئے ہیں تب بھی اس حقیقت سے شاید ہی کوئی انکار کرے کہ اعداد کا بہتر ہونا اور حالات کا بہتر ہونا دو الگ الگ باتیں ہیں۔ صَرف (کنزمپشن) کم ہے اور طلب (ڈیمانڈ) کم ۔ ایسے میں مارکیٹ کیسے اُٹھے گی یہ کہنا مشکل ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK